بہاول پورسیف سٹی پراجیکٹ
بہا ول پورسیف سٹی پراجیکٹ ۔ ایک عمدہ کاوش
تحریر ۔ محمد اقبال عباسی
ٹائٹل۔ امید ِفردا
میں سیف سٹی پراجیکٹ کے تحت تعمیر ہونے والی” پنجاب پولیس کمانڈ، کنٹرول اینڈ کمیونیکیشن سنٹر“کی پر شکوہ عمارت کے سامنے کھڑا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا یہ وہی عمارت ہے جسے ڈیڑھ سال کی بجائے چار ماہ کے قلیل عرصہ میں مکمل کر لیا گیا ہے۔ یہ وسیع و عریض عمارت کسی دیو ہیکل مشین کی طرح اب اپنی جسامت کے مطابق ویڈیو پینل اورمشینری کے انتظار میں ہے تاکہ عوام کی خدمت کا آغاز کیا جاسکے ۔ اس پراجیکٹ کے انچارج ایس پی عبداللہ کاشف سے جب میں نے سوال کیا کہ اٹھارہ ماہ کے پراجیکٹ کو آپ نے صرف تین ماہ میں کیسے مکمل کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اس کا تمام تر سہرا ضلع بہا ولپور کے موجودہ ریجنل پولیس آفیسر رائے بابر سعید اور ڈی پی اوربہاول پور، اسد سرفرازکے سر ہے۔ جنہوں نے ہر مشکل اور پریشانی کے وقت ہماری نہ صرف رہنمائی کی بلکہ دامے درمے، قدمے سخنے ہمارا بھر پور ساتھ دیا ۔ذمہ داران سے روزانہ کی بنیا دپر اپ ڈیٹ لینے کے ساتھ ضلعی انتظامیہ ، ٹھیکیداران اور افسران بالا سے ہر وقت رابطے میں رہے اور تعمیراتی کام میں کہیں بھی رکاوٹ نہیں آنے دی ۔مجھ ناچیز کی یہ عادت ہے کہ ہر فرد اورمحکمے کے تعمیری اور مثبت پہلو کو مدِ نظر رکھتا ہوں ، تخریب سے بچ کر چلنے کی عادت نے مجھے ایک مثبت اور تعمیری سوچ سے بھی نوازا ہے ۔ اپنی پوری زندگی میں رائے بابر سعید جیسے چند افراد ہی مجھے متاثر کر پائے ہیں جن کی تعریف میں بخل سے کام لینا سراسر ناانصافی ہو گی۔ چلچلاتی دھوپ اور سہ پہر کی گرمی میں، اس پراجیکٹ کی بریفنگ کے فوراً بعد مجھے کہا گیا کہ آپ افسران کو بمعہ تصاویر میسج کر دیں کہ بریفنگ مکمل ہو گئی ہے۔جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ضلعی کپتان اور ریجنل پولیس آفسیر اپنے شعبے کے ساتھ کتنی حد تک مخلص ہیں۔
پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سابقہ صوبائی حکومت نے ابتدائی طور پر پنجاب سیف سٹی آرڈیننس 2015 ءکے تحت قائم کی تھی لیکن 2016ءمیں اس آرڈیننس کی جگہ پنجاب اسمبلی سے منظور شدہ ایک قانون نے لے لی۔ اس اتھارٹی کے قیام کا بنیادی مقصد صوبہ پنجاب کے تمام شہروں کو جرائم سے پاک کرنے کے ساتھ ساتھ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو آرٹیفیشل انٹیلی جنس جیسی جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہے۔گزشتہ سال اکتوبر کے آخری ہفتے پنجاب کے 18 شہروں میں این آر ٹی سی( نیشنل ریڈیو اینڈ ٹیلی کمیونیکیشن کارپوریشن) کی معاونت سے سمارٹ سیف سٹی پراجیکٹ کی تکمیل کے معاہدے پر دستخط کئے گئے موجودہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی موجودگی میں پنجاب سیف سٹی اتھارٹی اور این آر ٹی سی کے درمیان یہ معاہدہ طے پایا۔ اس موقع پر بریفنگ میں بتایا گیا تھاکہ 18 شہروں میں ایئر کوالٹی انڈیکس مانیٹرنگ انوائرمنٹ سینسر بھی لگائے جائیں گے جبکہ گجرات، جہلم، شیخوپورہ، اوکاڑہ اور ٹیکسلا میں سیف سٹی پراجیکٹ مئی کے آخر میں فنکشنل ہوں گے لیکن بہاول پور سیف سٹی پراجیکٹ اگلے ماہ مئی کے اواخرمیں تکمیل پذیر ہو جائے گا۔یاد رہے کہ بہاول پور رینج کے تینوں اضلاع میں مقامی دی پی اوز صاحبان کی زیر نگرانی تیزی سے کام جاری ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ امسال جون کے آخر تک یہ مراکز بھی فنکشنل ہو جائیں گے۔
سیف سٹی بہاولپورایک جدید سیکیورٹی اور سرویلنس پراجیکٹ ہے جو شہر میں قانون و انصاف کی صورتحال بہتر بنانے، جرائم کی روک تھام اور عوامی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ پنجاب سیفٹی ایکٹ کے تحت کام کرتا ہے اور لاہور، راولپنڈی اور دیگر بڑے شہروں میں موجود سیف سٹی پراجیکٹس کی طرز پر ہے۔ شہر کے اہم مقامات پر ہائی ٹیک، جدید کیمرے نصب کیے جا رہے ہیں جو 24/7 نگرانی کرتے ہیں۔ ان کیمروں کو شہر کی حدود کے اندر انسٹال کرنے کے ساتھ ساتھ ضلع کی اختتامی حدود پر چار مختلف جگہوں پر لگایا گیا ہے ۔ ان جدید ترین کیمروں کی تعداد 250سے 300کے درمیان ہے ۔ کیمروں کو کار کردگی اور تخصیص کی بنیاد پر خودکار نمبر پلیٹ شناخت (ANPR) یعنی گاڑیوں کے نمبر پلیٹس کی شناخت کے ذریعے چوری شدہ گاڑیوں کو تلاش کرنے میں آسانی ہو گی۔ اس کے علاوہ کسی بھی واردات میں استعمال ہونے والی گاڑی بھی آسانی سے ٹریس ہو جائے گی۔ ان میں سے کچھ کیمرے ایسے بھی ہوں گے جو
چہرہ شناسی(Facial Recognition) یعنی مجرموں یا لاپتہ افراد کو جدید مصنوعی ذہانت پروگرامز کی مدد ،تلاش کرنے میں مدد فراہم کریں گے ۔دورانِ بریفنگ مجھے یہ بھی بتایا گیا کہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے ایک ہی چھت کے نیچے قائم کئے جانے والے اس ”کمانڈاینڈ کنٹرول سنٹر “پر 50کے قریب انتہائی تربیت یافتہ ماہرین کام کریں گے جو کیمروں پر ہونے والی ہر حرکت کو شک کی نظر سے دیکھیں گے اور مقامی پولیس کی اطلاع کے بغیر فوری ریسپانس دیں گے اور متعلقہ محکموں کو فوری اطلاع دینے کے ذمہ دار ہوں گے۔362ملین کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر قانون نافذ کرنے والے تمام خفیہ اداروں کے ساتھ مکمل تعاون اور معلومات کا اشتراک رکھنے کے ساتھ ساتھ، نادرا، محکمہ داخلہ، محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ، واسا ، پلاننگ اینڈ مینجمنٹ ، ایس پی یو، اور رینجرز جیسے اہم محکموں کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے گا اور تمام تر معلومات کا اشتراک کرنے کا بھی مجاز ہو گا۔ یاد رہے کہ سیف سٹی کیمروں کی مدد سے زیادہ تر جرائم کی ویڈیو ثبوت کے طور پر محفوظ کی جائے گی اور بطور عدالتی ثبوت بھی مستند سمجھی جائے گی ۔ جرائم کے سدباب کیلئے سیف سٹی کرائم اسٹاپر ایپ کا ٹرائل شروع ہو چکا ہے، ایپ سے دہشتگردی، زیادتی و دیگر جرائم رپورٹ کئے جا سکیں گے جبکہ ہیلمٹ، سیٹ بیلٹ اور اسلحے کی نمائش روکنے کیلئے مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر بھی تیار کئے جا رہے ہیں۔ سیف سٹی اتھارٹی کیمروں کے ذریعے تجاوزات کی نشاندہی بھی ممکن ہوگی۔ ان کیمروں کی مدد سے اسپتال، بس اسٹینڈ، ائیرپورٹ اور ریلوے اسٹیشن کی مانیٹرنگ ہوسکے گی۔ملزمان کے بارے میں تیز ترین اطلاعات صرف جدید ترین کمپیوٹر ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہیں ۔ اس پراجیکٹ کی سب سے اہم خوبی یہ ہے کہ ضلع بہاولپور کی حدود میں مو جود تمام تھانہ انچارج حضرات کو تیز ترین اور جدید ایم ڈی ٹی سیٹ دئیے جائیں گے۔ ان جدید ترین وائرلیس سیٹ کی اہم خصوصیت ویڈیو اور فون کال ہے ۔ یہ سیٹ وہاں بھی کام کریں گے جہاں کسی بھی کمپنی کا نیٹ ورک کام نہ کر رہا ہو ۔ اس کی سب سے بہترین مثال کچے کے علاقے میں ہونے والےآپریشن ہیں ۔ جہاں کوئی بھی نیٹ ورک کام نہیں کرتا اور پولیس افسران بے بس ہو کر رہ جاتے تھے۔یہ وائرلیس سیٹ ڈی ایس پی اور ڈی پی او صاحبان کو بھی دئے جائیں گے۔سیف سٹی پراجیکٹ کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک ہی چھت کے نیچے تمام اداروں کو جرائم کی بیخ کنی کے لئے مکمل او ر بھر پور تعاون مہیا ہو جائے گا ۔ ماضی قریب میں اگر کسی علاقے میں کوئی جرم ہوتا تھا تو فرانزک ، کرائم سین اور آرگنائزڈ کرائم کے افسران الگ الگ کام کرتے تھے اور متعلقہ نتائج آنے تک ملزمان ، بآسانی روپوش ہو جاتے تھے لیکن اس کمانڈ اینڈ کنٹرول نظام کی بدولت کم از کم کسی بھی تفتیشی افسر کو کسی محکمے کی رپورٹ کا انتظار نہیں کرنا ہو اور اس کی مطلوبہ تمام تر معلومات ، چند لمحوں میں اس کے پاس پہنچ جائیں گی اور فوری طور پر ملزمان کے گرد گھیرا تنگ کیا جا سکے گا۔ مجھے خوشی اس امر کی ہے کہ موجودہ ریجنل پولیس آفسیر رائے بابر سعید اور ڈی پی او بہاول پور اسد سرفراز کی شبانہ روز، ان تھک محنت کی بدولت بہاول پور جیسی پر امن سر زمین پر ، سماج دشمن عناصر کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔
٭٭٭٭
.jpg)
Comments
Post a Comment