Posts

Showing posts from April, 2025

سیاست اور احساسیت 💚جاوید ایاز خان کا خصوصی کالم

Image
  سیاست یا احساسیت  تحریر ؛۔جاویدایازخان  یہ بات عیاں ہے کہ پاکستان کی آئندہ انتخابی معرکہ آرائی سوشل میڈیا کے پلیٹ فارم سے ہوگی ۔اس لیے ملک کی بڑی بڑی سیاسی جماعتیں اور سیاستدان  مبینہ طور پر اپنی اپنی سوشل میڈیا ٹیموں کو منظم  اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔یہ سب کچھ  صرف پاکستان تک ہی محدود نہیں بلکہ پوری دنیا میں یہ ٹرینڈ بڑھتا چلا جارہا ہے جو اس فلسفے کی تائید کرتا ہے کہ سیاست کا سارا دارومدار پیغام رسانی پر  ہوتا ہے ۔لیکن  صرف موثر اور نتیجہ خیز پیغام رسانی  ہی کامیابی کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔جس کے لیےبنیادی طور پر "رفتار "یعنی کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ  لوگوں تک اپنا پیغام پہنچانا  اور وہ بھی کم لاگت یعنی کم سے کم خرچہ کےذریعے مقصد کا حصول ممکن بنانا ۔ماضی میں اس مقصد کے لیے پرنٹ میڈیا پر انحصار کیا جاتا تھا ۔ہر سیاسی جماعت کا یا تو اپنا اخبار ہوتا تھا یا پھر مخصوص صحافی یہ کردار ادا کرتے تھے ۔اور یہی ذریعہ سیاسی منشور ،نظریہ  اور سیاسی وابستگی کا اظہار بنتا تھا ۔سیاست دان اپنا پیغام لوگوں تک...

شکریہ 💚♥

Image
  شکریہ  تحریڑ ؛۔ جاویدایازخان  انگریزی مزاح نگار جارج برنارڈشا عظیم ادیب تو تھے ہی، بلا کے خود پرست بھی تھے۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے کہ میری تحریر کا ایک ایک لفظ ایک ایک پونڈ قیمت رکھتا ہے۔کسی  ایک صاحب نے ازراہ مذاق انھیں ایک پونڈ رقم منی آرڈر سے بھیجی اور لکھا کہ یہ لیجیے ایک پونڈ حاضر ہے۔ براہ کرم اپنا ایک عدد قیمتی لفظ عنایت فرما دیجیے برنارڈشا نے جواب میں واقعی ایک لفظ ارسال کیا ۔ اور وہ تھا " شکریہ " ۔ہمارے اباجی کہتے تھے کہ دنیا میں لوگوں کے دل موہ لینے کا سب سے بڑا لفظ "شکریہ " ہوتا ہے "شکریہ " ایک ایسا لفظ ہے جسے صرف ہر انسان  کو ہی نہیں بلکہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی ذات مبارک کو بھی بہت پسند ہے ۔اباجی کہا کرتے تھے کہ میرا بس چلے تو میں "شکریہ "ادا کرنے کو قانونی حیثیت دے دوں کیونکہ "شکریہ "کے لفظ کا استعمال ہماری خاندانی تربیت کا بھی عکاس ہوتا ہے ۔وہ کہا کرتے تھے کہ "شکریہ "ادا کرنے کے لیے صرف الفاظ  کافی نہیں ہوتے بلکہ آپکا رویہ اور ادائیگی کا طریقہ کار بھی ضروری ہوتا ہے  شکریے کے لفظ کے ساتھ اظہار تشکر   بھی بڑے معنی ر...

