سیاست اور احساسیت 💚جاوید ایاز خان کا خصوصی کالم
سیاست یا احساسیت تحریر ؛۔جاویدایازخان یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کی آئندہ انتخابی معرکہ آرائی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے ہوگی ۔اس لیے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اور سیاستدان مبینہ طور پر اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو منظم اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔یہ سب کچھ صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ بڑھتا چلا جارہا ہے جو اس فلسفے کی تائید کرتا ہے کہ سیاست کا سارا دارومدار پیغام رسانی پر ہوتا ہے ۔لیکن صرف موثر اور نتیجہ خیز پیغام رسانی ہی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔جس کے لیےبنیادی طور پر "رفتار "یعنی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا اور وہ بھی کم لاگت یعنی کم سے کم خرچہ کےذریعے مقصد کا حصول ممکن بنانا ۔ماضی میں اس مقصد کے لیے پرنٹ میڈیا پر انحصار کیا جاتا تھا ۔ہر سیاسی جماعت کا یا تو اپنا اخبار ہوتا تھا یا پھر مخصوص صحافی یہ کردار ادا کرتے تھے ۔اور یہی ذریعہ سیاسی منشور ،نظریہ اور سیاسی وابستگی کا اظہار بنتا تھا ۔سیاست دان اپنا پیغام لوگوں تک...