Posts

جبری مذہب تبدیلی ایک المیہ

Image
جبری مزہب تبدیلی ایک المیہ ت  تحریر شیخ  عزیزالرحمان وہ مجھے گولی مارنے کے لیے بندوق لایا تھا،'' نیہا نے کہا، یہ فقرہ جبری مزھب تبدیلی کا شکار نیہا، اتنی دھیمی آواز میں بتاتی ہے کہ وہ کبھی کبھار ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے چہرے اور سر کے گرد نیلے اسکارف کو مضبوطی سے لپیٹ کر غائب ہو جاتی ہے۔ نیہا کا شوہر اب جیل میں ہے جو کہ کم عمری کی شادی کے لیے عصمت دری کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، لیکن وہ خوفزدہ ہو کر روپوش ہے، جب سکیورٹی گارڈز نے عدالت میں اس کے بھائی سے پستول ضبط کر لیا۔  جسکا الزام ہے کہ  اسے  جبری طور پر  مزہب تبدیل کرنے پر مجبورکیا گیا۔نیہا ان تقریباً 1,000 لڑکیوں میں سے ایک ہے ( ہیومن  رایٹس كمشن آف پاكستان اور  (ECSPE org )جو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں پاکستان میں ہر سال اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، زیادہ تر قانونی عمر اور غیر رضامندی سے کم عمر کی شادیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے روزنامہ جنگ كی رپورٹ كے مطابقانسانی حقوق کی تنظیموں کاالزام ہے کہ پاکستان میں ہرسال ایک ہزار غیرمسلم لڑکیوں کا جبری مذہب تبدیل کرکے ان کی شادیا...

میڈیا کلب سماجی اور صحافتی خدمات کا مشعل بردار

Image
ٓاحمد پور شرقیہ میڈیا کلب :سماجی اور صحافتی خدمات کا مشعل بردار تحریر: محمد اقبال عباسی  صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، لیکن یہ ستون اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب مقامی سطح پر کام کرنے والے صحافی ایمانداری اور دیانتداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔ اگر ہم جنوبی پنجاب کے تاریخی اور تہذیبی شہر احمدپور شرقیہ کی بات کریں، تو وہاں "میڈیا کلب احمدپور شرقیہ" نے صحافت کو محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عوامی خدمت اور علاقائی ترقی کا ذریعہ بنایا ہے۔احمدپور شرقیہ، جو کہ نوابوں کا شہر ہے اور اپنی تاریخی اہمیت ( صادق گڑھ پیلس اور قلعہ ڈیراور) کی وجہ سے جانا جاتا ہے، اپنے دامن میں بہت سے مسائل بھی سموئے ہوئے ہے۔ ان مسائل کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے میں میڈیا کلب کا کردار کلیدی رہا ہے۔میڈیا کلب احمدپور شرقیہ کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے عام آدمی کی آواز کو دبنے نہیں دیا۔ چاہے وہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ادویات کی کمی کا معاملہ ہو، شہر میں سیوریج کے دیرینہ مسائل ہوں، یا ٹوٹی ہوئی سڑکوں کا نوحہ، میڈیا کلب کے ممبران نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کی نشاندہی ک...

اوچشریف ۔تاریخی و روحانی مرکز

Image
اُچ شریف: ایک تاریخی اور روحانی مرکز۔رجبی کے موقع پر خاندان بخاریہ کے سجادہ نشین نے ہزاروں افراد کو نوادرات کی زیارت کرائی  تحریر شیخ عزیز الرحمن  اُوچ شریف ضلع بہاولپور، کا ایک انتہائی قدیم اور روحانی مقام ہے، جسے “مدینۃ الاولیاء” یعنی اولیاء کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر بہاولپور سے تقریباً 73 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور پانچ دریاؤں کے سنگم ہیڈ پنجند کے قریب آباد ہے قدیم تاریخ اُوچ شریف کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ تاریخی روایات کے مطابق مختلف نام رکھے گئے، جیسے ہودچ، ہوچ، دیوگڑھ اور پھر اُوچ۔  مختلف دور میں یہ اہم تجارتی، سیاسی اور ثقافتی مرکز رہا۔  اس خطے میں اسلام کی تعلیمات کا آغاز 980ء کے لگ بھگ ہوا جب مولانا صفی الدین غاذروئی نے اسلامی درسگاہ قائم کی۔  مغل، غزنوی اور دہلی سلطنت کے حکمرانی ادوار میں یہ شہر علمی و روحانی مرکز رہا۔   اُوچ شریف اور اولیائے کرام۔لازم اور ملزوم عمل ہے  اُوچ شریف صوفی ازم اور روحانیت کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہاں ہزاروں اولیاء کرام نے اسلام کی خدمت کی اور روحانی رہبری عطا کی۔مشہور صوفی بزرگ 1. سی...

بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک اور بیٹی ہار گئی

Image
 صرف گولی مارنے کی اجازت ہے 🔥 بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک اور بیٹی ہار گئی ۔پگڑی غیرت کی جیت گئی  تحریر شیخ عزیز الرحمن ۔ ڈیڑھ سال پہلے محبت کی بنیاد پر شادی کرنے والے شیتل (24 سالہ اور زرک (32 سالہ)کو قبیلے والوں نے "دعوت" دے کر بلایا۔ مگر یہ کھانے کی دعوت نہیں، بلکہ قتل کی رسم تھی۔ دونوں کو ایک ویران میدان میں لے جایا گیا، جہاں 19 مسلح مرد کھڑے تھے۔ ان میں سے پانچ کے ہاتھوں میں لوڈڈ گنز تھیں۔   جبکہ  شیتل، کے ہاتھ میں قرآنِ پاک تھا، بے خوف و بے دھڑک قاتلوں کے سامنے چلتی گئی۔ نہ اس کے قدم ڈگمگائے، نہ آنکھوں میں خوف تھا، نہ لبوں پر کوئی التجا۔ اس کی خاموشی میں اتنا طاقتور احتجاج تھا کہ وہ تمام چیخیں جنہیں کبھی آواز نہ مل سکی، اس کے سکوت میں گونج رہی تھیں۔   پھر ایک نہیں، نو گولیاں اس کے بدن میں اتاری گئیں۔   اس کے بعد زرک کودگنی سزا ملی۔   صرف اس جرم میں کہ انہوں نےاپنی مرضی سے شادی کی تھی۔ اور"غیرت" کے نام پر قتل کرنے والوں کو موت سے کم پر سکون نہیں ملتا۔ کیا یہی ہے غیرت ہے کیا یہی ہے روایت؟ہیں کیا یہی ہے انصاف؟ہے  ا...

میں مقبرہ بی بی جیوندی ہوں🌃تحریر ڈاکٹر تنویر مدنی

Image
 میں بی بی جیوندی کا مقبرہ ہوں از: ڈاکٹر تنویر مدنی  06/06/2025ء جمعہ بوقت 12.05PM  سنو!  اوچ والو!  میں بی بی جیوندی کا مقبرہ ہوں۔  کبھی وقت میرے قدموں پر نثار تھا۔ میں عہدِ ماضی کی وہ عظیم علامت ہوں جو روحانی رفعتوں، تہذیبی وقار، اور فنِ تعمیر کی معراج کی جیتی جاگتی گواہی تھی۔ میرے وجود کے گرد جب چاندنی اترتی تھی، تو شبنمی ہوا میرے گنبدوں سے ٹکرا کر گویا کوئی نعتیہ آہنگ چھیڑ دیتی تھی۔ میں وہ مزار ہوں جس کے صحن میں اللہ والوں کے سجدے گونجتے رہے، جہاں عقیدت مند آہستہ قدم رکھتے کہ کہیں میری خاموشی ٹوٹ نہ جائے۔ میرے درودیوار میں عشق کی ٹھنڈی آنچ سلگتی تھی، اور ہر اینٹ عبادت کے آنسوؤں سے دھلی ہوئی تھی۔ میں نے عظیم زائرین کے آنسو جذب کیے ہیں، جو بی بی جیوندی کے حضور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے، اور دعا مانگتے تو ان کی التجاؤں میں دل لرز جایا کرتا۔ میری نیلی اور فیروزی ٹائلوں میں آسمان کی گہرائی بسی تھی۔ میرا گنبد چاند کی مانند روشن تھا، اور اس پر قرآنی آیات کا نقش دل میں اُترتا تھا۔ صوفی، درویش، اور عاشق جب میرے گرد نظر اٹھا کر دیکھتے تو ان کی سانسیں میری اینٹوں م...

