بویے باریاں اور لکڑی کا کام ہر دور میں لکڑی کا نقش کام ایک انمول



 بویے باریاں اور لکڑی کا کام 

ہر دور میں لکڑی کا نقش کام ایک انمول روایت رہا ہے ۔تحریر شیخ عزیز الرحمن 



لکڑی کا کام ہمیشہ نوابین بہاولپور اور پوری دنیا میں ایک عمدہ مثال رہا ہنر مند اللّٰہ کا دوست ہے ۔ دروازوں کے نقش و نگار اور خطاطی ہنرمندی کا خوبصورت شاہکار بلا شبہ ہنرمند اللہ تعالی کا دوست ہے اور اس ہنر مندی اور خطاطی کا خوبصورت شاکار دنیا بھر میں موجود ہیں 

12ویں صدی عیسوی؛ قطب کمپلیکس، مہرولی، نئی دہلی، ہندوستان میں التمش (متوفی 1236 عیسوی) کے مقبرے کے محراب پر نقش و نگار عربی (قرآنی) خطاطی اور ہندسی نمونوں کا کوفی طرزدیکھنے سے تعلق رکھتا ہے 

التمش کا مقبرہ، 1236 عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔ یہ قطب مینار کے قریب قوۃ الاسلام مسجد کے شمال مغربی کونے کے بالکل باہر واقع ہے۔ ان میں سے ایک وسطی دوسرے دو سے اونچا واقع ہے اور اسے سنگ مرمر سے بہت زیادہ سجایا گیا ہے۔

التتلش کے مقبرے کے اندر تین نمازی جگہیں ہیں۔ یہ مقبرہ کافی سادہ ہے، لیکن اس کے داخلی دروازے کو جیومیٹریکل اور عربی نمونوں کے ساتھ پیچیدہ طریقے سے نقش کیا گیا ہے جو اسے دنیا کے لیے ہندوستان کے ورثے کی ایک خوبصورت مثال بناتا ہے۔اسی طرح ہم غور کریں تو مسلمانوں کے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مسجد نبوی کے دروازے 1,600 کیوبک میٹر سے زیادہ ساگوان کی لکڑی سے بنائے گئے ہیں۔ ہر ایک دروازہ کی تیاری میں 1500 سے زیادہ منقش زریں ٹکڑے پیغمبر اسلام کا نام (محمد، رسول اللہ) لکھنے کے لیے ایک دائرے کی شکل میں استعمال کیے گئے۔ دروازوں کی تیاری کا کام دنیا کے کئی شہروں میں انجام دیا گیا ہے۔ فرانس میں زریں تانبے کی تیاری ہوئی۔بہترین قسم کی ساگوان لکڑی امریکا سے منگوائی گئی اور پھر اسے اسپین کے شہر بارسلونا پہنچایا گیا اور پانچ ماہ سے زیادہ کی مدت میں خشک کرنے کے لیے خصوصی تندوروں میں رکھا گیا۔ پھر اسے لیزر سے کاٹا گیا۔ تانبے کے ٹکڑوں کو کاٹنے کے بعد اور ملمع کرنے سے پہلے اچھی طرح پالش کی گئی۔ پھر انہیں لکڑی پر جوڑا گیا۔ تمام دروازوں کو کیلوں کا استعمال کیے بغیر پرانے انٹر لاکنگ طریقے سے نصب کیا گیا ہےسابق ریاست بہاولپور میں بھی تمام کاریگروں کو خصوصی اولیت حاصل تھی اور نواب اف بہاولپور کے شاہی محل میں اگر دیکھا جائے تو وہاں پر لکڑی کے کام کے مرکے ڈیزائن اپ کو نظر ائیں گے سوچ رہاہوں وہ بھی کیا دن ہوتے ہوں گے جب اسے بنوانے والے لکڑی کے اس کام سے مسرور و نہال ہوتے ہوں گے۔۔بچے ماں سے باپ سے پوچھتے ہوں گے کہ نئے گھر کو کب محو پروازہوں گےاس حصے میں اگر دیکھا جائے تو اس کام سے تعلق رکھنے والے 

راج معمار امید کی روشنی میں اپنے ہنر کو دیواروں اور منقش لکڑیوں کی دلکشی میں ڈھلتے دیکھتے ہوں گے۔۔دور تک کھلے کچے راستوں میں اکا دکا آبادی کے بیچ امید کا یہ آشیانہ کتنا دلوں کو پرسکوں و فرحان کرتا ہوگا۔۔

