آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم


احساس کے انداز

اک چراغ اور بجھا ۔۔۔۔۔۔۔

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم  

تحریر ؛۔ جاویدایازخان

گذشتہ رو ز فیس بک کے ذریعےاطلاع ملی کہ عرصہ سے علیل میرے نہایت محترم اور شفیق بینکاری کے پہلے استاد  اور میرۓ پہلے بینک منیجر اپنے  ا للہ کے حضور  میں حاضر ہو چکے ہیں  تو افسوس کی لہر سی جسم میں دوڑ گئی  اور ماضی کی بےشمار یادوں نے مجھے گھیر لیا ۔انااللہ وانا علیہ راجعون ! کچھ لوگوں کا آپکی زندگی خصوصی کردار ہوتا ہے ۔اشرف صاحب میری  پیشہ وارانہ زندگی میں صرف استاد ہی نہ تھے بلکہ بےپناہ محبت کرنے والی شخصیت بھی تھے ۔ان کی  خوبصورت قد  کاٹھ  والی اور پروقار شخصیت میری ہی نہیں بلکہ پورے شہر کی مرکز نگاہ رہی  ہمیشہ لوگ اپنےادار وں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں لیکن انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ لوگ ان کی وجہ سے ان کے ادارےکو  جانتے تھے ۔انہیں چوہدری اشرف  ایم سی بی والا نہیں بلکہ ایم سی بی کو چوہدری اشرف والا بینک کہا جاتا تھا ۔بینک ان کی نہیں بلکہ ہمارےشہر میں وہ ادارے کی شناخت سمجھے جاتے تھے ۔"موت اس کی ہے کرۓ جس پہ زمانہ افسوس ! "آج ہمارے شہر کے ہزاروں لوگ ان کی جدائی سے سوگوار ہیں ۔کچھ شخصیتیں  اور ان کی کچھ یادیں کچھ باتیں نہ بھولنے والی ہوتی ہیں ۔اللہ ان کے درجات بلند فرماۓ آمین !  بےشک موت دنیا کی سب سے بڑی سچائی اورسب سے تلخ حقیقت ہے جسے قبول کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ہوتا۔

یہ مئی  ۱۹۷۸ کی ایک صبح تھی جب مجھے بینک کی اوچشریف برانچ کو جائن کرنا تھا ۔نئی نئی برانچ میں  منیجر کے علاوہ صرف ایک کیشیر ایک گارڈ  ہوتے تھے لیکن برانچ کی پر فارمنس کی وجہ سے مجھے بطور اسسٹنٹ وہاں تعینات کیا گیا تھا ۔برانچ میں پہلا دن تھا محمد ارشد مرحوم کیشیر  اور محمد نواز گارڈ مرحوم نے مجھےمنیجر صاحب کے سخت رویے اور کرخت لہجہ سے بہت ڈرا دیا تھا ۔جب ان کے سامنے پیش ہوا تو سب باتیں سچ ثابت ہوئیں ۔ہمیں بھی اپنی قابلیت پر بڑا ناز تھا تو وہ بھی بینک کے قابل ترین افسر شمار ہوتے تھے ۔کہنے لگے کچھ کلرکی کی سوج بوجھ بھی ہے میں نے کہا جی بہت ہے ۔ایک پیپر پن  اٹھا کر دی اور چند کاغذ کے واچر دیے کہ ان کو ذرا لف کرکے دکھاو ٔ میں نے ایک منٹ میں لف کر دیا تو کہنے لگے یار تمہیں کو کاغذ میں پن لگانی بھی نہیں آتی  بھلا اور کیا آتا ہوگا ؟ بڑا غصہ آیا کاغذ میں پن لگانا بھلا کوئی مشکل کام ہے ایک طرف سے چبھو کر دوسری جانب سے باہر نکال دو تو کہنے لگے یاد رکھو ہر چھوٹے سے چھوٹا کام بھی سیکھنے سے آتا ہے ۔تم نے جو پن لگائی ہے کاغذ تو لف ہوگیا لیکن پن کا نوکیلا سرا دوسری جانب سے باہر نکلا ہوا  تھا جو کسی کو زخمی کر سکتا ہے اس سرے کو کاغذ کے نیچے کردو تو یہ خطرناک بھی نہیں رہے گا اورخوبصورت بھی دکھائی دۓ گا ۔میں نے ایسا کیا تو احساس ہوا کہ واقعی سیکھنےسے ہی کام آتا ہے ۔چند دن تو  کام سیکھنے کی سختیاں اور باتیں برداشت کیں لیکن پھر مجھے ان کی قابلیت اور انہیں میری صلاحیتوں کا احساس ہونے لگا ۔میری دلیری ،ہمت اور انتھک محنت کے گرویدہ ہوتے چلے گئے ۔میرے ادب و احترام  اور دیانت داری نے رفتہ رفتہ ان کے دل میں  بڑی جگہ بنا لی ۔