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

Image
احساس کے انداز اک چراغ اور بجھا ۔۔۔۔۔۔۔ آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم   تحریر ؛۔ جاویدایازخان گذشتہ رو ز فیس بک کے ذریعےاطلاع ملی کہ عرصہ سے علیل میرے نہایت محترم اور شفیق بینکاری کے پہلے استاد  اور میرۓ پہلے بینک منیجر اپنے  ا للہ کے حضور  میں حاضر ہو چکے ہیں  تو افسوس کی لہر سی جسم میں دوڑ گئی  اور ماضی کی بےشمار یادوں نے مجھے گھیر لیا ۔انااللہ وانا علیہ راجعون ! کچھ لوگوں کا آپکی زندگی خصوصی کردار ہوتا ہے ۔اشرف صاحب میری  پیشہ وارانہ زندگی میں صرف استاد ہی نہ تھے بلکہ بےپناہ محبت کرنے والی شخصیت بھی تھے ۔ان کی  خوبصورت قد  کاٹھ  والی اور پروقار شخصیت میری ہی نہیں بلکہ پورے شہر کی مرکز نگاہ رہی  ہمیشہ لوگ اپنےادار وں کے حوالے سے جانے جاتے ہیں لیکن انہیں یہ اعزاز حاصل تھا کہ لوگ ان کی وجہ سے ان کے ادارےکو  جانتے تھے ۔انہیں چوہدری اشرف  ایم سی بی والا نہیں بلکہ ایم سی بی کو چوہدری اشرف والا بینک کہا جاتا تھا ۔بینک ان کی نہیں بلکہ ہمارےشہر میں وہ ادارے کی شناخت سمجھے جاتے تھے ۔"موت اس کی ہے کرۓ جس پہ زمانہ افسوس ! "آج ہم...

اے زندگی کو چاہنے والے، شجر لگا۔۔۔۔۔ تحریر: جاوید ایاز خان سب لوگ کڑی دھوپ کے شعلوں میں جلیں گے جب وقت کے صحرا میں شجر کوئی نہ ہوگا

Image
  تحریر جاوید ایاز خان  کوٹ ادو جیسے چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھنے والا شاعر محمد قاسم راز ایک بڑا اور باکمال نام ہے، جو عظیم شاعر بیاض سونی پتی مرحوم کے دبستانِ ادب سے فیض یافتہ ہے۔ بیاض سونی پتی سے نسبت بذاتِ خود ایک اعزاز ہے، اور قاسم راز کی تخلیقی تربیت اسی مکتب  فکر سے ہوئی ہے۔ ان کی حمد و نعت، غزل و نظم پہلے ہی اہلِ ذوق کو متاثر کر چکی ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی "ادبی تھراپی" پر مبنی ماحولیات اور شجرکاری پر شاعری نے میرے سوچنے کے زاویے بدل دیے ہیں۔ کہتے ہیں کہ شاعر کا دل حساس ہوتا ہے، وہ زمانے کی سسکیوں  اور دکھوں سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ قاسم راز اسی حساسیت کا عملی اظہار کرتے ہوئے وقت کے سب سے اہم مسئلے — ماحولیاتی بحران — پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ جہاں بیشتر شعراء نے درختوں، پرندوں اور قدرتی مناظر کو محض استعاروں کے طور پر استعمال کیا، وہیں قاسم راز نے ان موضوعات کو حقیقت کا روپ دے کر اپنے شعری پیغام میں شامل کر لیا ہے۔ اگر وہ کسی بڑے شہر میں ہوتے تو آج شہرت کی بلندیاں ان کا مقدر ہوتیں۔ ان کے اشعار نہ صرف شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ ماحول کے تحفظ کی ضر...

ایران میں قتل ہونے والے مزدوروں کے حقوق کے لیے سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی کی ایران کے سفیر سے ملاقات

Image
 اسلام آباد: 22 اپریل  سینیئر سیاستدان اور سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی اور وزیر اعلی خیبرپختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف کی پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر ڈاکٹر رضا امیری مقدم سے ملاقات  دونوں راہنماؤں کی آمد پر سفارت خانے کے اعلی حکام نے استقبال کیا  دونوں راہنماؤں نے ایران کے روحانی رہبر سید علی خامنہ ای اور صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے لیے خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا  محمد علی درانی نے سیستان (ایران) میں 12 اپریل کو قتل ہونے والے 8 مزدوروں سے متعلق بات چیت کی  محمد علی درانی نے بہاولپور سے تعلق رکھنے والے ان شہید مزدوروں کے اہل خانہ کے جذبات سے ایرانی سفیر کو آگاہ کیا  قاتلوں کو نہ صرف گرفتار کیا جائے بلکہ ان کی نشاندہی بھی ہونی چاہیے، محمد علی درانی کی ایرانی سفیر سے گفتگو  ایران میں کام کرنے والے محنت کشوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے ایرانی حکومت موثر اقدامات کرے، محمد علی درانی کی ایرانی سفیر سے گفتگو   یہ انتہائی غریب ترین خطے کے غریب ترین لوگ ہیں، ان بے گناہوں کے قتل سے ان کے خاندان مزید غرب...

"سیستان میں سرائیکی مزدوروں کا قتل عام

Image
 "سیستان میں سرائیکی مزدوروں کا قتل — روزی کمانے آئے پنجاب کےشہر بہاولپور کے محنت کش دہشتگردی کا نشانہ بن گئے" تحریر شیخ عزیز الرحمن  12 اپریل 2025 (ہفتہ)کا دن ہمارے سرائیکی وسیب کے محنت کشوں کے لیے موت کا دن ثابت ہوا ایران کے مشرقی صوبہ سیستان کے ضلع مہرستان میں ہفتے کی صبح ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں گاؤں حز آباد پائیں میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ورکشاپ پر اندھا دھند فائرنگ کرکے آٹھ پاکستانی شہریوں کو شہید کر دیا۔ تمام مقتولین مکینک تھے اور محنت مزدوری کے لیے ایران میں مقیم تھے۔ ‏شہیدعرصہ تقریبا سات اٹھ سال سے ایران مگس میں کاروں کی ورکشاپ پر کام کرتے تھے بی ا۔ین اے کالعدم بلوچ نیشنل آرمی کی بدمعاشی بے گناہ مظلوم 8 بہاولپور یوں کاقتل کیا ان نام نہاد ملک دشمنوں کے خلاف کاروائی ہو گی؟دہشت گردی کے نام پر سب سے زیادہ بہاولپور ڈویژن کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے ایرانی صوبہ سیستان میں 8 ریاستیوں (سرائیکیوں) بہاولپوریوں پاکستانی مزدوروں کا قتل، مقتولین کا تعلق پنجاب بہاولپور سے ہے جن میں چھ افراد کا علاقہ خانگاہ شریف اور دو کا ہماری تحصیل احمد ...

سیوریج سے ڈوبتے شہر 📍احمد پور شرقیہ کی سیوریج کا بڑا مسئلہ

Image
سیوریج سے ڈوبتے شہر تحریر ؛۔ جاویدیازخان  پہلے شہروں میں نالیوں اور گندۓ نالوں کا نظام ہوا کرتا تھا ۔چھوٹی چھوٹی گلیوں سے گندہ پانی بڑی نالی پھر اس سے بڑی نالی اور پھر بڑے نالے میں جا گرتی تھی اور پھر یہ نال کسی گندے پانی کے جوہڑ ،تالاب یا دوبےمیں چلا جاتاتھا ۔یہ دوبے ،جوہڑ اور تالاب ہمیشہ پانی سے بھرۓ رہتےتھے ۔جہاں سے صاف کرکے نالوں کے ذریعے یہ پانی کاشتکاری کے استعمال میں بھی آجاتا تھا ۔ہر شہر میں کوئی نہ کوئی گندے پانی کا جوہڑ ،تالاب یا دوبہ ضرور ہوتا تھا اور گندۓ نالے بھی بناۓ جاتے تھے تاکہ شہر کا پانی باہر جاتا رہے ۔گلیوں میں نالیاں صاف کرنے کے لیے روزآنہ کی بنیاد پر لوگ متعین ہوا کرتے تھے لیکن اس کے باوجود اپنی گلی کی نالی کو صاف رکھنا اور بند نہ ہونے دینا ہر فرد اپنا فرض سمجھتا تھا ۔ان نالیوں میں صرف پانی بہتا تھا دوسری غلاظت شامل کرنے کو برا سمجھا جاتا تھا دیگر غلاظت اور گندگی کی صفائی اور اٹھانے کے لیے روزآنہ کی بنیاد پر صفائی والے ہر گھر آتے تھے جنہیں اس کا معاوضہ دیا جاتا تھا ۔بارش کا پانی بھی انہیں نالیوں اور نالوں کے ذریعہ اندرون شہر سے نکل جاتا تھا۔پھر ا...

کمشنر بہاولپور ڈویژن کا دورہ اوچ شریف 63 کروڑ کے منصوبوں کا اعلان

Image
 احمد پور شرقیہ (میڈیا کلب نیوز )کمشنر بہاول پور ڈویژن مسرت جبیں نے کہا ہے کہ حکومت جنوبی پنجاب کے تاریخی اور روحانی ورثے کو محفوظ بنانے کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہے، جن کے تحت اُچ شریف میں واقع صدیوں پرانے مزارات کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ یہ بات انہوں نے تحصیل اُچ شریف کے دورے کے موقع پر دربار محبوب سبحانی سید جلال الدین سرخ پوش بخاری اور دیگر مزارات پر جاری ترقیاتی منصوبوں کا تفصیلی معائنہ کرتے ہوئے کہی۔کمشنر کو جاری منصوبوں پر ایک تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر مجموعی لاگت کا تخمینہ 63 کروڑ روپے سے زائد ہے۔ ان منصوبوں میں مزارات کی بحالی، ملحقہ مساجد کی تعمیر و مرمت، زائرین کے لیے جدید سہولیات کی فراہمی، اور سیاحتی ترقیاتی اقدامات شامل ہیں۔کمشنر مسرت جبیں نے بتایا کہ 9.5 کروڑ روپے کی لاگت سے زائرین کے لیے خصوصی سہولیات مہیا کی جا رہی ہیں، جن میں شاندار داخلی گیٹ، وسیع پارکنگ ایریا، وضو خانے، واش رومز، اور پینے کے صاف پانی کا بندوبست شامل ہے۔ اس کے علاوہ 9 مزارات کو ملانے والی سڑک پر ٹائلز نصب کی جائیں گی جبکہ ایک کرافٹ بازار ...

بہاول پورسیف سٹی پراجیکٹ

Image
 بہا ول پورسیف سٹی پراجیکٹ ۔ ایک عمدہ کاوش تحریر ۔ محمد اقبال عباسی  ٹائٹل۔ امید ِفردا میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والی” پنجاب پولیس کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر“کی پر شکوہ عمارت کے سامنے کھڑا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ وہی عمارت ہے جسے ڈیڑھ سال کی بجائے چار ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ وسیع و عریض عمارت کسی دیو ہیکل مشین کی طرح اب اپنی جسامت کے مطابق ویڈیو پینل اورمشینری کے انتظار میں ہے تاکہ عوام کی خدمت کا آغاز کیا جاسکے ۔ اس پراجیکٹ کے انچارج ایس پی عبداللہ کاشف سے جب میں نے سوال کیا کہ اٹھارہ ماہ کے پراجیکٹ کو آپ نے صرف تین ماہ میں کیسے مکمل کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا تمام تر سہرا ضلع بہا ولپور کے موجودہ ریجنل پولیس آفیسر رائے بابر سعید اور ڈی پی اوربہاول پور، اسد سرفرازکے سر ہے۔ جنہوں نے ہر مشکل اور پریشانی کے وقت ہماری نہ صرف رہنمائی کی بلکہ دامے درمے، قدمے سخنے ہمارا بھر پور ساتھ دیا ۔ذمہ داران سے روزانہ کی بنیا دپر اپ ڈیٹ لینے کے ساتھ ضلعی انتظامیہ ، ٹھیکیداران اور افسران بالا سے ہر وقت رابطے میں رہے اور تعمیراتی کام میں کہیں ب...