مگر اب شائید مکیں نہ جانے کہاںہوں گے یہاں ہوگے کچھ وہاں ہوگے شائید کچھ اس پار ہوں کچھ اس پار۔۔آہ زندگی تیرے کس کس عکس اور رنگ کی بات کرتے نظر اتے ہیں سابق ریاست بہاولپور کے مختلف علاقوں میں اب بھی بھرپور طریقے سے جنہیں اب ہم جنوبی پنجاب کہتے ہیں وہاں پر لکڑی کا کام منقش طریقے سے کیا جاتا ہے رو کے اپر پنجاب کا علاقہ چنوٹ اسی سلسلے میں بازی لے گیا لیکن جام پور اور دیگر علاقوں میں لکڑی کے پائے جھنگ کی کرسیاں جھولے اور دیگر سامان اب بھی بھرپور طریقے سے دنیا بھر میں اپنا منفرد مقام رکھتا ہے سابق ریاست بہاولپور کے دارالخلافت صادق گڑھ پیلس کا ابھی بھی مرکزی دروازہ اسی لکڑی کا بنا ہوا ہے جس کو ماہر کاریگروں نے سنگ تراشی کے ذریعے بنایا تھا اسی طرح صادق گڑھ پیلس ہو نور محل ہو دربار محل ہو یا قلع ڈراور کا مرکزی درازہ ہو وہاں پر بھی لکڑی کا کام اچھوتے انداز میں اپنے اپنے دور کے کاریگروں کی یاد دلاتا ہے پہلے تو لکڑی جب عام تھی تو ہر طرح کے گھریلو ائیٹمز لکڑی کے تیار کیے جاتے تھے جن میں بچوں کے جھولے خوبصورت منقش دروازے اور بڑے بڑے گیٹ تیار کیے جاتے تھے مگر اہستہ اہستہ لکڑی کی عدم دستیابی کے باعث یہ کام لوہے کی چیزوں نے لے لیا جس میں لوہے کے پتھروں سے تیار کردہ منقش ڈیزائن بنائے جاتے ہیں لیکن لکڑی کی ایک اپنی مثال اور اپنا ایک اقدام ہے کہ جس کے باعث اج بھی دنیا بھر میں لکڑی سے منقش دروازوں کھڑکیوں کو ایک منفرد مقام حاصل ہے جلال آباد کا کابلی دروازہ کی تصویر سال 1879ع میں ایک انگریز شخص جان بروک نے کھینچی تھی جس میں افغانستان کے شہر جلال آباد کے گرد حفاظت کے لیے بنی ہوئی مٹی کی ایک بڑی دیوار میں کابل والی سڑک کی طرف کھلنے والا لکڑی کا دروازا دکھایا گیا ہے جس کو کابلی دروازہ کہا جاتا تھا 

یہ جلال آباد کا شہر مغل شہنشاہ جلال الدین محمد اکبر کے وقت میں آباد ہوا تھا جس کی وجہ سے اس شہر کا نام جلال آباد پڑ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔ دریائے کابل کے کنارے پر آباد یہ جلال آباد کا شہر اس وقت افغانستان کے صوبے ننگرھار کا صوبائی دارالحکومت ہے جس کی آبادی تقریباً ساڑھے تین لاکھ افراد پر مشتمل ہے ۔اور اس دور میں بھی وہاں پر کابل میں لکڑی کے منقش دروازے استعمال کیے جاتے تھے جو صرف امراہ اور بادشاہوں کے لیے مختص تھے اسی تناظر میں ہم دیکھیں تو سابق ریاست بہاولپور کے علاقوں میں مختلف دروازوں پر اب بھی لکڑی کا کام نظر ا سکتا ہے اسی طرح ان علاقوں میں ہندوؤں کے مذہبی مقامات خصوصا مندروں کی چھتیں بھی مرکش نظر اتی ہے اور دروازے بھی خوبصورت کاشی کاری کا کام نظر اتا ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان میں اس منقش ڈیزائن والے کاریگروں اور اس سے وابستہ افراد کی سرکاری سطح پر حوصلہ افزائی کی جائے اور پاکستان سے بننے والے فن پاروں کو عالمی سطح تک پذیرائی دلوائی جائے جس کے لیے متعلقہ محکموں کا کام ہے کہ وہ ان کے افسران سرکاری دفاتروں سے نکل کر عوام کے لیے اور خصوصا ہنر مندوں کے لیے اپنے فرائض انجام دیں

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید