مر جاواں گڑ کھا کے 🙂
مر جاواں گڑ کھا کے 🔥گڑ کا استعمال ہماری عظیم روایات کا مظہر ۔
تحریر شیخ عزیز الرحمن 💥
گڑ کی پیداوار پاکستان کی زراعت کا اہم حصہ ہے اور اج کل ہر بڑے ہوٹل میں گڑ سے تیار ہونے والی چیزوں کو بطور سوغات استعمال کیا جاتا ہے متعدد بیماریوں اور جسمانی کمزوری کو دور کرنے کے لیے دیسی گڑ میں مختلف اشیاء ملا کر حکما ءحضرات اور ماہرین غذا بھی اس کو ترجیح دیتے ہیں جیسا کہ دیسی گڑ اور سفید تل کو ملا کر کھانے سے معجزاتی خوبیاں سامنے اتی ہیں پاکستان میں گڑ، جو چینی کا غیر ریفائنڈ متبادل ہے، خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ خاص طور پر خیبر پختونخوا کے علاقوں جیسے مردان، چارسدہ، پشاور، اور ڈی آئی خان میں بڑے پیمانے پر تیار کیا جاتا ہے۔جب کہ پنجاب کے مختلف نشیبی علاقوں میں بھی گرنے کی کاشت کے بعد دیسی طریقے سے گڑ تیار کیا جاتا ہے یہاں کاگڑ نہ صرف ذائقے میں منفرد ہے بلکہ افغانستان اور وسطی ایشیائی ممالک میں بھی پسند کیا جاتا ہے۔
پاکستان میں سالانہ تقریباً 1.5 ملین ٹن گڑ تیار کی جاتی ہے۔ یہ گڑ روایتی طریقوں سے چھوٹے یونٹس، جنہیں "گنی" کہا جاتا ہے، میں بنایا جاتا ہے۔ گنے کے رس کو نچوڑ کر اُبالا جاتا ہے اور پھر بلاکس کی شکل میں جمایا جاتا ہے۔
گڑ کی پیداوار نہ صرف دیہی معیشت کو مضبوط کرتی ہے بلکہ مقامی استعمال اور برآمدات کے لیے بھی اہم ہے۔ گڑ کی تیاری میں محنت شامل ہے، لیکن اس کی غذائی اہمیت اور ذائقہ اسے مقبول بناتے ہیں۔
گڑ کی اس ثقافتی ورثے کو محفوظ رکھنا اور اس کی پیداوار کو بڑھانا نہ صرف ہماری معیشت بلکہ ہماری ثقافت کے لیے بھی فائدہ مند ہے
گڑ اور تلوں کو ملا کر ایک ایسا آسان علاج بتایا جاتاہےکہ جن کے استعمال سے نہ صرف خطرناک بیماریاں فوری طور پر ٹھیک ہوجائیں گی بلکہ آپ کے جسم کو مچھلی ، مٹن ،گوشت اور دودھ سے زیادہ طاقت ملے گی۔
گڑ معجزاتی خوبیاں رکھتا ہے۔ گڑ ہمارے معدے کے لیے فائدہ مند خوبیاں رکھتا ہے۔ گڑ نہ صرف ہمارے جسم سے زہریلے مادوں کی صفائی کرتا ہے بلکہ کھانا کھانے کے بعد گڑ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا چوس لیاجائے تو کھایا پیا سب ہضم ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ فالتو چربی ختم کرنے اور کولیسٹرول کرنے اور خون کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گڑ اور تلوں کا استعمال ضرور کریں۔ کیونکہ یہ علاج کیلشیم اور پروٹین سے مالا مال ہوتاہے۔
سردیوں میں گڑ اور تلوں کو اگر ایک خاص طریقے سے استعمال کیا جائے تو کمزور جسم مضبو ط اور تمام پوشیدہ کمزوریاں ختم ہوجاتی ہیں۔ حمل کے بعد خواتین کو گڑ اور تل کے لڈو بنا کر ضرور کھلائیں حمل کی تمام کمزوریاں ٹھیک ہوجائیں گی۔
