انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید
انسانیت سے پیار کرنے والا غریبوں کا ہمدرد 💥
مخدوم سید علی حسن گیلانی
تحریر شیخ عزیز الرحمن 🔥 یکم دسمبر وہ سیاہ دن ٹھہرا جس دن انسانیت سے پیار کرنے والے غریبوں کے ہمدرد اور انصاف پسند شخصیت مخدوم سید علی حسن گیلانی کی گاڑی کو حادثہ پیش ایا جس کے نتیجے میں مخدوم سید علی حسن گیلانی لاکھوں لوگوں کو روتا چھوڑ کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ان کی نماز جنازہ ہمارے وسیب کا سب سے بڑا جنازہ ٹھہرا اور یہ عوام کی جانب سے ان کے ساتھ محبت اپنائیت کا جذبہ تھا کہ اس جنازے میں ہزاروں خواتین نے بھی شرکت کی وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے فوری طور پر اپنے پیغام میں مخدوم علیحسن گیلانی کی موت کو عظیم سانحہ قرار دیا جبکہ چیئرمین سینٹ مخدوم سید یوسف زا گیلانی سابق گورنر مخدوم احمد محمود اور شریف ان کی رہائش گاہ پر پہنچے اور ان کے بھائی ایم پی اے سید عامر علی شاہ سے اظہار تعزیت کیا مخدوم علی حسن گیلانی کی نماز جنازہ سے لے کر ابھی تک پورے علاقے میں سوگ کا سماع تمام کاروباری مراکز بند کر دیے گئے اور ہر انکھ ان کے لیے روتی دکھائی دی گئی
اولیاء اللہ کی سرزمین،خطہ پاک اوچشریف کی دھرتی نامور افراد کی دھرتی ہے اور یہاں کے اولیا ء کرام اور مشاہرین نے دنیا بھر میں نام پیدا کیا انہی میں ایک شخصیت مخدوم سید علی حسن گیلانی ہیں جنہوں نے 16 ستمبر 1974ء کو مخدوم سید مختار حسن گیلانی شہید کے ہاں آنکھ کھولی۔ ان کے دادا مخدوم الملک سید حامد شمس الدین گیلانی صاحب اپنی روحانیت اور علمیت میں یکتا تھے۔ آپ حضرت محبوب سبحانی ؒکی اولاد ہیں۔ مخدوم سید علی حسن گیلانی نے ابتدائی تعلیم صادق پبلک ہائی سکول بہاولپور سے اور پھر ڈاکٹریٹ کی تعلیم کیلئے پیپلز فرینڈشپ یونیورسٹی (روس) میں داخلہ لیا۔ مخدوم سید علی حسن گیلانی ابھی ماں کے شکم میں تھے کہ اُن کے والد کو شہید کردیا گیا اور جب ابھی بچپن کے اوائل میں ہی تھے کہ ان کی والدہ کی گاڑی کا ایکسیڈنٹ ہوگیا اور گاڑی دریا میں جاگری۔ بچپن سے ہی والدین کی شفقت سے محروم ہوگئے مگر کچھ عرصہ ان کے داد احضرت مخدوم شمس الدین گیلانی اور پھر ساری زندگی ان کے ماموں سید اختر علی شاہ ایڈووکیٹ نے ان کی پرورش کی۔ دوران تعلیم جب آپ ڈاکٹریٹ کے آخری سال میں تھے تو تعطیلات کے دوران روس سے وطن واپسی پر اوچشریف میں ایک مخدوم زادے کی طر ف سے ایک غریب کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے وقوعہ نے مخدوم سید علی حسن گیلانی کی زندگی کی سمت بدل کر رکھ دی اور غریبوں سے محبت کرنے کی بنیادی وجہ سے مزید اعلیٰ تعلیم کو ترک کرکے غریبوں کی حمایت اور عملی سیاست میں حصہ لینے کا ارادہ کرلیا اور سب سے پہلے کپاس کے نرخوں اور غریب کاشتکاروں کے حقوق کیلئے ایجی ٹیشن شروع کی اور انہی غریب کسانوں کے حقوق کیلئے قومی شاہراہ کو بند کرانے کے علاوہ پاکستان ریلوے کا پہیہ جام کرایا اور ہزاروں افراد کی قیادت کی جس پر ان کے اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سنگین مقدمات درج کئے گئے مگر آپ نے ہمت نہ ہاری اور سب سے پہلے انتہائی کم عمری میں یونین کونسل کلاب کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ بعد ازاں مسلم لیگ ق کی ٹکٹ پر 2002ء کے انتخابات میں حلقہ NA-183 سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور انہیں حکومت پاکستان نے وفاقی پارلیمانی سیکریٹری وزارت سائنس اینڈ ٹیکنالوجی مقرر کیا گیا اور ساتھ ہی نارکوٹکس کنٹرول و دیگر اسٹینڈنگ کمیٹیز کا ممبر بھی نامزد کیا گیا۔ آپ نے متعدد ممالک میں جاکر پاکستان کی نمائندگی کی اور آپ کو اقوام متحدہ میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز بھی حاصل ہوا۔ آپ نے حلقہ میں گذشتہ 50 سال کی محرومیوں کا ازالہ کرنے کا اعلان کیا اور کافی حد تک ان پر عملدرآمد بھی کرایا۔ علاقے بھر میں بستیوں میں بجلی اور سوئی گیس کی فراہمی اور سڑکوں کا جال بچھایا۔ پھر جب لال مسجد اسلام آباد کا واقعہ رونما ہوا تو آپ واحد ممبر قومی اسمبلی تھے جنہوں نے مشرف کی آمریت کو اسمبلی کے فورم میں ٹھوکر مارکر مستعفی ہونے کا اعلان کیا اور ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی آمریت میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر آپ کے پایہ استقلال میں لغزش نہ آسکی آپ نے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کی پارٹی مسلم لیگ (ن) جوائن کرلی اور میاں نواز شریف کی جلا وطنی کے دوران وطن واپسی پر ائیر پورٹ پر ساتھیوں سمیت گرفتار ہوئے اور پارٹی کیلئے قربانیاں دیں۔ 2008ء کے جنرل الیکشن میں حکومتی ایماء پر آپ کے کاغذات نامزدگی مسترد کرائے گئے اور آپ کو مجبور کیا گیا کہ واپس جنرل مشرف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیں مگر مخدوم سید علی حسن گیلانی مرد آہن رہے اور تمام ظلم برداشت کئے مگر جھکے نہیں اسی جرم کی پاداش میں آپ کو الیکشن سے دور کردیا گیا اور آپ الیکشن نہ لڑ سکے لیکن آپ نے حلقہ کی عوام سے رابطہ اور خدمت کا عمل جاری رکھا اور آخر کار 2013ء کے عام انتخابات میں آپ مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر دوبارہ بھاری اکثریت سے ممبر قومی اسمبلی منتخب ہوئے اور آپ نے ابتدائی طور پر اپنا ترقی کا سفر دوبارہ وہیں سے شروع کیا جہاں سے رُکا تھا۔ سینکڑوں کلومیٹر مقامی سڑکیں۔ اوچ ایکسپریس وے کی تعمیر۔ سکھیل، مہند و دیگر دیہاتوں میں سوئی گیس کی فراہمی۔ سینکڑوں دیہاتوں میں بجلی کی فراہمی۔ شہر بھر میں ٹف ٹائلز و سیوریج کا نظام۔ اوچشریف میں میونسپلٹی کا قیام۔ سمیت اہم کام انہوں نے سرانجام دئیے۔ مخدوم سید علی حسن گیلانی کو قومی اسمبلی میں اسٹینڈنگ کمیٹیز برائے داخلہ، کامرس اور سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے علاوہ ممبر نیشنل سیفٹی کمیشن آف پاکستان بھی بنایا گیا۔ آپ نے حلقہ NA-183 میں میاں محمد نواز شریف کی بطور وزیر اعظم۔ میاں محمد شہباز شریف کی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب اور چوہدری سرور کی بطور گورنر پنجاب میزبانی بھی کی اور اپنے حلقہ میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھایا اور آپ کو اگر احمدپورشرقیہ کا ”اَتا تُرک“کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔پاکستان مسلم لیگ نون سے نظریاتی اختلافات اور علاقے کے ترقیاتی کام نہ ہونے کا شکوہ اور وزیراعظم میاں محمد نواز شریف شہباز شریف کے وعدوں پر عمل درامد نہ ہونے پر انہوں نے حلقے کی عوام کے وسیع تر مفاد میں پاکستان پیپلز پارٹی جوائن کر لی اور پاکستان پیپلز پارٹی کی ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے دو حلقوں سے 2018 کا الیکشن لڑا جہاں انہوں نے ایک لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کیے بلاول بھٹو زرداری بھی دو بار ان کی میزبانی میں اوچ شریف تشریف لا چکے ہیں ۔2024 کے عام انتخابات میں انہوں نے دوبارہ الیکشن میں حصہ لیا مگر دانستہ طور پر انہیں ایک سازش کے تحت ہرا دیا گیا جبکہ ان کے ماموں زاد بھائی اور ان کے دست راست مخدوم سید عامر علی شاہ بخاری علی حسن گیلانی کی مومنت اور محبتوں سے اور شریف کی صوبائی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور انہوں نے اور شریف میں ایک بار پھر ترقیاتی کاموں کا بیڑا اٹھایا 60 کروڑ روپے کے ترقی کام انہی کی زیر نگرانی مکمل ہو رہے ہیں اور ابھی مخدوم علی حسن گیلانی کے حادثے سے صرف چند گھنٹے پہلے ہی مخدوم علی حسن گیلانی کے ترقیاتی وی این کے مطابق سید عامر علی شاہ نے وہ شریف میں ریسکیوونون2 کا سینٹر قائم کرایا اور نئی ایمبولنسز وہاں پر لائی گئی مگر کسی کو کیا پتہ تھا کہ چند گھنٹے بعد ہی وہی ایمبولنس جس کا افتتاعت عامر شاہ نے کیا وہی ایمبولینس مخدوم سید علی حسن گیلانی کے جسد خاکی کو اٹھا کر لائے گی ۔مخدوم علی حسن گیلانی کی پہلی شادی مخدوم سید احمد عالم انور سجادہ نشیں و مبر قومی اسمبلی کی دختر سے ہوئی جبکہ ان کی دوسری شادی سابق چیئرمین ضلع کونسل بہاولپور شیخ دلشاد قریشی کی صاحبزادی سے ہوئی مگر ان کی کوئی اولاد نہ ہو سکی اور انہوں نے سید عامر علی شاہ کے فرزند غلام غوث محی الدین کو اپنا بیٹا بنایا ہوا تھا مخدوم سید یوسف رضا گیلانی کے رشتے میں بھانجے تھے مخدوم علی حسن گیلانی کی وفات سے پیدا ہونے والا خلا کبھی پورا نہیں ہوگا ان کی رسم قران خوانی کے موقع پر چیف اف سادات مخدوم سید مزمل ان بخاری گیلانی خاندان کے سجادہ نشین سربراہ مخدوم سید محبوب الحسن گیلانی نے ان کی ماموں ذات بھائی سید عامر علی شاہ ممبر پنجاب اسمبلی کے سر پر کی ۔مخدوم علی حسن گیلانی کی تعزیت کرنے والوں کا تانتا غوث اعظم ہاؤس میں بندہ ہوا ہے جس میں ملک بھر سے ممبران قومی صوبائی اسمبلی افسران کے کی بڑی تعداد تعزیت کے لیے موجود رہتی ہے مرحوم سید علی سن گیلانی کو حضرت غوث بندگی کے احاطہ دربار گیلانیہ میں سپرد خاک کیا گیا صدر پاکستان اصف علی زرداری اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سمیت ملک بھر کی اہم شخصیات نے مرحوم کی وفات پر اظہار تعزیت کیا ہے راکن کا بھی مخدوم سید علی حسن گیلانی سے 24 سالہ دیرینہ پیار اور محبت تھی یتیمی کی گود میں باپ کا سایہ اور ماں کی شفقت سے محروم علی حسن گیلانی کے اندر غریبوں کے لیے انتہائی محبت اور شفقت پائی جاتی تھی ہمیشہ ساری زندگی انہوں نے انسانیت سے پیار کیا اللہ پاک مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت عطا فرمائے


Comments
Post a Comment