وسیب کی ایک اور جوڑی ٹوٹ گئی
وسیب کی ایک اور جوڑی ٹوٹ گئی
استاد عاشق حسین خان بھی داغ مفارقت دے گئے 💥
تحریر شیخ عزیز الرحمن احمد پور شرقیہ
کلاسیکل اور فوک گائیگی میں سرائیکی وسیب میں بہت سی جوڑیوں نے نام پیدا کیا اور انہوں نے پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں اپنے نام اور اپنی اواز کا سکہ جمایا ممتاز خانم اور حسینہ بیگم کی جوڑی کو کون نہیں جانتا کہ حسینہ ممتاز وسیب کی ایک دل فریب اواز تھی اسی طرح مستانہ پروانہ دو بھائیوں کی جوڑی نے قومی سطح پر اپنا نام روشن کیا معروف سرائیکی گیت ؛؛جتی تیڈی چیخ مچیکا وچ تلے دی دھار وے ؛؛ گانے سے عالمی شہرت رکھنے والے استاد رمضان حسین خان اور استاد عاشق حسین خان کی جوڑی کو روہی کی سریلی جوڑی قرار دیا جاتا گزشتہ دنوں استاد عاشق حسین خان کی فوتگی کی خبر فن گائیگی کے شائقین پر ایک بجلی کی طرح گری استاد عاشق حسین خان سرائیکی وسیب کا ایک بہت بڑا نام تھا 1970 کی دہائی میں عاشق حسین رمضان حسین نے ریڈیو پاکستان میں اپنی اواز کا سحر جگایا استاد عاشق حسین خان کے والد محمد دین خان خود ایک بہت بڑے کلاسیکل گائک تھے اور انہوں نے موسیقی کی تعلیم اپنے بڑے چچا حاجی احمد دین سے حاصل کی وہ نواب اف بہاولپور کے شاہی موسیکار تھے بتایا جاتا ہے کہ نواب اف بہاولپور صبح کے اوقات میں استاد محمد دین خان کی اواز اس جادو کے ساتھ ہی اپنی نیند سے اٹھا کرتے تھے جو بنیادی طور پر ایک قوال تھے انکے اباؤ اجداد قلعہ ڈراور سے ملحقہ ابادی میں ہیں اب بھی ان کی حویلی کے اثار موجود ہیں جو کہ استاد عاشق حسین خان کی پیدائش ڈیرہ نواب صاحب کی ہے ان کے خاندان نے ایک بہت سے سریلے گلوکار پیدا کیے مائی اللہ وسائی ایک بہت بڑا نام جو نواب بہاولپور کی شاہی مغننیہ بھی تھیمائی اللہ وسائی کے خاندان نے بہت سے گلوکار پیدا کیے اسی خاندان کا ایک چشم و چراغ استاد عاشق حسین خان کاچولستان یا ڈیرہ نواب میں بیٹھ کر موسیقی سیکھنا یا اس کو اگے بڑھانا ایک اسان کام نہیں تھا اس لیے اس خاندان نے ترک سکونت اختیار کر کے سمہ سٹہ خانقاہ شریف کے علاقے میں اپنی رہائش رکھی عاشق حسین خان کے والد چھ بھائی اور ان کی ایک بہن تھی جو سب اللہ کو پیارے ہو گئے ان کے چچا حاجی احمد خان بہت اعلی درجے کے گائک تھے اور کلاسیکل موسیقی کے بہت بڑے استاد تھے اسی خاندان کے ایک بزرگ محمد عثمان کی اولاد سے برکت علی خان مولائی غلام رسول خان علی خان اور ایک بیٹا ان کا امید علی بھی نام کمایا اور یکے بعد دیگرے لقمہ اجل بنتے گئے انہی کے خاندان کی ایک خاتون شازیہ ناز عرف بے بہا موسیقی کے میدان میں اب بھی موجود ہیں اور خوبصورت انداز میں کافی کی گائیگی کرتی ہیں ان کے بزرگ فقیر بخش یوں تو ٹیلر ماسٹر تھے لیکن طبلہ بجانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ان کی اولاد میں ایک بیٹا حسین خان موسیقی کی طرف ایا جو باپ کی طرح ایک بڑا نام کمانے میں کامیاب رہا استاد حسین بخش خان محمد دین خان کے فرزند تھے اور پانچ بھائیوں اور ایک بہن پر مشتمل ان کا خاندان تھا استاد عاشق حسین خان نے موسیقی کی دنیا میں ایک بڑا نام پیدا کیا ان کی دو بیٹیاں بڑی بیٹی شریں کنول اور چھوٹی کرن افرین بہت خوبصورت انداز میں گاتی ہیں یوں لگتا ہے کہ موسیقی والے خاندان کے اثرات ان کے خون میں بدرجہ اتم موجود ہیں استاد عاشق حسین خان کے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں بہن بھائی میں ممتاز بیگم سب سے بڑی ہیں ان کی صرف ایک بیٹی ہے جو موسیقی کی طرف نہیں ائی اسی طرح عاشق حسین خان کی سن پیدائش 1947 بتائی جاتی ہے اور اس دور میں نوجوانوں میں ڈرامہ پارٹی جسے سرائیکی زبان میں نٹ پارٹی کہا جاتا تھا ان کے ساتھ انہوں نے اپنی ایفیلیشن کی اوراس وقت عاشق حسین خان کی نانی ماڑواڑی بولتی تھی مگر استاد عاشق حسین خان کو سرائیکی کے علاوہ ماڑواری پر عبور حاصل نہ ہو سکا استاد عاشق حسین رمضان حسین کی جوڑی کا 1974 کہ اوائل میں ان کا مشہور زمانہ سرائکی گیت ;;چھترے پدر تے بہ کر دل لٹوائی ہم وے۔;; نے انہیں فن کی بلندیوں پر پہنچا دیا استاد عاشق حسین خان موسیقی کے شاہی گھرانہ میر عالم سے تعلق رکھتے تھے ان کے کزن استاد رسول بخش خان فریدی ریڈیو پاکستان بہاولپور کے ایک بہت بڑے کمپوزر گزرے ہیں استاد عاشق حسین خان کافی عرصہ سے بیماری کا شکار تھے اور انہوں نے حکومت وقت سے متعدد بار امداد کی توجہ بھی طلب کی مگر روایتی بے حسی اور وسیبی فنکاروں کے ساتھ روایتی بے اعتنائی کی وجہ سے ان کے علاج کے لیے حکومت نے ایک روپے کی بھی مدد نہ کی اب یہ جوڑی ٹوٹ گئی جس کا دوسرا ساتھی استاد رمضان حسین خان بفضل تعالی زندہ اور حیات ہیں اپ حافظ قران بھی ہیں اور ریڈیو پاکستان ملتان اور بہاولپور سے وابستہ رہے اور ڈبل اے کیٹگری رکھنے والے فنکار ہیں استاد رمضان حسین خان کے والد حافظ محمد فاضل گوالیار گھرانے کے معروف استاد امید علی خان کے والد پیارے خان صاحب کے شاگرد خاص تھے ۔استاد عاشق حسین خان کے اخری ایام میں بھی استاد رمضان حسین خان نے ان کی بھرپور مدد کی اسی طرح اگر ہم دیکھیں تو 1973 میں ریڈیو ملتان سے بلند ہونے والی اواز دو برادران جمیل پروانہ اور نصیر مستانہ نے ملکی سطح پر اپنی شہرت کا سکہ جمایا ان دونوں بھائی فنکاروں نے پاکستان کے بہت بڑے حکمرانوں ذلفقار علی بھٹو محمد خان جنیجو محترمہ بے نظیر بھٹو میاں محمد نواز شریف اور پرویز مشرف کے سامنے بھی اپنے فن کا مظاہرہ کیا کچھ سال قبل نصیر مستانہ بھی انتقال فرما گئے اور اس کے بعد جمیل فرمانا اور نصیر مستانہ کی کامیاب جوڑی ٹوٹ گئی اب بھی نصیر مستانہ کے لاکھوں پرستار موجود ہے اسی طرح سرائیکی وسیب میں ممتاز خانم سرائکی وسیب کی پری چہرہ اور خوش اواز گلوکارہ ممتاز خانم نے 30 سالوں تک عوام کے دلوں پر راج کیا حسینہ ممتاز کے جوڑی کے بعد نجمہ ممتاز کی جوڑی نے بھی اپنا بہت سا نام روشن کیا ممتاز خانم کا اوریجن احمد پور شرقیہ ہے اور ان کا تعلق حکمران عباسیہ خاندان کے دربار سے وابستہ شاہی سنگیت گار خاندان سے تھا جب ریڈیو پاکستان بہاولپور میں قائم نہیں ہوا تھا جب بھی یہ ملتان ریڈیو ملتان سے گاتی تھی پہل یہ اکیلے اکیلی گاتیں تھی پھر جب ریڈیو پاکستان بہاولپور کا اسٹیشن قائم ہوا تو حسینہ خانم کے ممتاز کے ساتھ جوڑی نے گانا شروع کیا اج بھی ریڈیو پاکستان میں ان سرائیکی وسیب کی عظیم جوڑیوں کی بہت سی گائے گی ٹیپ ریکارڈر والی کیسوں اور لائبریری میں موجود ہے عظیم گلوکارا کی جوڑی ٹوٹتے وقت ممتاز خانم 21 جولائی 2012 کو اپنے ابائی گھر بھٹو نگر احمد پور شرقیہ میں اللہ کو پیاری ہو گئی ان تمام صورتحال پر اگر دیکھا جائے تو سرائیکی وسیب کے عظیم گلوکار ایک ایک کر کر سرائیکی ورثے میں اپنا حصہ ڈالتے ہوئے لقمہ اجل بن رہے ہیں مگر حکومتی توجہ اب بھی ان کی طرف نہیں ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ہمارے انے والی نسلیں باقی زندہ رہنے والوں کو زندگی کی توانائیوں کا ایندھن فراہم کریں اور عالمی ادارے سرائیکی گلوکاری کے ان بے بہا خزینوں کو ایک نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے نئی نسل تک منتقل کریں ورنہ ایک دور ائے گا کہ ہماری انے والی نسلیں ہمارے اکابرین کی طرح ہمارے عظیم گلوکاروں کو بھی نہیں پہچانیں گی۔

Comments
Post a Comment