ایوارڈ یافتہ فنکار افسانہ نگار نسیم بھٹی ❤ تحریر حمیرہ شریف
ایوارڈ یافتہ فنکار افسانہ نگار
نسیم بھٹی ❤ تحریر حمیرہ شریف
سابق ریاست بہاولپور کا حصہ شہر بہاولپور ادبی اور تعمیری لحاظ سے ایک منفرد مقام رکھتا ہے بہاولپور کو ادبی شعری افسانہ نگاری اور فنکاری کے حساب سے منفردحیثیت رکھنے والے بہت سارے اہم افراد نے حصہ لیا انہی میں ایک بڑا نام نسیم بھٹی کا ہے نسیم بھٹی کا اصل نام محمد شریف ہے اور ذات بھٹہ ہے مگراس عظیم انسان نے عنایت حسین بھٹی سے جنون کی حد تک عقیدت رکھنے والے اور انہیں اپنا روحانی استاد ماننے والے محمد شریف نے اپنا نام نسیم بھٹہ سےنسیم بھٹی رکھ لیا بہاولپور میں فن اداکاری کی بنیاد رکھنے والے فنکار ہیں لطیفہ گوئی میں بھی بھٹی صاحب کمال شخصیت ہیں ون مین شو کے ماسٹر ہیں فن ادب ثقافت میں جو بھی کام کیا عبادت سمجھ کر کرتے ہیں یہ سدا بہار فنکار ہیں بے پناہ صلاحیتوں کے مالک ہیں مگر صحرا کے درخت کی مانند خود دھوپ میں جلتا ہے اور مخلوق کی خوشیوں میں شریک ہوتا ہے اور مخلوق کو ٹھنڈک پہنچاتا ہے 80 سال عمر ہونے کے باوجود بھی ثقافتی میدان میں برسر پیکار ہے اپ نے کئی ڈرامے تخلیق کیے جو سٹیج کی زینت بنے اور عوام میں بدرجہ اتم مقبول ہوئے ۔اج کے اس نئے دور میں جب ڈرامہ ڈرامہ نہیں رہا بھانڈوں اور جگت بازوں نے اخلاقیات کی تمام حدیں پیچھے چھوڑ دی ہیں جس سے نئی نسل بے راہ روئی کا شکار ہو کر رہ گئی ہے نسیم بھٹی ایسا فنکار ہے جو فن کے ساتھ ساتھ امن محبت اخوت اور ادب و تعظیم کا پیغمبر محسوس ہوتا ہے اور لوگ اس کی تقلید کرتے ہیں نسیم بھٹی وہ سچا فنکار ہے جس نے کبھی پیسے کو ترجیح نہیں دی اللہ تعالی کے دیے پر اکتفا کیانسیم بھٹی سرائیکی ون مین شو میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ڈراموں سے بڑھ کر ون مین شو میں زیادہ شہرت حاصل کی لطیفہ اور تررڑ۔ انکی پہچان بن گیا صادق ڈیزرٹ ویلفیئر ارگنائزیشن کے فرید امن ملا قلعہ ڈراور میں 20 سال سے لوگوں میں خوشیاں بانٹتے رہے ہیں ایک پروگرام میں سابق ڈائریکٹر محکمہ تعلقات عامہ بہاولپور جناب نذیر خالد صاحب نے اس ہیرے کو پہچان لیا اور نسیم بھٹی کا ایک طویل انٹرویو کیا نسیم بھٹی کا ایک عظیم کارنامہ یہ بھی ہے کہ جھوک فرید لیاقت پور میں چولستان میں وہ درخت جہاں کنڈا فرید کہتے ہیں اپ حضرت خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ نے اس درخت کے سائے کو اپنا مسکن بنایا اور اپنی زندگی کے 18 سال اسی درخت کے سائے تلے گزارے اور وہاں پر ایک دیوان بھی مکمل کیا نسیم بھٹی نے اسی مقام پر روہی فرید میلے کی بنیاد رکھی اور عوام کا کو اپنے لطیفیے سننے کے لیے جم غفیر چلا اتا سات سال تک لوگ ہزاروں کی تعداد میں پہنچ گئے اور وہ صرف اس لیے تھے کہ نسیم بھٹی کا ون مین شو دیکھنا ہوگا چولستان میں نسیم بھٹی کی بے پناہ محبت ملی اسی طرح ہر دل عزیز فنکار کہلائے ۔روہی سےازحد عقیدت کی اور اپنی دھرتی ماں کو ماں سمجھتے ہیں نسیم بھٹی نے بطور فنکار اپنی زبان اور ثقافت سے عقیدت کا اظہار اپنے افسانوں میں کیا ہے افسانے مجموعہ گانے گٹھڑے میں قدیم سرائکی الفاظ جمع کر کے محفوظ کیے ہیں تاکہ نئی نسل کو اپنی زبان سے اشنائی حاصل ہو سکے ہر افسانے کے اخر میں خانہ فرہنگ مشکل . الفاظ اور معنی تحریر کر دیے ہیں تاکہ قائرین کو سمجھنے میں اسانی ہو ادبی حلقوں میں اسے بہت پذیرائی ملی ادراک فورم رائٹرز کے صدر جناب شفقت محمود صاحب نے پنجاب کونسل اف دی ارٹ بہاولپور میں 18 نومبر 2023 کو ایک باوقار تقریب میں ایوارڈ سے انہیں نوازا اسے ادبی حلقوں نے بہت سراہا اسی طرح ایک اور ادبی تنظیم جی سرائیکی ادبی سنگت بہاولپور کے صدر جناب حفیظ طاہر گھوٹیہ نے نسیم بھٹی کی عوامی خدمات کہ اعتراف میں خوبصورت ایوارڈ سے نوازا چک نمبر 191 کہ فیض احمد ڈاہا نے نسیم بھٹی کو سرائیکی افسانوں کا منٹو قرار دیا ہم نے تو ان کے لطیفے سنا کرتے تھے یہ معلوم نہیں تھا کہ یہ اتنے بڑے لکھاری بھی ہیں ہیڈ فرید سے جناب شمس چانبا نے کہا کہ نسیم بھٹی محسن سرائیکی ہے انہوں نے گمشدہ سرائیکی کو تلاش کر کے قائرین کے حوالے کیا ہے معروف شخصیت سیف اللہ کٹوال اف لیاقت پور نے کہا کہ بہت بڑی کاوش ہے کہ سرائکی زبان کے موتی ہیرے اکٹھے کر کر ایک ہار بنا کر سرائکی قوم کے گلے میں ڈال دیا گیا ہے اور اس کا سہرا نسیم بھٹی کے سر ہے معروف شخصیت حاجی جام عطا محمد لاڑ فیروزہ نے کہا کہ گانے گٹھڑے گھڑے والا سنارہ نسیم بھٹی جس نے سونا بھی خالص اور کھٹے چال سے چمک دی امید ہے کہ وہ کبھی مانگ نہیں پڑے گے معروف دانشور جام عطاء اللہ لاڑ اور جام غلام حسین لاڑ نے کہا کہ ہر ادمی ان جیسے زیورات سے اراستہ ہو تو پتہ چلتا ہے کہ ریاستی تہذیب زندہ اور حیات ہے ولی محمد فقیر اور مصطفی فقیر نے کہا کہ ایسے لوگ معاشرے میں کم ہوتے ہیں جو اپنی زبان ثقافت کی ترقی ترویج کے لیے دن رات ایک ایک کر کے خدمات انجام دیں شاہد خان پرہار نے کہا کہ واقعی نسیم بھٹی سرائیکی زبان ادب کے ماتھے کا جھومرہے ون مین شو میں بھی سرائیکی ادب اور سرائیکی الفاظ کی ادائیگی سے معلوم ہوتا ہے کہ لکھاری کو اپنی دھرتی سے کتنا پیار ہے اور وہ اپنے وسیب سے کتنی محبت رکھتا ہے نسیم بھٹی کی تمام تر توانائیاں اس وقت بھی ایسی موجود ہیں جیسے مردہ گھوڑے میں نئی روپ پھونک دی گئی ہو نسیم بھٹی پھر سے ادبی راہوں میں گامزن ہو گئے ہیں قلعہ ڈراور کی ایک اور درویش صرف شخصیت قاضی اللہ دتہ مرحوم مغفور نسیم بھٹی سے بہت پیار کیا کرتے تھے ان کے صاحبزادگان قاضی رب نواز قاضی اللہ نواز قاضی شاہنواز سب لوگ اسی طرح عزت اور پیار دیتے ہیں مہر عبدالزاق ماسٹر رب نواز ذاکر اور ڈاکٹر مہر حسین بلوچ کا پیار تو ناقابل فراموش ہیں میڈیا کلب احمد پور شر قیہ کے صدر شیخ عزیز الرحمن نے نسیم بھٹی کے بارے میں کہا نسیم بھٹی ہمارے سرائکی وسیب کا ایک ایسا ستارہ ہے جس کی ادبی روشنی صورت سے بڑھ کر ہے اور اپنے علاقے اپنے ماحول اپنے وسیب اور اپنی زبان سے پیار کرنے والی شخصیت ہے

Comments
Post a Comment