ایک تحقیق کے مطابق سفید چینی کا استعمال انسانی صحت کیلئے خطرات کا گڑھ ہے، یہ انسانی صحت کیلئے متعدد مسائل کا سبب بن سکتی ہے۔
طبی ماہرین نے ’گڑ‘ کو ریفائنڈ سفید چینی کا متبادل قرار دیا ہے، یہ نہ صرف مٹھاس میں لذیذ ہے بلکہ انسانی صحت کیلئے بھی بہت مفید ہے۔
گڑ کا استعمال اپنی غذائیت کی وجہ سے تیزی سے مقبول ہورہا ہے، طبی ماہرین اسے ’سپر فوڈ مٹھاس(Super Food Sweet)‘ کہتے ہیں۔
یہ زمانہ قدیم سے بھارت ،بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال اور پاکستان میں بڑے پیمانے پر استعمال کیا جارہا ہے۔
روزمرہ کی بنیاد پر گڑ اور گڑ سے بنی چینی کا استعمال انسانی صحت کو یہ فوائد فراہم کرسکتے ہیے
شوگر کے شکار افراد کھجور یا گڑ کی ایک مخصوص مقدار استعمال کر سکتے ہیں۔ آئرن، میگنیشیم اور پوٹاشیم سے بھرپور یہ گڑ ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کی خاصیت رکھتا ہے۔
کھانسی کا علاج،
ادویاتی اجزا سے بھرپور یہ گڑ موسمی نزلہ زکام سے چھٹکارا حاصل کرنے میں انتہائی مفید ہے۔
یہ جہاں گرم موسم میں ٹھنڈک پہنچاتا ہے تو وہیں سردیوں میں یہ سانس کی مختلف بیماریوں کا مقابلہ کرنے میں بھی مدد کرتا ہے۔
وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد کیلئے گڑ کا استعمال ایک بہترین انتخاب ہے، گڑ نہ صرف میٹابولزم کو تیز کرتا ہے بلکہ اضافی فیٹس(چربی) کو بھی ختم کرتا ہے۔
میٹھے کے شوقین افراد کھانے کے بعد کسی میٹھی چیزکے بجائے گڑ کا ایک ٹکڑا کھانے کی عادت کو اپنا معمول بنائیں۔
نظامِ ہاضمہ میں بہتری،
روزانہ کی بنیاد پر گڑ کھانا انسانی جسم سے زہریلے مادوں کو خارج کرتا ہے، ہاضمے کے نظام کو بہتر کرتا ہے اور غذائی اجزاء کو بہتر طریقے سے جذب ہونے میں مدد کرتا ہے۔
تیزابیت کو دور کرتا ہے،
تیزابیت ایک طرح سے پریشان کن ہے، جو سینے میں جلن کا سبب بنتی ہے۔ یہ دل کے دورے کے خطرات کے امکانات کو بڑھاتی ہے۔
گڑ کا ایک چھوٹا ٹکڑا تیزابیت کے تمام مسائل کو با آسانی ختم کرتا ہے، اس میں موجود میگنیشیم کی وافر مقدار نظامِ ہاضمہ کو بہتر کرتی ہے اور تیزابیت کو بھی دور کرتی ہے۔
خون کی کمی کو دور کرتا ہے،
خون میں ہیموگلوبن کی خراب سطح شدید تھکاوٹ، بے ترتیب دل کی دھڑکن، سانس لینے میں دشواری اور چکر آنے کا سبب بن سکتی ہے۔
ان علامات کو نظر انداز کرنا خطرے سے خالی نہیں، گڑ چونکہ آئرن سے بھرپور ہوتا ہے اس لیے یہ قدرتی طور پر ہیموگلوبن کی سطح کو بڑھاتا ہے۔گڑ کی تیاری ایک بہت صبر ازما کام ہے مگر
گڑاور دیسی کھانڈ بنانے والا آٹو میٹک پلانٹ ابھی پوری طرح پاکستان میں نہیں لگایا گیا لیکن مختلف ایشیائی ممالک میں بھرپور طریقے سے دیسی کھانڈ اور گڑ بنانے کے لیے اٹومیٹک پراسیسنگ پلانٹ بنائے بنائے گئے ہیں اِس کے پیشِ نظر کسانوں کے ایک بڑے طبقے نے یہ سوچنا شروع کر دیا ہے ۔ اور بعض دوسرے گنے سے گڑ یا دیسی کھانڈ بنانے کی طرف مائل نظر تین سے چار مہینے لگ جاتے ہیں۔
اچھی خبر یہ ہے کہ یہ مسئلہ آٹو میٹک گڑ پلانٹ کی مدد سے حل کیا جا سکتا ہے۔ گڑ بنانے والے یہ پلانٹ اب بھارت میں تو عام استعمال ہو رہے ہیں. لیکن پاکستان میں اس طرح کا پلانٹ ابھی تک نہ تو کسی کسان کے زیرِ استعمال ہے اور نہ ہی یہ پلانٹ پاکستان میں کوئی ادارہ تیار کرتا ہے. البتہ یہ پلانٹ باہر سے منگوایا جا سکتا ہے یا پھر پاکستان میں بھی زرعی انجینئر سے بنوایا جا سکتا ہے. آٹو میٹک گڑ پلانٹ کس طرح کام کرتا ہے؟ یہ گڑ بنانے والا ایک ایسا آٹو میٹک پلانٹ ہے جو سب سے پہلے گنے کا رس نکالتا ہے. پھر اِس رس کی صفائی کرتا ہے. صفائی کے بعد رس کو بڑے بڑے کڑاہوں میں لے جا کر پکاتا ہے. جب رس گاڑھا ہو جاتا ہے تو اس سے گڑ کی پیسیاں بنا دیتا ہے. اور آخر میں یہ پلانٹ اس گڑ کی پیکنگ بھی کرتا ہے.
واضح رہے کہ یہ سارا کام ایک خود کا ر یا آٹومیٹک طریقے سے ہوتا ہے. یہ پلانٹ ایک دن میں کتنا گڑ بناتا ہے. مارکیٹ میں مختلف طرح کے چھوٹے بڑے پلانٹ موجود ہیں. لیکن ایک درمیانہ پلانٹ ایک دن میں 8 سو من سے لے کر 12 سو من گنے کی کرشنگ کر کے اس کا گڑ بنا سکتا ہے. بعض پلانٹ گڑ کے ساتھ ساتھ شکر یا دیسی کھانڈ بنانے کی بھی صلاحیت رکھتے ہیں. اس کا مطلب یہ ہے کہ اس طرح کے پلانٹ سے ایک دن میں تقریباً ایک سے ڈیڑھ ایکڑ کماد بھگتایا جا سکتا ہے. درآمد کی صوت میں اس پلانٹ کی قیمت کیا ہے؟ پلانٹ کا ریٹ اس کی گنا بھگتانے کی صلاحیت کے حساب سے کم یا زیادہ ہو سکتا ہے.
دن میں تقریبا ایک سے ڈیڑھ ایکڑ کماد بھگتانے والا پلانٹ تقریبا 40 سے 50 لاکھ میں مل سکتا ہے. لیکن یہ رقم بہت زیادہ ہے. انڈیا میں اس طرح کے پلانٹ قدرے کم قیمت پر دستیاب ہیں اور اگر یہ پلانٹ پاکستان میں ہی تیار کروا لیا جائے تو اس کی قیمت آدھی سے بھی کم رہ جائے گی. اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ پلانٹ پاکستان میں بن سکتا ہے اور اس کی لاگت کیا ہو گی؟ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے زرعی انجینئر ڈاکٹر محمد اظہرعلی نے کہا کہ ہم گڑ بنانے والے اس طرح کے آٹو میٹک پلانٹ تیار کرنے کی مکمل صلاحیت اور مہارت رکھتے ہیں. اور اگر کوئی کسان اس طرح کا پلانٹ بنوانے میں دلچسپی رکھتا ہو تو ہم اسے اس کسان کو اس پلانٹ کی لاگت وغیرہ کا تخمینہ دے سکتے ہیں.
اپنے کسان بھائیوں کو مشورہ ہے کہ کاشتکار اکٹھے ہو کر اس طرح کے مشترکہ پلانٹ لگوائیں. اگر شوگر ملوں والوں نے حصہ داری کر کے ملیں لگائی ہوئی ہیں تو عام کاشتکار یہ کام کیوں نہیں کر سکتے؟ امداد باہمی کی انجمن کے ذریعے اگر آپ یہ کام کریں گے تو اس سے آپ کا حساب کتاب بالکل شفاف رہے گا. حساب کتاب درست رہے تو شراکت داری میں پیدا ہونے والے مسائل بالکل سامنے نہیں آتے. مثال کے طور پر اگر 15 کسان آپس میں مل جائیں تو ہر کسان ایک سے ڈیڑھ لاکھ روپے لگا کر اس پلانٹ کا مشرکہ مالک بن سکتا ہے.اج کل اس مہنگائی کے دور میں
گڑ اور ککو غریب کے لیے خواب بن گئے کچھ عرصہ قبل گڑ اور ککو ہر گھر میں عام دستیاب ہوتے تھے(ککوجسے انگریزی میں Blackstrap molasses کہتے ہیں)، خاص طور پر سردیوں میں یہ دونوں اشیاء گھریلو زندگی کا لازمی حصہ ہوا کرتی تھیں۔ گڑ سے بنے میٹھے چاول، جنہیں سرائیکی زبان میں "بھت” کہا جاتا ہے، بڑی محبت اور اہتمام سے تیار کیے جاتے تھے۔ دوست احباب کو بھت کی دعوتیں دینا روایت کا حصہ تھا اور یہ میٹھا پکوان محفلوں کی رونق بڑھاتا تھا۔
صبح کے وقت ناشتے میں ککو، جس میں دیسی مکھن ڈالا جاتا تھا، توانائی بخش غذا سمجھی جاتی تھی۔ گڑ سے بنی موٹی میٹھی روٹی اور "بُسری” کا تو جواب ہی نہیں تھا۔ یہ خصوصی پکوان دسمبر اور جنوری کی یخ بستہ راتوں میں بڑے اہتمام سے تیار کیے جاتے تھے اور عزیز و اقارب مل بیٹھ کر ایک ہی برتن میں کھاتے تھے، جو خلوص اور محبت کی علامت ہوا کرتا تھا گڑ اور ککو جو پہلے۔ککو(Blackstrap molasses)جو کبھی بچوں کا پسندیدہ سستا میٹھا ہوا کرتاتھا مگر ہمارے نئے دور کے ڈیجیٹل بچوں کو شاید ککو کا نام بھی نہ اتا ہو سردیوں کے خاص موسم میں السی کی پینیوں(لڈو ) کی افادیت سے کون انکار کر سکتا ہے اسی طرح اج کل ہر ہوٹل میں چینی کے علاوہ گڑ کی چائے دستیاب ہوتی ہے اور لوگ بڑے شوق سے پیتے ہیں جبکہ گڑ والی مونگ پھلی ۔مرونڈا اور گڑ کی گچک پوری سردیوں میں بڑے شوق سے کھائی جاتی ہے اسی گڑ کی افادیت کو اجاگر کرنے کے لیے گزشتہ دنوں ملتان کی ایک یونیورسٹی میں بھی گڑ ڈے منایا گیا ۔گڑ بلا شبہ ایک بے بہا صحت کا خزانہ بھی ہے اور دیسی گڑ بغیر کیمیکل کے استعمال کرنے سے اس کی افادیت دوگنا ہو جاتی ہے

Comments
Post a Comment