اے زندگی کو چاہنے والے، شجر لگا۔۔۔۔۔ تحریر: جاوید ایاز خان سب لوگ کڑی دھوپ کے شعلوں میں جلیں گے جب وقت کے صحرا میں شجر کوئی نہ ہوگا
تحریر جاوید ایاز خان
کوٹ ادو جیسے چھوٹے سے شہر سے تعلق رکھنے والا شاعر محمد قاسم راز ایک بڑا اور باکمال نام ہے، جو عظیم شاعر بیاض سونی پتی مرحوم کے دبستانِ ادب سے فیض یافتہ ہے۔ بیاض سونی پتی سے نسبت بذاتِ خود ایک اعزاز ہے، اور قاسم راز کی تخلیقی تربیت اسی مکتب فکر سے ہوئی ہے۔ ان کی حمد و نعت، غزل و نظم پہلے ہی اہلِ ذوق کو متاثر کر چکی ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی "ادبی تھراپی" پر مبنی ماحولیات اور شجرکاری پر شاعری نے میرے سوچنے کے زاویے بدل دیے ہیں۔
کہتے ہیں کہ شاعر کا دل حساس ہوتا ہے، وہ زمانے کی سسکیوں اور دکھوں سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ قاسم راز اسی حساسیت کا عملی اظہار کرتے ہوئے وقت کے سب سے اہم مسئلے — ماحولیاتی بحران — پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ جہاں بیشتر شعراء نے درختوں، پرندوں اور قدرتی مناظر کو محض استعاروں کے طور پر استعمال کیا، وہیں قاسم راز نے ان موضوعات کو حقیقت کا روپ دے کر اپنے شعری پیغام میں شامل کر لیا ہے۔
اگر وہ کسی بڑے شہر میں ہوتے تو آج شہرت کی بلندیاں ان کا مقدر ہوتیں۔ ان کے اشعار نہ صرف شجرکاری کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ ماحول کے تحفظ کی ضرورت کو بھی خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں۔
جو اشکوں کو بیج بنا کر پیار کے پودے بوتے ہیں
صدیاں ان کی ہو جاتی ہیں وہ صدیوں کے ہوتے ہیں
یہی وہ خوبی ہے جو ایک عظیم شاعر کو ممتاز بناتی ہے: وقت کی نزاکت کو سمجھنا اور اس کے مطابق شعری و فکری کردار ادا کرنا۔
قاسم راز کی شاعری دعا بھی ہے، فکر بھی اور مشعلِ راہ بھی ہے ۔
جس جگہ بھی ہو، وہیں سرسبز ہو
سبز سوچوں کا امیں، سرسبز ہو
زرد چہروں کی مٹائے زردیاں
جو مٹائے، وہ حسیں سرسبز ہو
پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماحولیاتی تبدیلی ایک سنگین خطرہ بن چکی ہے۔ درجہ حرارت 50 ڈگری تک جا پہنچا ہے، بارشیں کم ہو گئی ہیں، خشک سالی عام ہے، اور گرمی کی شدت اموات کا سبب بن رہی ہے۔ ہمارے شہروں میں درختوں کی تعداد خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہر گھر میں چند درخت ہوتے تھے، لیکن آج سیمنٹ اور سریے کے اس جنگل میں ہریالی ناپید ہو چکی ہے۔
اسی صورتِ حال کی عکاسی قاسم راز یوں کرتے ہیں۔
جلنے لگی ہے دھوپ کی شدت سے زندگی
اے زندگی کو چاہنے والے، شجر لگا"
درخت آکسیجن فراہم کرتے ہیں، بارش کی بنیاد بنتے ہیں، ٹھنڈک دیتے ہیں، پرندوں کا مسکن ہوتے ہیں، اور انسانوں کے لیے سایہ دار نعمت ہیں۔ یہ جنت کی نعمتوں میں شامل ہیں، جن کا ذکر صوفیاء کی زبانوں اور احادیثِ نبویہ میں بھی ہے۔
پرندوں سے پرندے کہہ رہےہیں
شجر گم ہیں، عذاب بے گھری ہے
دنیا بھر میں یہ شعور بیدار ہو رہا ہے کہ ہم نے درخت کاٹ کر اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ ہمارے شعراء اب اس موضوع پر قلم اٹھا رہے ہیں۔ شاعری ہمیشہ سے کسی بھی تحریک کی روح رہی ہے، اور قاسم راز نے اپنی شاعری کو شجرکاری اور تحفظِ ماحول کے لیے وقف کر دیا ہے
بیٹھے ہوئے ہو حشر کے سورج کی دھوپ میں
دنیا میں کیوں لگا کے نہ آئے کوئی درخت
درخت نہ صرف زمین کے لیے ضروری ہیں بلکہ انسان کی روحانی اور جسمانی بقا کا ذریعہ بھی ہیں۔ وہ صدقہ جاریہ ہیں، جن کا اجر دنیا و آخرت میں جاری رہتا ہے
خوں پسینے سے شجر جو بھی اگایا جائے
دوجہاں کی سرحدوں تک اس کا سایہ جائے
شاخوں کے گل و برگ کے اثمار کے دشمن
جنت میں نہیں جائیں گے اشجار کے دشمن
قاسم راز نے نبی کریم ﷺ کی اس حدیث کو شعر میں ڈھال کر وہ اثر پیدا کیا ہے جو نثر سے ممکن نہ ہوتا
حشر بھی برپا ہو جائے تو ہو جائے
پیڑ لگانے والے، پیڑ لگائے جا
ان کے اشعار میں درد بھی ہے، شعور بھی، پیغام بھی اور دعوتِ عمل بھی
پیڑ لگاؤ، رب کی رحمت کا سایہ درکار ہے گر
چھوٹے بچے دھوپ میں جلتے جلتے مکتب جاتے ہیں
اس شہر کے جھلسے ہوئے چہروں نے بتایا
سورج ہے شرربار، شجر کوئی نہیں ہے
قاسم راز نہ صرف مسئلہ بیان کرتے ہیں بلکہ اس کا حل بھی دیتے ہیں — وہ عمل کا شاعر ہے، صرف جذبات کا نہیں
آگ سے جھلستے ان زرد زرد رستوں کو
یوں ہرا بنائیں گے، ہم شجر لگائیں گے
زندگی جو گزری ہے بے ثمر تھی، اس کو اب
باثمر بنائیں گے، ہم شجر لگائیں گے
آئیے! ہم بھی قاسم راز کی آواز میں آواز ملائیں، اور اپنے حصے کا درخت لگا کر اس زمین کو دوبارہ جنت کا عکس بنا دیں۔ کیونکہ ماحولیاتی جنگ تلواروں سے نہیں، سوچوں سے جیتی جاتی ہے — اور سوچوں کی تبدیلی شاعر اور ادیب ہی لاتے ہیں۔
قبریں جھلس رہی ہیں عذابوں کی دھوپ میں
جا رفتگاں کے واسطے جاکر شجر لگا
ہو تاکہ سایہ دار ہر اک رہ گزر لگا
اۓ دوست زندگی میں شجر ہی شجر لگا ۔

Comments
Post a Comment