جبری مذہب تبدیلی ایک المیہ
جبری مزہب تبدیلی ایک المیہ ت تحریر شیخ عزیزالرحمان وہ مجھے گولی مارنے کے لیے بندوق لایا تھا،'' نیہا نے کہا، یہ فقرہ جبری مزھب تبدیلی کا شکار نیہا، اتنی دھیمی آواز میں بتاتی ہے کہ وہ کبھی کبھار ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے چہرے اور سر کے گرد نیلے اسکارف کو مضبوطی سے لپیٹ کر غائب ہو جاتی ہے۔ نیہا کا شوہر اب جیل میں ہے جو کہ کم عمری کی شادی کے لیے عصمت دری کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، لیکن وہ خوفزدہ ہو کر روپوش ہے، جب سکیورٹی گارڈز نے عدالت میں اس کے بھائی سے پستول ضبط کر لیا۔ جسکا الزام ہے کہ اسے جبری طور پر مزہب تبدیل کرنے پر مجبورکیا گیا۔نیہا ان تقریباً 1,000 لڑکیوں میں سے ایک ہے ( ہیومن رایٹس كمشن آف پاكستان اور (ECSPE org )جو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں پاکستان میں ہر سال اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، زیادہ تر قانونی عمر اور غیر رضامندی سے کم عمر کی شادیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے روزنامہ جنگ كی رپورٹ كے مطابقانسانی حقوق کی تنظیموں کاالزام ہے کہ پاکستان میں ہرسال ایک ہزار غیرمسلم لڑکیوں کا جبری مذہب تبدیل کرکے ان کی شادیا...