Posts

Showing posts from May, 2025

عظیم حکمران کی عظیم جائیدادیں

Image
 عظیم حکمران نواب اف بہاولپور کی عظیم الشان جائیدادیں۔ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں بہاول ہاؤس اور محلات اج بھی موجود ہیں  تحریر و تحقیق شیخ عزیز الرحمن  بر صغیر پاک و ہند کی ہندو مسلم ریاستوں میں سابق ریاست مملکت خداداد بہاولپور کو منفرد مقام حاصل تھا یہاں کے عباسی حکمرانوں کے طرز رہائش اور رعایہ پروری انصاف و عدل کے باعث دنیا بھر میں نواب اف بہاولپور کی شان کو سمجھا اور دیکھا جاتا ہے عظیم شہنشاہ نواب اف بہاولپور سر صادق محمد خان خامس عباسی کی برسی گزشتہ روز ملک بھر میں منائی گئی نواب اب بہاولپور کے بارے میں تو مختلف لوگوں نے مختلف مضامین تحریر کیے مگر اج ہم نواب اف بہاولپور کی ان عظیم بڑی جائیدادوں اور محلات کے بارے میں اپ کو بتائیں گے جو دنیا بھر کے مختلف بڑے ممالک میں اج بھی ان کی شاندار ماضی کی گواہ ہیں نواب سر صادق محمد خان عباسی باقاعدگی سے کچھ عرصہ تعطیلات برطانیہ میں گزارا کرتے تھے اور وہاں پر انہوں نے اپنی شایان شان رہائش کے لیے سرے کے علاقے میں اڈین اور اس کے اس پاس کے جنگلات خریدے اور وہاں پر سلیحام ہاؤس بنایا جہاں وہ چھٹیاں گزارا کرتے تھے نواب آف بہاولپور، سر ...

چولستان کی بڑھتی پیاس تحریر جاوید ایاز خان

Image
  چولستان کی بڑھتی پیاس  تحریر ؛۔ جاویدایازخان سورج آگ برسانےلگا بہاولپور کا درجہ حرارت سنتالیس سینٹی گریڈتک جا پہنچا ایسے میں اگر بجلی بھی چلی جاۓ تو لوگ تڑپ اٹھتے ہیں ۔پوری دوپہر سڑکوں پر لوگ سایہ دار درختوں کے ساۓ تلاش کرتے ہیں دھوپ میں چند منٹ کھلے آسمان تلے ٹھہرنا قیامت سے کم نہیں ہوتا پھر بھی ہم درخت کاٹ رہے ہیں اور نئی شجر کاری کی جانب توجہ نہیں دے رہے ۔عجیب سوچ ہے گرمی سے جل بھن توجائیں گے مگر شجر کاری اور درختوں کی حفاظت نہیں کریں گے ۔ایسی صورتحال میں ذرا  تصور کریں چولستان یا روہی کا جہاں کی دھوپ تو سردی  کے موسم میں بھی برداشت نہیں ہوتی جہاں دور دور تک درخت دکھائی نہیں دیتے ۔جہاں پانی سراب بن جاتا ہے ۔جہاں انسان اور جانور ایک ہی ٹوبے سے پانی پیتے  اور شکر ادا کرتے ہیں ۔اگر اس شدید گرمی میں آپ کو چھاوں ،چھت ،اور پنکھے جیسی نعمت میسر ہے  اور بجلی بھی موجود ہے تو  آپ بڑی عافیت میں ہیں اس پر  خدا کا شکر ادا کریں کیونکہ یہ سب کچھ چولستان یا روہی  میں نایاب ہے ۔جی ہاں یہ وہی چولستان ہے جہاں سردیوں میں  ملک کی سب سے بڑی ڈیزرٹ...

نور خان فارمولا 🇵🇰

Image
 *نور خان فارمولہ* ائیرمارشل نور خان ایک طلسماتی شخصیت تھے‘ وہ 1923ء میں پیدا ہوئے‘ 1941ء میں انڈین ائیرفورس جوائن کی‘ 1947ء میں پاکستان ائیر فورس کا حصہ بنے اور پھر ہیرو کی زندگی گزاری‘ وہ ”مین آف سٹیل“ کہلاتے تھے‘ وہ 1965ء کی جنگ میں ائیر چیف تھے لیکن خود جہاز اڑا کر حساس ترین مقامات پر چلے جاتے تھے‘ ان کی خدمات کا دائرہ صرف ائیرفورس تک محدود نہیں تھا‘ وہ 1959ء سے 1965ء تک پی آئی اے کے ایم ڈی رہے اور اسے دنیا کی پانچ بہترین ائیر لائینز میں شامل کرا دیا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر بنے اور پاکستان کو ہاکی کا ورلڈ چیمپیئن بنوا دیا‘ وہ کرکٹ بورڈ کے سربراہ بنے اور ہم کرکٹ کی دنیا میں ”مین پلیئر“ بن گئے‘ نور خان نے اپنی زندگی میں جس ادارے میں قدم رکھا وہ ادارہ انٹرنیشنل بن گیا اور دوسرے ملکوں نے وہ ماڈل بعد ازاں نقل کیا تاہم یہ تمام کامیابیاں ائیر مارشل نور خان کی پروفیشنل زندگی تھی‘ آپ کو زندگی میں ایسے بلکہ ان سے بھی بہتر لوگ مل جائیں گے لیکن *ان کا اصل کمال ان کی ذاتی زندگی تھی‘ وہ 1969ء میں ریٹائر ہوئے اور ریٹائرمنٹ کے 42 سال بعد 2011ء میں 88 سال کی عمر میں فوت ہوئے مگر وہ مرنے تک...

نواب اف بہاولپور کی سالانہ برسی پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مضمون خاص

Image
 مملکت خداد اد ریاست بہاولپور کے آخری تاجدار نواب سرصادق محمد خان عباسی مرحوم۔ ایک عظیم حکمران  ان کی پاکستان کیلئے خدمات کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ان کی69ویں برسی 24مئی کو نہایت عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔  ( تحریر: شیخ عزیز الرحمان 0300-6840408) 24 مئی 1966؁ء کا دن سابق ریاست بہاولپور کے عوام میں ہمیشہ افسوس کے طور پر گردانا جاتا ہے۔ جب اس مطلق العنان سابق ریاست بہاولپور کے آخری تاجدار نواب سرصادق محمد خان خامس عباسی اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علاقے بھر میں خاندان عباسیہ کے چاہنے والے مختلف تقاریب منعقد کرتے ہیں اور ان کی اسلام اور پاکستان کیلئے والہانہ عقیدت اورخدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہز ہائنس الحاج نواب سرصادق محمد خان خامس عباسی، محسن الملک سراج الدولہ وہ محسن پاکستان ہیں۔ جنہوں نے اپنی مطلق العنان ریاست کو ہندوستان کی بجائے پاکستان میں ضم کرنے کا بے لوث اعلان کیا اور نوزائیدہ مملکت پاکستان کیلئے تمام وسائل بھی اپنی ریاست سے ادا کئے۔ نواب صاحب کی خدمات کو ایک مضمون میں احاطہ کرنا مشکل ترین کام ہے۔ نواب سرصادق محمد خان عباسی 2...

چھوٹا گوشت

Image
  چھوٹا گوشت  تحریر ؛۔ جاویدایاز خان  میرا ایک بہت پرانا دوست اور کلاس فیلو مجھے ہر عید پر ضرور ملنے آتا ہے۔اس سے میری بہت  پرانی گپ شپ اور یارانہ ہے ۔میں اسکی غربت اور سفید پوشی سے خوب واقف ہوں اور ہمیشہ اسکی مدد کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔پچھلی مرتبہ وہ  عید پر ملنے آیا تو اس کا ایک بچہ بھی ہمراہ تھا ۔میں نے اپنی سی خاطر مدارت کے بعد اس کو قربانی کے  گوشت کا ایک پیکٹ دیا تو اس نے پوچھا بھائی آپ نے بڑی قربانی کی تھی یا چھوٹا جانور ذبح کیا تھا ۔تو میں نے اسے بتایا  کہ یار پہلے دن ایک بکرا قربان کیا اور آج ایک بڑے جانور میں حصہ لیا ہے ۔چھوٹے جانور سے کل بیس کلو گوشت نکلا جو گھر ،ہمسایوں ،بیٹیوں اور رشتہ داروں میں بامشکل تھوڑا تھوڑا کرکے بانٹ دیا ہے ۔آج کا بڑا گوشت وزن میں زیادہ تھا کوشش کی ہے ہر ضرورت مند تک پہنچا سکوں ۔آپکو بھی بڑا گوشت ہی پیش کر رہا ہوں ۔میری بات سن کر وہ لمحہ بھر کے لیے خاموش ہو گیا۔  وہ آنکھ نہیں ملا پا رہا تھا ۔لیکن  میں نے اسکی آنکھوں موجود نمی کو محسوس کر لیا اور پو چھا یار کیا بات ہے ؟اداس کیوں ہو  گئے ہو ؟ تو ...

