جبری مذہب تبدیلی ایک المیہ
جبری مزہب تبدیلی ایک المیہ ت
تحریر شیخ عزیزالرحمان
وہ مجھے گولی مارنے کے لیے بندوق لایا تھا،'' نیہا نے کہا، یہ فقرہ جبری مزھب تبدیلی کا شکار نیہا، اتنی دھیمی آواز میں بتاتی ہے کہ وہ کبھی کبھار ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے چہرے اور سر کے گرد نیلے اسکارف کو مضبوطی سے لپیٹ کر غائب ہو جاتی ہے۔ نیہا کا شوہر اب جیل میں ہے جو کہ کم عمری کی شادی کے لیے عصمت دری کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے، لیکن وہ خوفزدہ ہو کر روپوش ہے، جب سکیورٹی گارڈز نے عدالت میں اس کے بھائی سے پستول ضبط کر لیا۔ جسکا الزام ہے کہ اسے جبری طور پر مزہب تبدیل کرنے پر مجبورکیا گیا۔نیہا ان تقریباً 1,000 لڑکیوں میں سے ایک ہے ( ہیومن رایٹس كمشن آف پاكستان اور (ECSPE org )جو مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھتی ہیں جنہیں پاکستان میں ہر سال اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، زیادہ تر قانونی عمر اور غیر رضامندی سے کم عمر کی شادیوں کی راہ ہموار کرنے کے لیے روزنامہ جنگ كی رپورٹ كے مطابقانسانی حقوق کی تنظیموں کاالزام ہے کہ پاکستان میں ہرسال ایک ہزار غیرمسلم لڑکیوں کا جبری مذہب تبدیل کرکے ان کی شادیاں کی جاتی ہیں تاہم انٹرفیتھ ہارمنی کونسل کو جبری مذہب تبدیلی اورشادی سے متعلق گزشتہ سال 113 جبکہ اس سال صرف تین شکایات موصول ہوئیں جن کوحل کیاجاچکاہے۔ادارہ برائے سماجی انصاف کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جبری مذہب تبدیلی اورشادیوں کے 42 واقعات ہوئے ہیں۔ پاکستان میں اقلیتوں کی جبری مذہب تبدیلی (Forced Religious Conversion) کے بارے میں سرکاری سطح پر مکمل اور جامع اعداد و شمار موجود نہیں ہیں، کیونکہ زیادہ تر کیسز رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں، میڈیا رپورٹس اور تحقیقاتی اداروں کے مطابق کچھ اندازے اور رپورٹس موجود ہیں۔ حالیہ برسوں کے اعداد و شمار
2022: کم از کم 124 کیسز جبری مذہب تبدیلی کے رپورٹ ہوئے۔
81 ہندو لڑکیاں
42 مسیحی لڑکیاں
1 سکھ
ان کیسز میں سے
65٪ سندھ میں
33٪ پنجاب میں
باقی کیسز خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں رپورٹ ہوئےNational) Herald ) 2023 کے قریب اعداد و شمار
ایک رپورٹ کے مطابق 2023 میں کم از کم 136 کیسز جبری تبدیلی یا اغوا کے سامنے آئے: 110 ہندو لڑکیاں26 مسیحی لڑکیاں
زیادہ تر کیسز سندھ اور جنوبی پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔ (ECSPE)
3 طویل المدتی اندازے
انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کے مطابق:
ہر سال تقریباً 1000 کے قریب ہندو اور مسیحی لڑکیاں اغوا یا زبردستی شادی کے ذریعے مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کی جاتی ہیں۔
یہ زیادہ تر کم عمر لڑکیاں (14–18 سال) ہوتی ہیں۔ (Al Jazeera )
2013–2020 کے میڈیا ریکارڈ
Centre for Social Justice (CSJ) کے مطابق:
2013 سے 2020 تک کم از کم 162 کیسز میڈیا میں رپورٹ ہوئے۔
متاثرین میں:
54٪ ہندو
44٪ مسیحی
تقریباً 46٪ متاثرین نابالغ لڑکیاں تھیں (Dawn)
جغرافیائی رجحان
زیادہ تر کیسز درج ذیل علاقوں سے سامنے آتے ہیں:
سندھ: خاص طور پر تھرپارکر، گھوٹکی، عمرکوٹ
پنجاب: بہاولپور، فیصل آباد، لاہور
کچھ کیسز کراچی اور حیدرآباد میں بھی رپورٹ ہوتے ہیں۔) =(Dawn
انسانی حقوق کی تنظیموں کے اندازے کے مطابق اصل تعداد کئی سو سے لے کر تقریباً 1000 سالانہ بھی ہو سکتی ہے کیونکہ بہت سے کیسز رپورٹ نہیں ہوتے۔
پاکستان کی عدالتوں میں جبری مذہب تبدیلی کے اہم کیسز اور فیصلے
ذرائع کے مطابق غیرمسلم لڑکوں کی طرف سے مسلمان لڑکیوں کامذہب تبدیل کرکے شادی کرنے یاپھرانہیں گھرسے بھگانے کے بھی چندواقعات پیش آئے ہیں تاہم ایسے جوڑوں کی شناخت ظاہرنہیں کی گئی ہے۔ کرونا وائس میں لاک ڈاون کے دوران پاکستان میں، مذہبی اقلیتی برادریوں کی لڑکیوں کو اغوا کیا جاتا ہے اور انہیں اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد اکثر زبردستی یا متنازعہ شادیاں کی جاتی ہیں۔متاثرہ لڑکیوں میں سے زیادہ تر کا تعلق بنیادی طور پر ڈان كی رپورٹ كےمطابق 54%ہندو اور44%مسیحی برادریوں سے ہے مجرم عام طور پر مذہبی انتہا پسند ہوتے ہیں، جن میں سے کچھ پاکستان میں انتہائی دائیں بازو کی اسلام پسند سیاسی جماعتوں سے وابستہ ہو سکتے ہیں نیشنل ہیرالڈ كی رپورٹ كے مطابق سال 2023میں 136واقعات رےكارڈ ہوءے جن میں 136 ھندو لركیوں اور 26مسیع لڑكیاں شامل ہیں اسی طرح سال 2022میں 124 كےس رپورٹ ہویے جن میں 81 ھندو 42 مسیعی اور ایك سكھ لڑكی شامل تھی اسکےاسباب پر غور کریں تو انسانی حقوق كے كاركن افتاب الگزینڈر مغل نے )بحوالہ ( ucanews.comکچھ اسلامی اداروں اور علماء پر الزام لگایا گیا ہے کہ وہ مذہب تبدیل کرنے سے انکار کرنے والے ممبران یا اقلیتی گروپوں کو نقصان پہنچانے یا اقتصادی مواقع کو روکنے کی دھمکی دے کر مذہبی اقلیتوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے میں ملوث ہیں۔کچھ زبردستی کی گئی تبدیلیاں اغوا یا پرتشدد دھمکیوں کے نتیجے میں ہوتی ہیں جبکہ دیگر نظامی امتیاز کی وجہ سے ہوتی ہیں جس کا سامنا بہت سے ہندو اپنی پیشہ ورانہ، عوامی اور نجی زندگیوں میں کرتے ہیں، اور بہت سے لوگ مذہب کی تبدیلی کو مذہبی امتیاز اور تشدد سے بچنے کے طریقے کے طور پر دیکھتے ہیں۔چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیر بیورو کی فعال كاركن رخشندہ نازکے مطابق، نوجوان لڑکیوں کی زبردستی تبدیلی ایک پیسہ کمانے کی اسکیم کا حصہ ہے جس میں بدعنوان عوامی اور مذہبی شخصیات شامل ہیں جو کم عمر لڑکیوں کو اسلام قبول کرنے اور پیسے کے بدلے بڑے مردوں سے شادی کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔Jürgen Schaflechner ، ایک ثقافتی ماہر بشریات جو پاکستان میں ہندوؤں پر مہارت رکھتا ہے، انكی كتاب Hinglaj Devi: Identity, Change and Solidification at a Hindu Temple in Pakistan کہ مذہب کی تبدیلی شاذ و نادر ہی مذہبی جوش و جذبے سے متاثر ہوتی ہے، اور اس کے بجائے یہ ایک گہرے پدرانہ معاشرے میں خواتین کو ایجنسی کی کموڈیشن اور انکار کا نتیجہ ہے معروف قانون دان اوابق صدر بار احمد پور مہر شوكت یار خان ایدووكیٹ كے مطابق پاکستان میں اقلیتوں کی جبری مذہب تبدیلی قانونی حقائق، عدالتوں کے فیصلے، پر بات چیت كرتے ہویےكہتے ہیں كہ پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی کے خلاف براہ راست مخصوص قانون نہیں ہے۔
عدالتیں عموماً آئینی مذہبی آزادی، اغوا، جبری شادی اور کم عمر شادی کے قوانین کے تحت ایسے کیسز کا فیصلہ کرتی ہیں تاہم پاکستان کا آئین ہر شہری کو مذہب کی آزادی، عبادت، تبلیغ اور اپنی مرضی سے عقیدہ اختیار کرنے کا حق دیتا ہے، مگر عملی طور پر بعض جبری مذہب تبدیلی، اغوا، زبردستی شادی یا شناختی دستاویزات میں تبدیلی جیسے واقعات نے اقلیتی برادریوں کو انسانی حقوق کے سنگین چیلنجوں کا سامنا کرایا ہے۔ آئینی اور قانونی حقوق کے تحت آئین پاکستان قانون میں ضمانت فراہم کرتا ہے کہ آئین پاکستان كے آرٹیکل 20: ہر شہری کو اپنی پسند کا مذہب اختیار کرنے اور اس پر عمل کرنے کی آزادی دی گئی ہے۔ اسی طرح آرٹیکل 25: قانون کی نظر میں سب شہری برابر ہیں، چاہے ان کا مذہب کوئی بھی ہو۔یہ بنیادی حقوق بین الاقوامی معیارات کے مطابق بھی ہیں، جیسے ICCPR اور CRC جیسی کونونشنز جو پاکستان نے تسلیم کی ہیں۔ چونکہ جبری مذہب تبدیلی کے لیے الگ قانون نہیں ہے، اس لیے عدالتیں عموماً ان دفعات کو استعمال کرتی ہیں:
دفعہ 365-B – اغوا یا زبردستی شادی
کسی عورت کو اغوا کرکے زبردستی شادی کروانا جرم ہے۔
سزا: عمر قید تک ہو سکتی ہے۔
دفعہ 498-B – جبری شادی
کسی عورت کو زبردستی شادی پر مجبور کرنا جرم ہے۔
دفعہ 361 اور 363 – اغوا سزا قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے
نابالغ لڑکی کو اغوا کرنا جرم ہے۔تاہم منارٹی رائٹس کمیشن ایسا ادارہ ہے جو اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور ان کے مسائل کے حل کے لیے حکومت کو مشورے دیتا ہے۔
پاکستان میں سب سے اہم ادارہ National Commission for Minorities (2020) ہے۔
۔ ور کمزوریاں کا زکر کریں تو پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی کے خلاف قومی سطح پر کوئی مکمل نافذ العمل قانون نہیں ہے جو کم عمر افراد یا بالغوں دونوں کو واضح طور پر تحفظ دے۔ایک خصوصی بل— جس میں 18 سال سے کم عمر افراد کی تبدیلی مذہب کو ممنوع قرار دینے، سزا تجویز کرنے اور عدالتوں کیلئے 90 دن میں فیصلہ کا حکم دینے کی شقیں تھیں — *2016 کے بعد عملی طور پر نافذ نہ ہو سکا، اور بعد میں اسمبلیز نے اسے منظور نہیں کیا۔ سندھ میں Criminal Law (Protection of Minorities) Act, 2015 جیسا بل منظور ہوا، جس میں جبری تبدیلی کو جرم قرار دینے کی تجویز پیش تھی، مگر *اس کا موثر نفاذ اور باقی صوبوں میں قانون سازی ابھی تک ناکافی رہی ہے۔ اہم عدالتی فیصلے اور قانونی مباحثہ لاہور ہئیکورٹ کا فیصلہ دیکھیں جس میں سال 2019 میں عدالت نے مسکان نامی 14 سالہ لڑکی کے کیس میں فیصلہ دیا کہ نابالغ بچوں کے پاس قانونی طور پر مذہب تبدیل کرنے کی“صلاحیت”(capacity) نہیں ہوتی، لہذا ایسے معاملات میں عدالت صرف اس تبدیلی کو سماجی/شخصی حیثیت میں قابلِ قبول نہیں مان سکتی؛ جبکہ *اصل مذہب کا حق بطور قانونی موقف محفوظ رکھا گیا۔ اسی طرح پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ میں سماعت2023 میں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت اور متعلقہ اداروں کو نوٹس جاری کیے ایک کم عمر مسیحی بچی‘نایاب گل’کے کیس میں سماعت کے لیے، جو مبینہ طور پر گوجرانوالہ سے اغوا اور جبری تبدیلی مذہب کا شکار ہوئی تھی۔معروف قانون دان وسابق كونسلر محمد ارشد راجپوت ایڈووكیٹ كا كہنا ہے كہ عدالتی تحفظ کے چیلنجز پر ایک نذر ڈالیں توکئی کیسز میں عدالت نے رضامندی کے بظاہر دعووں کو بطور قانونی ثبوت قبول کر لیا، جس پر تنقید بھی ہوئی کہ قانونی اور عمر کے ثبوتوں پر مزید سختی کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں متاثرہ خاندانوں کی حقیقی داستانوں پر غور کریں تو بہاولپو ر کی شاہدہ بی بی کا کیس سال 2025 میں فوجداری عدالت نے شاہدہ بی بی نامی 25 سالہ مسیحی عورت کی جبری مذہب تبدیلی اور شادی کو باطل قرار دیا، اور نادرا کو حکم دیا کہ اس کا شناختی کارڈ بحال کیا جائے اور اس کا اصل مذہب درج کیا جائے۔یہ کیس پاکستان میں ایک مثبت عدالتی مثال کے طور پر دیکھا گیا، جس میں عدالت نے معاشی استحصال، زبردستی تبدیلی مذہب اور غلط شناختی ریکارڈ کے خلاف فیصلہ سنایا اسی طرح سفیان مسیح کے کیس سال 2024
ایک مسیحی نوجوان،سفیان مسیح، کا نام اس کے غیر مسلم شناختی کیس میں مسلمان طور پر درج کر دیا گیا تھا، جس سے اس کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ بعد ازاں عدالت نے قرار دیا کہ یہ“جعلی تبدیلی”تھی، اور سفیان مسیح کو اس کا اصلی مذہب والا شناختی کارڈ دیا گیا۔یہ مثال دکھاتی ہے کہ *رسمی غلطیوں اور دھوکے بازی کے خلاف بھی عدالتیں ضمانت فراہم کر سکتی ہیں۔ متعدد غیر رسمی واقعات بھی اس ضمن میں دیکھنے میں آتے ہیں کہ یواین نیوز كے مطابق اقوام متحدہ کے ماہرین نے 2023 میں 13 سے 16 سال کی نابالغ لڑکیوں کے اغواء، جبری مذہب تبدیلی اور شادیوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا تھا۔ انسانی حقوق تنظیموں میں ایسے 16-17 سالہ لڑکیوں کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جہاں اغوا، زبردستی مذہب تبدیلی اور شادی جیسے الزامات شامل تھے — جیسے کرینا کماری کا واقعہ جس میں عدالت نے بعد میں اسے والدین کے پاس واپس پیش کروایا۔موجودہ چیلنجز اور رجحانات قانونی خلاچند بلوں کی منظوری ناکام رہی، جس سے پارلیمانی کمیٹیاں نے 2020-2021 میں متعدد بلوں کو مسترد کیا — بعض نے دعویٰ کیا کہ اس سے *قانون و مذہب کی فضا خراب ہوگی۔
انسانی حقوق اور معاشرتی مسائل پولیس اور عدالتی تعامل
بعض اوقات متاثرین کے خاندانوں کا کہنا ہے کہ پولیس یا مقامی عدالتیں ثبوتوں کے بغیر یا بظاہر رضامندی پر مقدمات ختم کر دیتی ہیں، جس سے متاثرین کو انصاف تک رسائی مشکل ہو جاتی ہے۔بچوں کےحقوق و تحفظ سال 2025میں نیشنل کمیشن ان دع رائٹس آف چلڈرن (NCRC) نے ایک 14 سالہ لڑکے کے کیس میں حکومت پنجاب سے انٹرون ہونے کا مطالبہ کیا، جس میں الزام تھا کہ اسے اغوا کر کے تبدیلی مذہب اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ واقعہ بچوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اس سلسلے میں صوبائے وزیر اقلیتی امور سردار رامیش سنگھ اروڑا صاحب نے راقم سے ملاقات کے دوران تسلیم کیا کہ پاکستان میں اقلیتوں کی جبری مذہب تبدیلی ایک پیچیدہ اور متنازع موضوع ہے جسكا فی الحال وزارت انسانی حقوق و اقلیتی امور (Human Rights & Minority Affairs Department)، حکومتِ پنجاب کی طرف سے جبری مذہب تبدیلی (forced religious conversions) کے حوالے سے کوئی واضح سرکاری اعداد و شمار یا مکمل ڈیٹا عوامی طور پر شائع نہیں کیا گیا ہے تاہم آئینی حقوق موجود ہیں، مگر مضبوط قانون سازی اور ثبوت پر مبنی عمل درآمد کی کمی ہے۔عدالتوں نے کچھ مثبت فیصلے دیے ہیں، مگر ہر کیس میں فریقین اور قانونی شواہد کی تشخیص میں فرق بھی آتا ہے۔متاثرہ خاندانوں کی کہانیاں انسانی اور قانونی مسائل کو واضح کرتی ہیں، خصوصاً نابالغوں کے حقوق کے معاملے میں۔قومی اور صوبائی سطح پر قانون سازی کی کوششیں موجود ہیں، مگر سیاسی، سماجی اور مذہبی دباؤ اس میں رکاوٹ بنتا رہا ہے۔مگر ہماری حکومت اس سلسلے میں پر امید ہے کہ وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف صاحبہ کی قیادت میں مینارٹی کے لئے پنجاب کی تاریخ مین پہلی بار جدت سے اقدامات کئے جا رہے ہیں مریم نواز شریف کی حکومت میں اقلیتوں کے لیے اہم اقدامات میں مینارٹیز کارڈ، مذہبی تہواروں کے فنڈز میں اضافہ، عبادت گاہوں کی بحالی، ترقیاتی بجٹ، سکھ میرج ایکٹ اور سماجی تحفظ کے پروگرام شامل ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد پنجاب میں اقلیتی برادریوں کو معاشی مدد، مذہبی آزادی اور سماجی تحفظ فراہم کرنا ہے تاہم مریم نواز شریف کے دور میں اقلیتوں کے لیے کئی فلاحی اقدامات ہوئےلیکن جبری مذہب تبدیلی کے خلاف مخصوص قانون ابھی تک پنجاب میں پاس نہیں ہوا۔اس مسئلے پر قانون سازی کی ضرورت اور مطالبہ بدستور موجود ہے۔ جسکے مثبت نتائیج برآمد ہونگے پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی کا مسئلہ گزشتہ کئی برسوں سے انسانی حقوق کی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔ بالخصوص اندرونِ سندھ اور جنوبی پنجاب میں اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والی کم عمر لڑکیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے کیسز نے قومی و بین الاقوامی سطح پر تشویش کو جنم دیا ہے۔ آئینِ پاکستان مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے، تاہم عملی سطح پر اس کے نفاذ کے حوالے سے سوالات اٹھائے جاتے رہے ہیں۔معروف قانون دان اور بار ایسوسیشن کی سابق جنرل سیکریٹری میڈم پروین عطا ء ملک
ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئینی و قانونی تناظر میںآئینِ پاکستان کا آرٹیکل 20 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کی آزادی دیتا ہے۔ تاہم کم عمری کی شادی، رضامندی کے تعین، اور تبدیلی مذہب کے عمل کے قانونی معیار پر واضح قانون سازی نہ ہونے کے باعث کئی کیسز پیچیدہ صورت اختیار کر لیتے ہیں۔عدالتوں نے بعض مقدمات میں قرار دیا کہ اگر کوئی فرد بالغ ہے اور اس نے آزادانہ طور پر مذہب تبدیل کیا ہے تو اسے تحفظ فراہم کیا جائے گا، تاہم کم عمر بچیوں کے کیسز میں عدالتیں عمر کے تعین اور رضامندی کے سوال پر تفصیلی سماعت کرتی رہی ہیں۔ کچھ فیصلوں میں بچیوں کو دارالامان منتقل کیا گیا جبکہ دیگر میں شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت دی گئی، جس سے قانونی یکسانیت کا سوال بھی پیدا ہوتا ہے۔ معروف سماجی اور انسانی حقوق کے ماہر راہنما حمیرا شریف کا مؤقف ہے کہ اس مسئلے کو محض مذہبی تناظر میں نہیں بلکہ سماجی اور قانونی فریم ورک میں دیکھنا ہوگا۔اس مسئلے کو صرف مذہبی بحث بنا دینا اصل سماجی وجوہات سے توجہ ہٹانے کے مترادف ہے۔ممبر پنجاب اسمبلی پی پی پی مخدوم سید عامر علی شاہ کے مطابق: زیادہ تر کیسز میں غربت، سماجی دباؤ اور طاقت کا عدم توازن بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ مسلم لیگ نون کے ممبر پنجاب اسمبلی صاحبزادہ محمد گزین خان عباسی نے اس سلسلے میں کہا کہ ''اکثر متاثرین کم عمر لڑکیاں ہوتی ہیں، اس لیے یہ معاملہ خواتین اور بچوں کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ عدالتوں کو چاہیے کہ ایسے کیسز میں نفسیاتی ماہرین اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں کی رائے بھی شامل کریں۔'' اور ہماری حکومت اس سلسلے میں بہت کام کر رہی ہےجنوبی پنجاب کے سرگرم اقلیتی حقوق کارکن اور سابق ممبر ضلع کونسل بہاولپور جیلا رام مینگوال کا کہنا ہے:۔دیہی علاقوں میں بااثر افراد کا دباؤ اور سماجی خوف تحقیقات کو متاثر کرتا ہے۔ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کو غیر جانبدارانہ اور شفاف کارروائی یقینی بنانی چاہیے۔''سوشل پالیسی ماہر چوھدری طارق مجید و سابق مشیر وزیراعلی پنجاب چوہدری پرویزالہی اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں:؛حکومت کو مستند اور شفاف اعداد و شمار جاری کرنے چاہئیں تاکہ پالیسی سازی قیاس آرائیوں کے بجائے حقائق کی بنیاد پر ہو سکے۔''چوہدری طارق مجید نے مزید كہا كہ اس مسیلے پر ممکنہ حل اور سفارشات مرتب کی گئی تھی کہ ماہرین کے مطابق درج ذیل اقدامات مسئلے کے حل میں مددگار ہو سکتے ہیں:کم عمری کے تعین کے لیے واضح اور یکساں قانونی معیارہو،تبدیلی مذہب کے لیے عدالتی نگرانی اور کولنگ آف پیریڈ ضروری ہے۔متاثرہ بچوں کے لیے محفوظ شیلٹر ہومز اور نفسیاتی معاونت کی جائے؛ معروف عالم دین اورسجادہ نشین دربار مولانا محمدمحسن فیضی کی رائے ہے کہ تمام سماجی ادارے اور مزہبی سکالرزبین المذاہب مکالمے اور سماجی ہم آہنگی کا فروغ دیں جس سے اس مسیلے کے حل کی قوی امید ہے۔





Comments
Post a Comment