عظیم حکمران کی عظیم جائیدادیں

Image
 عظیم حکمران نواب اف بہاولپور کی عظیم الشان جائیدادیں۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں بہاول ہاؤس اور محلات اج بھی موجود ہیں  تحریر و تحقیق شیخ عزیز الرحمن  بر صغیر پاک و ہند کی ہندو مسلم ریاستوں میں سابق ریاست مملکت خداداد بہاولپور کو منفرد مقام حاصل تھا یہاں کے عباسی حکمرانوں کے طرز رہائش اور رعایہ پروری انصاف و عدل کے باعث دنیا بھر میں نواب اف بہاولپور کی شان کو سمجھا اور دیکھا جاتا ہے عظیم شہنشاہ نواب اف بہاولپور سر صادق محمد خان خامس عباسی کی برسی گزشتہ روز ملک بھر میں منائی گئی نواب اب بہاولپور کے بارے میں تو مختلف لوگوں نے مختلف مضامین تحریر کیے مگر اج ہم نواب اف بہاولپور کی ان عظیم بڑی جائیدادوں اور محلات کے بارے میں اپ کو بتائیں گے جو دنیا بھر کے مختلف بڑے ممالک میں اج بھی ان کی شاندار ماضی کی گواہ ہیں نواب سر صادق محمد خان عباسی باقاعدگی سے کچھ عرصہ تعطیلات برطانیہ میں گزارا کرتے تھے اور وہاں پر انہوں نے اپنی شایان شان رہائش کے لیے سرے کے علاقے میں اڈین اور اس کے اس پاس کے جنگلات خریدے اور وہاں پر سلیحام ہاؤس بنایا جہاں وہ چھٹیاں گزارا کرتے تھے نواب آف بہاولپور، سر ...

چولستان کی بڑھتی پیاس تحریر جاوید ایاز خان

Image
  چولستان کی بڑھتی پیاس  تحریر ؛۔ جاویدایازخان سورج آگ برسانےلگا بہاولپور کا درجہ حرارت سنتالیس سینٹی گریڈتک جا پہنچا ایسے میں اگر بجلی بھی چلی جاۓ تو لوگ تڑپ اٹھتے ہیں ۔پوری دوپہر سڑکوں پر لوگ سایہ دار درختوں کے ساۓ تلاش کرتے ہیں دھوپ میں چند منٹ کھلے آسمان تلے ٹھہرنا قیامت سے کم نہیں ہوتا پھر بھی ہم درخت کاٹ رہے ہیں اور نئی شجر کاری کی جانب توجہ نہیں دے رہے ۔عجیب سوچ ہے گرمی سے جل بھن توجائیں گے مگر شجر کاری اور درختوں کی حفاظت نہیں کریں گے ۔ایسی صورتحال میں ذرا  تصور کریں چولستان یا روہی کا جہاں کی دھوپ تو سردی  کے موسم میں بھی برداشت نہیں ہوتی جہاں دور دور تک درخت دکھائی نہیں دیتے ۔جہاں پانی سراب بن جاتا ہے ۔جہاں انسان اور جانور ایک ہی ٹوبے سے پانی پیتے  اور شکر ادا کرتے ہیں ۔اگر اس شدید گرمی میں آپ کو چھاوں ،چھت ،اور پنکھے جیسی نعمت میسر ہے  اور بجلی بھی موجود ہے تو  آپ بڑی عافیت میں ہیں اس پر  خدا کا شکر ادا کریں کیونکہ یہ سب کچھ چولستان یا روہی  میں نایاب ہے ۔جی ہاں یہ وہی چولستان ہے جہاں سردیوں میں  ملک کی سب سے بڑی ڈیزرٹ...