وہ روز مجھے اپنے ہمراہ احمدپور سے اوچشریف  لاتے اور تربیت اس طرح سے کرتے جیسے بچوں کی کی جاتی ہے ۔ان کے گھر میں ان کے والد اور ولدہ تو گویا میرے گرویدہ ہو گئے  ان کی والدہ کبھی بھی خاطر مدارت کے بغیر گھر سے نہ جانے دیتیں تھیں ان کی بیگم اور چھوٹے چھوٹے بچے مجھ سے سگے بھائی کی طرح مانوس ہو گئے چھ ماہ بعد تو میں ان کے گھر کا اہم ترین فرد سمجھا جانے لگا ۔میرا ٹرانسفر احمدپور برانچ میں ہوا تو کچھ عرصہ بعد وہ بھی ٹرانسفر کرا کر احمدپور آگئے ۔یہی وہ دور تھا جب میں نے بینکنگ  اور عام زندگی کے ایسے ایسے گر ان سے سیکھے جن کی بدولت کامیابیوں کے دروازۓ کھلتے چلے گئے ۔وہ زبان اور طبیعت کی سخت ضرور تھے لیکن دل کے بے حد محبت کرنے والے تھے ۔ان کی سب سے بڑی ہدایت یہ تھی کہ ہمیشہ سب کی خوشی غمی میں شرکت کرو   شادی بےشک چھوڑ دو مگر جنازہ ہرگز نہیں چھوڑنا ۔سکھ کی گھڑی تو چھوڑی جاسکتی ہے دکھ کی گھڑی میں ساتھ کھڑا ہونا ضروری ہے ۔انہوں نے احمد پو شرقیہ میں بینکنگ کو ایک جدید اور منفرد  ٹرینڈ دیا اور جلد ہی وہ شہر کے ہر دلعزیز بینکار بن گئے ۔وہ مجھے ہر جگہ اپنے ساتھ ساتھ رکھتے  اور جن لوگوں سے ملتے میرا تعارف کرا دیتے ۔ اپنا سرکاری موٹر سایکل مجھے سونپ دیا  اور بینک ڈیپازٹ کے لیے مجھے اپنی جانب سے ایک ایک چک ،دیہات اور گلی محلے میں بھجواتےجس سے میری خود اعتمادی میں اسقدر اضافہ ہوا کہ لوگ ان کی نسبت سے مجھے جاننے لگے ۔میری ذات پر ان کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ ذاتی معاملات میں بھی مشورہ کرتے  اور ہر پیشہ وارانہ مشن یا کام کے لیے اپنی جگہ مجھے بھیج دیتے ۔اس زمانے میں واپڈا سکارپ کا بہت بڑا اکاونٹ ان کی رہنمائی میں میں نے ہی حاصل کیا تھا ۔بڑے سے بڑے افسر سے ملنا  اور تعلقات رکھنا میری ذمہ داری ہوا کرتی تھی ۔ اس دور میں احمدپور برانچ نے حج درخواستوں میں پورے پاکستان میں پہلی پوزیشن حاصل کی تو  برانچ میں حج  درخواستوں کا انچارج میں تھا اس وقت کے صدر اجمل خلیل صاحب  پریذیڈنٹ ایوارڈ لیکر احمدپور آۓ اور انعام کی رقم کے ساتھ ساتھ ایک ریسٹ واچ بھی دی جو انہوں نے خود رکھنے کی بجاۓ مجھے دے دی کہ یہ تمہاری کاوشوں کا نتیجہ ہے ۔یہی وہ وقت تھا جب اس برانچ کی کارکردگی کا طوطی پورے پاکستان میں  بول رہا تھا ۔اگر میں یہ کہوں کہ  وہ پیشہ وارانہ تربیت کے بے مثال استاد  اور دانشمند  بزرگ تھے  اور میں نے ان سے وہ کچھ سیکھا جو ان کے علاوہ کوئی نہیں بتا سکتا تھا ۔وہ کہتے تھے جاوید یاد رکھنا تمہیں ہرطرح کے افسراں کے ساتھ کام کرنا پڑے گا  ان کی اچھی اچھی عادتیں اپنا لینا اور برائیوں سے چشم پوشی  اور کنارہ کشی کرنا تمہاری ذات میں تمہارے استادوں کی خوبیاں دکھائی دینی چاہیں  برائیاں  ہرگز نہیں ۔ہم نے ایک ساتھ ریجنل آفس  بہاولپور میں بھی کام کیا اور ہمیشہ ان کا رویہ  مشفقانہ پایا ۔رئیٹائرمنٹ کے بعد  میری ترقی اور ان کی محبت مزید بڑھنے لگی  ۔میں جہاں پوسٹ ہوتا وہ ضرور میری حوصلہ افزائی کرنے تشریف لاتے ۔کبھی میرے سر پر ہاتھ پھیرتے تو کبھی ماتھا چومتے  اور  مزید ترقی کی دعا دیتے ۔جب میں وائس پذیڈنٹ بنا تو خصوصی میرۓ دفتر تشریف لاۓ اور کہنے لگے میں یہ  دیکھنے آیا ہوں کہ میرا شاگرد اتنا بڑا  افسر  ہو کر کیسا لگتا ہے ؟  پھر  ہنس کر کہنے لگے  پتا ہے کہ تم نے مجھ سے میرا اعزاز چھین لیا ہے ؟ میں نے پوچھ سر ! وہ کیسے تو کہنے لگے پہلے  شہر کے لوگ ایم سی بی کو چوہدری اشرف والا بنک کہتے تھے لیکن اب  اسے لوگ جاوید والا بنک کہتے ہیں تو  میں بھی ہنس پڑا کہ سر مجھے لوگ چوہدری اشرف والا جاوید کہتے ہیں تو مجھے گلے لگا کیا اور کہنے لگے تمہارا استاد ہونا  اور اس بارے میں لوگوں کو بتانے میں مجھے  بڑا فخر محسوس ہوتا ہے ۔بےشک میں نے ان کی بےشمار خوبیوں  اور اچھائیاں کو اپنایا  اور ہمیشہ ان سے رہنمائی طلب کی ۔انہوں نے میرے لیے اور میں نے ان کے لیے ہمیشہ اپنے آپ کو وقف رکھا ۔