چولستان میں اثار قدیمہ کی دریافت♥ ڈاکٹر خلیل احمد

Image
 چولستان میں آثار قدیمہ کی نایاب دریافت –چولستان کی مٹی سے اُبھرتی شطرنج کی قدیم گونج - تہذیبی عظمت کی ایک جھلک۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے طلبہ کے ہمراہ چولستان کا مطالعاتی دورہ – حال ہی میں، مجھے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے شعبہ آثار قدیمہ (Department of Archaeology) کے چند پُرجوش اور علم سے سرشار طلبہ کے ساتھ چولستان کے ایک مطالعاتی دورے کا موقع ملا۔ اس علمی سفر کے دوران ہم نے چولستان کے ویران مگر تاریخی طور پر زرخیز خطے کا جائزہ لیا۔ دورے کے دوران، ایک قدیم آثار قدیمہ کی سائٹ (Archaeological Site) پر ہم ایک نہایت اہم اور نایاب دریافت کے گواہ بنے—ایسی دریافت جو نہ صرف چولستان کی صدیوں پر محیط تاریخ کی گہرائیوں کو چھوتی ہے بلکہ اس خطے کی فکری بلندی اور تہذیبی عظمت کی بھی مظہر ہے۔ ۔ اگرچہ یہ مقام خزانہ تلاش کرنے والوں کی نذر ہو چکا تھا اور ہر طرف غیر قانونی کھدائی کے نشانات موجود تھے، تاہم ان تمام رکاوٹوں کے باوجود تحقیقاتی ٹیم نے ایک انمول اثاثہ دریافت کیا: مٹی سے بنی شطرنج کی گوٹیاں (گوتیاں)۔ یہ سادہ نظر آنے والے مگر تہذیبی لحاظ سے انتہائی قیمتی مہرے اس حقیقت کی غمازی کرتے...

بچے کا سوال ؟

Image
  تحریر ؛۔ جاویدایازخان  گذشتہ روز مجھے اپنے نواسے  حسن عبداللہ کے ساتھ  بہاولپور سے لودھراں جانا پڑا ۔یہ سات سالہ بچہ  بیکن ہاوس اسکول سسٹم میں ابھی تیسری جماعت کا طالب علم ہے ۔دوسرے ذہین بچوں کی طرح اس کی بھی عادت ہے کہ یہ سارۓ راستے میں لگے سائن بوڑڈ پڑھتا  اور مجھے  عبارت پڑھ کر بتاتا  بھی جاتا ہے ۔جب کوئی بات سمجھ نہ آۓ تو مجھ سے سوال بھی کرتا ہے ۔جن میں سے بعض سوال ایسے ہوتے ہیں کہ جن کا جواب دینا مجھ سے نہیں بن پاتا  یا پھر جواب دینے کا حوصلہ نہیں پڑتا کیونکہ وہ  میرا جواب سن کر مزید  کوئی ایسا  ہی سوال  اور کر دیتا ہے ۔جونہی ہم دریاستلج  کا پل عبور کرنے لگے تو سامنے ایک سائن بورڈ لگا نظر آیا  جس پر لکھا ہے کہ "دریا میں مچھلی پکڑنا اور کشتی رانی منع ہے "بچے نے پڑھا تو سوال کیا کہ ابو جی جب دریا میں پانی ہی نہیں ہے تو کشتی کیسے چلائی جا سکتی ہے اور مچھلی  کہاں سے اور کیسے پکڑی جا سکتی ہے ؟ دریا کے ریت میں  نہ تو کشتی  چل سکتی ہے اور نہ ہی ریت میں مچھلی ہوتی ہے جسے پکڑا جاسکے ؟  تو یہ...

زبان کا رس ۔خصوصی کالم

Image
 نوٹ جاوید ایاز خان ہماری دھرتی کے عظیم کالم نویس ہیں اور حال ہی میں ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں اب قایرین ان کےخصوصی طرز تحریر پر مبنی  کالمز اور مضامین میڈیا کلب رجسٹرڈ کے بلاگ پیج پر پڑھ سکیں گے  تحریر جاوید ایاز خان 💚💚💚💚 ہمارۓ بزرگ نہ تو کوئی  بڑے دانشورہی تھے اور نہ ہی کوئی فلسفی لیکن ان کی زبان سے نکلی ہوئی ہر بات بڑی گہری ہوتی تھی وہ کہتے تھے کہ "الفاظ کی کوئی ہڈیاں نہیں ہوتیں مگر وہ آپکی ہڈیاں  توڑ سکتے ہیں "وہ شاید  وہی جانتے تھے  جو ہم سب جانتے ہیں لیکن ان کے لفظوں کی گہرائی کا اندازہ بڑی دیر سے ہوتا تھا ۔وہ کہتے تھے "الفاظ کا استعمال سوچ سمجھ کر کرو آپکا ایک لفظ تیز دھار چاقو سے بھی زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے ۔ایک سویڈش دانشور کا قول ہے کہ "کچھ کہنا در حقیقت کچھ کرنے کے مترادف ہوتا ہے " اسی لیے مثال دی جاتی ہے کہ "پہلے تولو پھر بولو "شاید اسی لیے قدرت نے ہمیں سننے کے لیے تو دو کان دئیے ہیں  اور دیکھنے کے لیے دو آنکھیں لیکن بولنے کے لیے صرف ایک زبان دی ہے ہم دونوں کانوں سے مختلف باتیں سن  اور دیکھ تو سکتے ہیں لیکن زبان سے صرف ...

موہنجداڑو اور ہڑپہ کے ہم اثر تاریخی شہر گنڈیری والا کے چولستان میں اثار

Image
 موہنجداڑو اور ہڑپہ کے ہم اثر تاریخی شہر گنڈیری والا  کے چولستان  میں اثار  تحریر شیخ عزیز الرحمن 💥 ہزاروں سال قدامت اور شاندار ماضی رکھنے والےعظیم صحرا چولستان  کی عظمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،سرائیکی وسیب کے انتہائی قدیم اور عظیم دریائے ہاکڑہ کی گزرگاہ چولستان جو کہ وادی ہاکڑہ بھی کہلاتا ہے، کی قدامت اور پروقار ماضی پر ہمیں فخر ہے، ہزاروں سال قدیم اس تہذیب کی کھوج کیلئے برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر مارک آرل سٹائن نے اپنے پالتو کتے"ڈیش" کے ساتھ سن 1941 میں قلعہ ڈیراور سے کم و بیش تیس کلومیٹر جنوب مغرب میں چولستان کے ایک مقام "گنویری والا" تک انتہائی مشکل اور پرکٹھن سفر کیا اور گنویری والا کے مقام پر مختلف جگہوں پر کھدائی کی اور گمان کیا کہ یہ شہر کم و بیش چھ ہزار سال قبل مسیح کا ہے سر مارک آرل سٹائن اپنی قابلیت کی بنا پر یورپ اور ایشیا میں آثار قدیمہ کی کھوج اور پرکھ پر اتھارٹی مانے جاتے تھے اسی طرح ایک اور امریکی ماہر آثار قدیمہ سر ہنری فیلڈ نے سن 1955 میں گنویری والا کا وزٹ کیا اور گنویری والا کیساتھ ساتھ مختلف مقامات کے معائنہ کے بعد یہی خیال ظاہر کیا کہ یہاں ہ...