شکاری شکار سے نیں ٹلتے

Image
  آنکھ بند کرنے سے شکاری نہیں ٹلتے ؟  تحریر ؛۔ جاویدایازخان  بعض اوقات کچھ موضوعات پر ہمارے ذہن میں جذبات کا ایک سمندر موجزن ہوتا ہے مگر دل نہیں چاہتا کچھ بولنے کو ،کچھ کہنے کو ،کچھ لکھنے کو ،بتانے اور جتانے کو یا کسی سے ہمدردی کے دو لفظ بھی بولنے کو کیونکہ ان جذبات میں اسقدر درد ہوتا ہے کہ بیان کرنے ،سوچنے اور لکھنے سے بھی دل کے پھٹ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔بس خاموشی کے لبادےاوڑھ کر اور فاختہ کی طرح آنکھیں بند کرکے ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ شکاری ٹل جاۓ گا اور ہم شاید لکھنے اور کہنے سے بچ جائیں گے ؟اسی لیے کہتے ہیں کہ اگر آپ کے پاس کہنے کو کچھ ہے تو خاموشی جھوٹ ہے بلکہ شاید اخلاقی جرم بھی ہوتی ہے ۔کہتے ہیں کہ لوگ شاید کبھی وہ نہیں ہوتے جو ہمیں دکھائی دیتے ہیں ۔ہر انسان کے اندر کئی روپ پوشیدہ ہوتے ہیں جو موقع کی تلاش میں رہتے ہیں اور پھر موقع ملتے ہی اپنے خول سے باہر نکل آتے ہیں ۔کوئی سفاک اور ظالم ،کوئی دھوکے باز ،کوئی دوغلا اور منافق ،تو کوئی تلخی سے بھرا ہوا تو کوئی حرس و ہوس کا پجاری یا انسانی روپ کا لبادہ اوڑھے شیطان بھی ہوتا ہے ۔مگر انہیں میں کہیں نہ کہیں ...

ضرب مردانہ دید

Image
تحریر ؛۔ جاویدایازخان  ہم چپ تھے کہ برباد نہ ہوجاۓ گلشن کا سکوں  ناداں یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ ہم میں قوت للکار نہیں ہے ۔ ایک جانب پاکستانیوں کی بےخوفی ،جذبہ جہاد ،شہادت کی تمنا ،دفاع وطن ،بقااسلام کا دینی جذبہ ،اپنی عبادت گاہوں اور مظلم و معصوم شہیدوں کا بدلہ عزم چہروں پر دکھائی دیتا ہے ۔جہاں شہادت ایک مقدس انجام اور حیات جاوید کی نوید ہوتی ہے جو نسل در نسل ماں کی لوریاں بن بن کر پاکستانی بچوں کے کانوں میں پڑتی ہیں ۔پاکستان کی تاریخ کی جڑیں ہجرت ،جنگ ،بہادری ،جرات ،دفاع و بقاء کی کہانیوں سے بھری پڑی ہے ۔ہماری قوم کا عمومی رویہ دفاعی ،جذباتی اور قربانی اور وطن کے لیےجان دینے پر ہمیشہ آمادہ ہوتا ہے۔اس کے برعکس بھارت کا قومی مزاج جھوٹی تاریخی عظمت ، مذہبی تعصب ،قوم پرستی ،تسلط اوربالا دستی کی ہوس سے جڑا ہوا ہے۔ اس لیے ان پر ہمیشہ ہی بے یقینی اور موت کا خوف غالب دکھائی دیتا ہے ۔پاکستانی جذبات میں مذہب ایک کلیدی عنصر ہے جو قربانی کو مقدس بناتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پاکستان کا نوجوان "غازی یا شہید "کی تمنا میں زندہ رہتا ہے ۔یہاں ہر مسلمان کی سب سے بڑی تمنا شہادت کی سعادت ...

خاص ہے ترکیب رسول ہاشمی 🇵🇰موجودہ جنگی تناظر میں جاوید ایاز خان کی خاص تحریر

Image
  خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی  تحریر ؛۔ جاویدایازخان  چھ اور سات مئی کی درمیانی رات جب پورا بہاولپور آرام کی نیند  ابھی سونے بھی نہ پایا تھا کہ خوفناک دھماکوں کی  گونج اور کھڑکیوں کے شیشوں کے ٹوٹنے کی آوازوں سے اٹھ بیٹھا ۔خیال یہ تھا کہ شاید زلزلہ آیا ہے یا پھر کہیں نزدیک ہی کوئی  آسمانی بجلی گری ہے ۔لیکن لگاتار چھ دھماکوں سے یہ اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہ تھا کہ جنگی جنون میں مبتلا بزدل اور مکار  دشمن   بھارت نے رات کے اندھیرۓ میں اپنے ان ناپاک عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کی ہےجن کا ارادہ اور اس کا    بار بار اعادہ  وہ گذشتہ کئی دن سے کر رہا  تھا   ۔پھر یکایک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھارتی میزائل حملوں کی بازگشت سنائی دینے لگی  جس کی نشاندہی احمدپورشرقیہ روڈ پر سبحان مسجد  کی جارہی ہے ۔پھر پتہ چلا کہ یہ بہیمانہ حرکت بزدل  بھارت نے ہمارے کئی مقامات پر  اور بھی کی ہے اور اسے ہماری افواج کی جانب سے منہ توڑ  جواب بھی ملا ہے  ۔جونہی میں گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ہر جانب سے لو...

عالمی یوم صحافت

Image
  عالمی ۔۔یوم صحافت تحریر ؛۔ جاویدایازخان  گزشتہ روز عالمی یوم آزادی صحافت دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی منایا گیا ۔یہ دن تین مئی کو آزادی صحافت کے عالمی دن کے طور پر منانے کی منظوری اقوام متحدہ نے ۱۹۹۲ء میں دی تھی ۔ جیسے کہ سب جانتے ہیں کہ   دنیا بھر میں ہر ریاست کے اہم ستونوں میں سے ایک ستون صحافت  کو گردانا  جاتا ہے ۔اس موقع پر   دنیا اور ملک کے مختلف شہروں میں صحافیوں کے اجلاس ،سیمینار  اور اجتماعات منعقد کئے گئے اور ان میں اس دن کی اہمیت  اور افادیت کو بھرپور اجاگر کیا گیااور یہ عہد بھی دوہرایا گیا کہ صحافی  ہر معاشرے کی آنکھ  کی طرح ہوتا ہے وہ وہی کچھ لکھتا ہے جو وہ دیکھتا ہے ۔وہ اس معاملے میں کسی قسم کی  بھی مصلحت یا جانبداری سے کام نہیں   لیتا ۔رچڑڈ بلیو مینتھل کی ایک تحریر ہے کہ " جب ہمارے دور کی تاریخ تحریر کی جاے ٔ گی تو آزاد پریس ایک ہیرو کے طور پر شامل ہوگا ۔ایسے صحافیوں کو سیلوٹ کرتے ہیں جنہوں نے معاشرے کو  پر امن ،مضبوط و مستحکم بنانے کے لیے بے خوف ہو کر سچ کا ساتھ دیا "۔کہتے ہیں کہ کس...

ڈیجیٹل تنہائی 📌معروف کالم نویس جاوید ایاز خان خاں کا خصوصی کالم

Image
  ڈیجیٹل تنہائی  تحریر ؛۔ جاویدیازخان مزاج دنیا سے جوں جوں آشنا ہو رہا ہوں  میں تنہا اور تنہا اور تنہا ہو رہا ہوں  تنہائی یا اکیلا پن ،تنہا ہونا ،یا تنہا محسوس کرنا ایک نفسیاتی کیفیت ہوتی ہے۔آج کی مصروف زندگی میں تنہائی کو اکثر منفی طور پر ہی دیکھا جاتا ہے گو کہ یہ تنہائی نعمت بھی ہے اور مصیبت بھی ہوتی ہے ۔ہر وقت لوگوں کے درمیان گھرا ہوا رہنا یا سوشل میڈیا پر متحرک رہنا خوشی کا پیمانہ سمجھا جاتا ہے ۔گو کہ تنہائی بسااوقات جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے فائدہ مند بھی ہوتی ہے ۔کبھی کبھی تنہائی سے ذہنی سکون ملتا ہے ۔شاعر اور دانشوروں کی تخلیقی صلاحیت بڑھتی ہے کیونکہ اکیلے میں زیادہ گہرائی سے سوچنے اور تصور کرنے کا موقع ملتا ہے ۔ایک عام انسان کو بھی پرسکون تنہائی کی باعث بسا اوقات اپنے مسائل کا حل تلاش کرنے میں مدد ملتی ہے جو اس میں خود انحصاری کو جنم دیتی ہے ۔تنہائی ہمیں اپنی اندرونی آواز سننے کے قابل بناتی ہے ۔لیکن یہی اکیلا پن اور تنہائی انسانی ڈئپریشن کی ابتدا ٔ بھی ہوتی ہے ۔آج دنیا بھر میں تنہائی کے مختلف پہلووں پر بحث ایک دلچسپ موضوع بن گیا ہے ۔حتیٰ کہ...