میرۓ والد ین  کی وفات پر سب سے زیادہ آنسو ان کی آنکھوں میں  آمڈ آۓ  تھے ۔جب تک اباجی زندہ رہے  ان سے پیروں کی طرح عقیدت رکھتے تھے ۔وہ ان سے ملنے بعض اوقات تو پیدل  ڈیرہ نواب صاحب تک آجاتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں صرف ان کے چہرے کی زیارت کرنے کو آتا ہوں ممکن ہے کہ ان کی نظر کرم سے میری بخشش ہو جاۓ ۔انہوں نے آخری دم تک میری ذات اور میرے گھرانے سے تعلق قائم رکھا ۔میرے استاد ماسٹر شاہ محمد اور میرے دوست  ڈکٹر مظفر خان ،ڈاکٹر شبیر احمد اور شیخ صبح صادق کی موت کا افسوس ان کے گھروالوں سے کرنے کی بجاۓ مجھ سے کرنے آےتھے ۔آخری مرتبہ اپنےبیٹے اور بیٹی کے ہمراہ سرکلر روڈ برانچ میں تشریف لاۓ  اور میرا  تعارف  یوں کرایا کہ یہ جاوید ہے یہ بھی میرا بیٹا  ہی ہے اور تمہارا بھائی ہے مجھے تم سے بھی زیادہ اس پر فخر ہے کہ اس نے مجھ سے ہر اچھی چیز نہ صرف سیکھی بلکہ عمل کرکے بھی دکھایا ۔وہ آج ہم میں نہیں ہیں لیکن ہماری یادوں ،ہمارۓ خوابوں اور ہماری باتوں میں وہ آج بھی زندہ ہیں ۔ 

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید