بطوروفاقی وزیر حج مشن میں 17 ارب روپے کی رقم واپس حاجیوں کو دلوائی ۔سابق وفاقی وزیر مذہبی امور وموجودہ سینٹر طلحہ محمود
بطور وفاقی وزیر حج مشن میں 17 ارب روپے کی رقم واپس حاجیوں کو دلوائی ۔سابق وفاقی وزیر مذہبی امور وموجودہ سینٹر طلحہ محمود سے خصوصی گفتگو
انٹرویو ۔شیخ عزیز الرحمن
سابق وفاقی وزیرطلحہ محمودکاشمار پاکستان کے ان چند گنے چنے سیاست دانوں میں ہوتا ہے جن پر کرپشن کا کوئی الزام عائد نہیں ہے اور انہوں نے جہاں جہاں بھی سیاست کی وہاں وہاں پر خدمت کو اپنا وطیرہ بنایا یکم نومبر 1960 کو خیبر پختون خواہ کے علاقہ ہزارہ ڈویژن میں جنم لینے والے طلحہ محمود سن 2006 میں سینٹ اف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے اور پھر دوبارہ ری الیکشن کے دوران 2012 میں بھی دوبارہ سینیٹر منتخب ہوئے اپ جمعیت علماء اسلام فضل الرحمن گروپ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر بھی رہے جبکہ سینٹ میں اپ نارکوٹس کنٹرول اور وزارت داخلہ کی جانب کی بنائی گئی سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی کے چیئرمین بھی رہے علاوہ ازیں اپ سینٹ کی مختلف اہم کمیٹیوں کے رکن رہے جس میں سینٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی ان کیبنٹ سیکٹریٹ اور کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ پیٹرولیم اینڈ قدرتی وسائل اور منسٹری اف فائنانس بھی شامل ہے سن 2018 میں اپ دوبارہ سینٹ کے رکن منتخب ہوئے سینٹر تلا محمود سیاست کے علاوہ سماجی خدمت کو عبادت کا ذریعہ سمجھتے ہیں انہوں نے اپنے اسان کی فاؤنڈیشن علاقے بھر میں خصوصا خیبر پختون خواہ کے مختلف علاقوں ڈیرہ اسماعیل خان چار سدہ نوشہرہ مردان ہری پور ایبٹ اباد کوہستان تر گڑ بٹ گرام چلاس اور گلگت بلتستان میں بھی بھرپور خدمات انجام دے رہی ہے مشن کی تکمیل کے لیے طلحہ محمود فاؤنڈیشن قیام عمل میں لایا
گزشتہ دنوں سینٹر طلحہ محمود نے
پی ایف یوجے(دستور) کے مندوبین کے اعزازمیں ظہرانہ دیا جس میں مرکزی صدر محمد نواز رضا سمیت ملک کے طول و عرش ائے ہوئے سینیئر ممبران نے شرکت کی بہاولپور ضلع سے سینیئر صحافی اور سابق قائم مقام صدر جناب سعید احمد ایف ای سی کے ممبر جناب ریاض احمد خان بلوچ اور راقم شیخ عزیز الرحمن نے بطور خاص شرکت کی اشائے زہرانے کے بعد سینیٹر طلحہ محمود سے حقیقت میگزین کے لیے شیخ عزیز الرحمن نے خصوصی انٹرویو کیا جو قائرین کی نظر ہے سینیٹر طلحہ محمود نے کہا کہ
میڈیاسیاست میں جرائم پیشہ عناصر کی حوصلہ شکنی کرے ۔
ناجائز پبلسٹی کے باعث مشکوک لوگ ایوانوں میں پہنچ جاتے ہیں
حکومت کا اصل حلقہ تاجربرادری ہے ان کوحقارت کی نظر سے نہ دیکھے انہوں نے کہا کہ میڈیا کو سیاست میں جرائم پیش،معاشی بحران کو حل کرنے میں تاجربرادری کی صلاحیت کا ادراک کیا جائے،تاجربرادری کے تعاون ہی سے ترقی وخوشحالی کو یقینی بنایا جاسکتا ہے ،سیاسی جماعتیں خاندانی جماعتیں بنتی جارہی ہیں،جرائم پیشہ عناصرکا ایوانوں میں آنے سے راستہ روکنا ہوگا،قربانی کے لئے ہر بار عوام کو کڑواگھونٹ پینے پر مجبور کیا جاتا ۔سابق وفاقی وزیرطلحہ محمود نے کہا ہے کہ قومی معاملات پر سیاست میں سچ بولنا مشکل بنادیا گیا پارٹی پالیسی کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے جب کہ سیاسی جماعتیں خاندانی مفادات کے گردمحدود ہوکررہ گئی ہیں ۔ انھوں نےایک سوال کے جواب میں کہا کہ میڈیا کو چاہیئے کہ وہ سیاست میں جرائم پیشہ افراد کی نہ صرف نشاندہی کریں بلکہ ان کا محاسبہ بھی ہوناچاہیے۔سیاست کو کاروبار بناکررکھ دیا گیا ۔انھوں نے کہا کہ میڈیا چاہے کہ سیاسی مشکو ک افرادکو کہیں پزیرائی نہ ملے سیاسی جماعتوں کو سچ کو برداشت کرنا چاہیے اور ان جماعتوں میں جو لوگ جو قابلیت رکھتے ہیں اس حوالے سے اس کی صلاحیت سے ملک و قوم کے لئے فائدہ اٹھایا جائے۔انھوں نے اپنی دور وزارت میں حج و عمر ہ کے لئے اصلاحات سے بھی آگاہ کیا اوران کو مذہبی امور کی وزارت کے بارے میں سخت تشویشی اظہار کے سلسلے میں انہوں نے جواب دیا کہ میں نے اپنے دور وزارت میں بطور وفاقی وزیر مذہبی امور خود اپنی ٹکٹ پر حج کیا اور اس سلسلے میں میں نے تمام سرکاری بغیر سرکاری افراد کو سرکاری خرچے پر حج کرنے سے منع کر دیا اور روایتی طریقہ کار سے ہٹ کر باقاعدہ حاجیوں کے لیے بھرپور کوشش اور کاوش کی جس کے نتیجے میں 17 ارب روپے کی خطیب رقم حج مشن سے بچ گئی جو میں نے بہت سی سیاسی و مقتدر شخصیات کے کہنے کے باوجود واپس حاجیوں میں تقسیم کرا دی جو میرا جرم بن گئ اور اس سے اشرافیہ ناراض ہو گئی اور مجھے بہت سا دباؤ برداشت کرنا پڑا سینیٹر طلحہ محمود مفتی عبدالشکور کے کار ایکسیڈنٹ کی وفات کے بعد وفاقی وزیر مذہبی امور جب تعینات ہوئے تو انہوں نے اپنے عہدے سے پورا پورا انصاف کرتے ہوئے بھرپور دن رات کاوش کی انہوں نے پہلے پیل منسٹری کے افیشل سے خصوصی ملاقات کی اور حجاج کرام کو بہترین حج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے خصوصی ڈائریکٹو جاری کیا سینیٹر طلحہ محمود نے بطور وفاقی وزیر اس وقت کے سعودی ایمبیسڈر پاکستان نوافل بن سعد المالکی شیخ خصوصی ملاقات کی اور روڈ ٹو مکہ پروجیکٹ کے حوالے سے کافی پیشرفت کی 25 اپریل کو انہوں نے سعودی ٹرمینل کو سعودی حکام کے حوالے کیا بعد اذاں انہیں سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین مقرر کیا گیا تو انہوں نے عوام و بزنس کمیونٹی کے لئے بحثیت چیئرمین سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ خدمات کو بھی اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بہت پہلے ہم نے قائمہ کمیٹی کے توسط سے مہنگی بجلی کی نشاندہی کردی تھی اور اس حوالے سے رپورٹ موجودہے آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں پر بھی شورشرابا کیا تھا سفارشات حکومت کو دیں مگر عوام پر بجلی کے بھاری بلز مسلط کئے جاتے رہے اب تو مہنگی بجلی کی وجہ سے کاروبار فیکٹریاں بندہورہی ہیں جب کہ حکومت کا اصل حلقہ تاجربرادری ہے اسے حقارت کی نظر سے نہ دیکھے ترقی وخوشحالی کے لئے کوئی ریاست حکومت تاجربرادری کے کردار سے انکار نہیں کرسکتی ، مزید معاشی تباہی سے بچاؤ ممکن ہے اگر تاجربرادری کو حکومت کچھ سمجھے تو ٹیکسوں کا بوجھ کم جائے ۔یقیناً پورا ٹیکس لیں مگر انصاف کے تقاضے مدنظر رکھیں، بڑے طبقات کوٹیکس نیٹ میں لائے۔مراعات یافتہ طبقہ کو کب تک نوازتے رہیں گے، اضافی ٹیکسوں کے حوالے سے ہر بار عوام کو کڑواگھونٹ پینے پر مجبورکیا جاتا ہے ۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کی بحالی کے لیے فائنانس میں صرف معشت سے فائنانس کا علم رکھنے والے بندے کو تعینات کرنے سے مسائل حل ہو سکتے ہیں پاکستان کے ملک کی تباہی کی وجہ سیاست دانوں کو اپنے خاندان کی خاطر مطلوب ہوتی ہے اور اس میں ہماری اشرافیہ ہمیشہ صرف اپنے خاندان اور اپنے بارے میں سوچتی ہے جس کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر پا رہا انہوں نے کہا کہ فنانس منسٹر کے سابقہ دور میں ہم نے دن رات محنت کر کے نئی سفارشات مرتب کی تھی جن پر عمل درامد ہونے سے ملکی معیشت میں بہتری ا سکتی ہے انہوں نے کہا کہ میں ہمیشہ حق کی بات کرتا ہوں اور اس میں بہت سارے اختلافات بھی ہمیں سینے پڑتے ہیں مگر حق کی بات کہنا کوئی جرم نہیں ہے اور اس پر میں ساری زندگی پابند رہوں گا ۔سینٹر طلحہ محمود کا دسترخوان کافی وسیع ہے ان کے علاقے کے لوگوں اور ملک کے دھول و عرض سے انے والے سائلوں کے لیے باقاعدہ انہوں نے اسلام اباد کے پاؤں ش علاقے میں بھرپور ریسٹ ہاؤس ٹائپ بنایا ہوا ہےانٹرویو کے دوران سینٹر طلحہ محمود نے بہت ساری اہم باتوں سے پردہ اٹھایا بلا شبہ سینٹر تالا محمود پاکستان کی سیاست میں ایک خوشنما ستارے کی مانند ہیں جن کے قول و فعل میں کوئی تضاد نظر نہیں اتا
.jpg)
Comments
Post a Comment