جاوید کوڈو چھوٹے قد کا بڑا فنکار
🔻 کچھ احوال جاوید کوڈو چھوٹے قد کا بڑا فنکار سب کو ھنسانے والا شوبز کی دنیا کی روایتی بے حسی کا شکار کر 12 اپریل 2025 کو ھمیں داغ مفارقت دے گیا
🔻🔻🔻، جاوید کوڈو پاکستان کے نام ور کامیڈین تھے برجستہ جملے برمحل جُگت اور سلجھا مزاح جاوید کوڈو کی پہچان تھے جاوید کوڈو کا سب سے بڑا تعارف ان کا پستہ قامت ہونا ہی تھا آپ زبردست جگت باز اور معیاری مذاحیہ اداکار تھے آپ 1962 میں پیدا ہوئے ، 1981 میں پہلی بار اسٹیج ڈرامہ سودے باز سے منظرِ عام پر آئے اور اس کے بعد پیچھے مُڑ کر نہ دیکھا ،تھیٹر کے علامہ بے شمار ٹیلیویژن ڈراموں میں بھی کام کیا ، عینک والا جن میں نظر آتے رہے ہیں تاہم ٹیلیویژن پر جاوید کوڈو کا سب سے مشہور ڈرامہ خواہش رہا جس میں فلم ایکٹریس رانی بیگم بھی تھیں ایک اور ڈرامہ سیریل آشیانہ بھی تھا ،جس نے خوب خوب شہرت و داد سمیٹی !
آپ نے سو سے زیادہ اسٹیج ڈراموں میں کام کیا اور ناظرین و شائقین کی داد سمیٹی! ان کی شہرت اور شائقین میں بڑھتی ہوئی مقبولیت کے پیشِ نظر 1990 میں پہلی بار انہیں فلم پالے خان میں کاسٹ کیا گیا جس میں ان کی پزیرائی سے ان پر فلموں کے در بھی وا ہوگئے ان کی دوسری فلم 1991 میں ریلیز ہوئی جس کا نام عالمی جاسوس تھا 1992 میں جاوید کوڈو کی دو فلمیں سینماؤں کی زینت بنیں باکسر اور ہیرو دونوں ہی پاکستان فلم انڈسٹری کی یاد رہ جانے والی فلمیں ہیں باکسر میں استاد نصرت فتح علی خان کی مشہور زمانہ قوالی دم مست قلندر تھی ، یہ وہی قوالی ہے جس نے نصرت فتح علی خان کو بین الاقوامی شہرت عطا کی ، قوالی کی شہرت سے متاثر ہو کر ہی اسے فلم میں شامل کیا گیا تھا ،جبکہ دوسری فلم ہیرو مشہور فلمی جوڑی افضل خان ریمبو اور اداکارہ نشو کی بیٹی اداکارہ صاحبہ کی پہلی فلم تھی اسی فلم سے ان دونوں کی محبت پروان چڑھی جو بعد ازاں شادی پر منتج ہوئی جو کامیابی سے آج تک قائم ہے ، 1993 میں بھی جاوید کوڈو کی دو فلمیں نمائش کے لیے پیش کی گئیں ناگن سپیرا اور عروسہ 1994 میں ان کی فلموں کی تعداد بڑھ کر تین ہوگئی صنم بے وفا محلے دار اور پُتر جیرے بلیڈ دا اس کے بعد 1999 میں فلم دیساں دا راجہ میں جاوید کوڈو نظر آئے جبکہ ان کی آخری فلم 2016 میں ایک پنجابی فلم تھی جس کا نام زندگی گزارو ہس کے تھا ، جاوید کوڈو نے کل 11 فلموں میں کام کیا تھا!
اس کے بعد جاوید کوڈو کی صحت بتدریج گرنے لگی شوگر کے بعد بلڑ پریشر کی بیماری لاحق ہو گئی 2016 میں دماغ کی شریان کی سرجری ہوئی پھر ایک روز موٹر سائیکل پر جاتے ہوئے ان کا روڈ ایکسیڈنٹ ہو گیا کولہے کی ہڈی کی سرجری ہوئی کچھ عرصہ بعد انہیں عارضۂ قلب ہوگیا ، پھر سنا ان کی بڑی آنت کا آپریشن ہوا ہے ، ہے درپے بیماریوں کے حملوں سے ان کے مالی معاملات بری طرح بگڑ گئے لیکن جاوید کوڈو ایک ایک صبر کرنے والے اور خودددار انسان تھے مشکل وقت اور بیماری میں سب ساتھی فنکار اس کو چھوڑ گئے اور ہنسی کا فوارہ جاوید کوڈو حسرت و یاس کی آماجگاہ بننے لگا،تاہم ان کی بذلہ سنجی اور خوبصورت مزاح کرنے کی عادت آخر تک قائم رہی ایسے فنکار عشروں بعد پیدا ہوتے ہیں
ان کا ایک بیٹا شیرا کے نام سے ٹی وی پروگرام مزاق رات کا مستقل حصہ ہے
آخر کا ر آج 12 اپریل 2025 کو جاوید کوڈو 63 سال کی عمر میں اس جہان فانی کو خیر باد کہہ گئے اللہ پاک انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور درجات بلند فرمائے آمین

Comments
Post a Comment