"سیستان میں سرائیکی مزدوروں کا قتل عام
"سیستان میں سرائیکی مزدوروں کا قتل — روزی کمانے آئے پنجاب کےشہر بہاولپور کے محنت کش دہشتگردی کا نشانہ بن گئے"
تحریر شیخ عزیز الرحمن
12 اپریل 2025 (ہفتہ)کا دن ہمارے سرائیکی وسیب کے محنت کشوں کے لیے موت کا دن ثابت ہوا ایران کے مشرقی صوبہ سیستان کے ضلع مہرستان میں ہفتے کی صبح ایک افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں گاؤں حز آباد پائیں میں نامعلوم مسلح افراد نے ایک ورکشاپ پر اندھا دھند فائرنگ کرکے آٹھ پاکستانی شہریوں کو شہید کر دیا۔ تمام مقتولین مکینک تھے اور محنت مزدوری کے لیے ایران میں مقیم تھے۔ شہیدعرصہ تقریبا سات اٹھ سال سے ایران مگس میں کاروں کی ورکشاپ پر کام کرتے تھے
بی ا۔ین اے کالعدم بلوچ نیشنل آرمی کی بدمعاشی بے گناہ مظلوم 8 بہاولپور یوں کاقتل کیا ان نام نہاد ملک دشمنوں کے خلاف کاروائی ہو گی؟دہشت گردی کے نام پر سب سے زیادہ بہاولپور ڈویژن کے لوگوں کو ٹارگٹ کیا جا رہا ہے
ایرانی صوبہ سیستان میں 8 ریاستیوں (سرائیکیوں) بہاولپوریوں پاکستانی مزدوروں کا قتل، مقتولین کا تعلق پنجاب بہاولپور سے ہے جن میں چھ افراد کا علاقہ خانگاہ شریف اور دو کا ہماری تحصیل احمد پور شرقیہ سے تھا
ایرانی ذرائع ابلاغ "خامہ پریس" اور مقامی رپورٹس کے مطابق، یہ واقعہ افغان سرحد کے قریب پیش آیا۔ مسلح حملہ آوروں نے پہلے ورکشاپ پر دھاوا بولا اوران غریب مزدوروں کو ہاتھ پاؤں باندھ کر پھر اندھا دھند گولیاں چلا کر جائے وقوعہ سے فرار ہوگئے
ذرائع کے مطابق تمام شہداء کی شناخت ہو چکی ہے ۔شہیدوں کی
تفصیل درج ذیل ہے
1دلشاد ولد جندوڈا قوم برادری سیال گلی نمبر اٹھ خانقاہ شریف سمہ سٹہ بہاولپور
2 دانش ولد دلشاد قوم برادری سیال گلی نمبر اٹھ خانقاہ شریف سمہ سٹہ بہاولپور
3جعفر ولد مُحمد رمضان قوم برادری سیال گلی نمبر اٹھ خانقاہ شریف سمہ سٹہ بہاولپور
4ناصر ولد محمد قوم برادری کھيڑا موضع رنگ پور مسافر خانہ بہاولپور
5نعیم ولد غلام فرید قوم برادری ساندھی سکنہ محلہ سردار اباد خانقاہ شریف بہاول پور
6 عامر ولد مُحمد لیاقت قوم برادری ساندھی محلہ سردار اباد خانقاہ شریف بہاول پور
7محمد خالد قوم برادری بھٹی سکنہ ڈیرہ نواب احمد پور بہاول پور
8 مُحمد جمشید قوم برادری آرائیں سکنہ چکی موڑ احمدِ پور بہاؤل پور
یہ تمام افراد پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر بہاولپور سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ایران میں مزدوری کر رہے تھے۔
واقعے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بلوچ نیشنل آرمی نے قبول کر لی ہے۔ایرانی سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے، جبکہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایرانی حکام سے فوری تحقیقات اور حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق، حملہ آوروں نے ممکنہ طور پر شناخت کے بعد ان محنت کشوں کو نشانہ بنایا۔ یہ صرف گولیوں کی بوچھاڑ نہ تھی، یہ ان ماں باپ کے خوابوں پر حملہ تھا جنہوں نے اپنے بیٹوں کو روزی کمانے کے لیے پردیس بھیجا تھا۔
> "بارود کو کیا علم کہ رزقِ حلال کے پیچھے پسینے میں ڈوبا ہاتھ کتنا قیمتی ہوتا ہے۔ یہ صرف مزدوروں کا قتل نہیں—یہ امن، محنت اور امیدوں کا قتل ہے۔"
پنجاب لہو لہو۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ مزدور تھے، ایجنٹ نہیں!
یہ رزقِ حلال کما رہے تھے، کوئی سازش نہیں کر رہے تھے!
حز آباد میں بہا دیا گیا بہاولپور کا لہو — اور دنیا خاموش ہے!
یہ فائرنگ ان ہاتھوں پر کی گئی جو ہتھوڑا پکڑتے تھے، بندوق نہیں!
یہ گولیاں صرف سینوں میں نہیں لگیں، یہ بہاولپور کے شہداء کی ماؤں کے کلیجوں میں پیوست ہوئیں۔ اس کھلم کھلا دہشت گردی کے واقعے پر پورے پاکستان اور خصوصا سرائکی وسے میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور حکومت ایران سے فی الفور مقتولین کی لاشیں ان کے بھائی گھروں تک پہنچانے کا مطالبہ زور پکڑ گیا جس پر سانحہ ایران 8 شہدہ کی نعشیں ایران سے خصوصی فوجی طیارہ کے ذریعے بہاولپور اٸیر پورزٹ پہنچ گٸیں جہاں پولیس سیکورٹی اور ضلعی انتظامیہ پہلے ہی موجود تھی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری ریلوے میاں عثمان اویسی نے ورثاء کے ساتھ مقتولین کے جسد خاکی وصول کیں بہاولپور سے ایمبولینس پر خانقاہ شریف پہنچاٸی گٸیں گھر میں قیامت کا سماں ہے ہر طرف چیخ و پکاہے نماز جنازہ أج صبح 9 بجے گورنمنٹ بواٸز ہاٸی سکول خانقاہ شریف میں اداکی گی میتیں رات تین بجے سخت سیکورٹی میں ورثہ کے حوالے کی گٸیں مقامی ممبر قومی اسمبلی نے جنہوں نے لمحہ بہ لمحہ سفارت خانہ سے رابطہ رکھا اور میتیں لانے میں بت اہم کردار اداکیا سانحہ ایران دہشت گردوں کے ہاتھوں 8 شہدا کی میتیں خانقاہ شریف پہنچنے کے بعد دو نعشیں احمد پور روانہ اور دو ساندیاں والا روانہ جبکہ چار شہدا کانماز جنازہ 9 بجے گورنمنٹ بواٸز ہاٸی سکول میں ادا کیاگیا جس میں ڈپٹی کمشنر بہاولپور سمیت علاقے بھر کے ہزاروں افراد نے اشکبار انکھوں کے ساتھ شرکت کی اس غمناک موقع پر احمد پور شرقیہ میں سابق وفاقی وزیر وا سابق سینٹر محمد علی درانی نے بھی متاثرین کے گھروں کا دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ایران کے شہداء کو ایک کروڑ روپے فی کس معاوضہ ادا کرے سابق وفاقی وزیر محمد علی دورانی
سابق وفاقی وزیر محمد علی دورانی کا ایران میں قتل ہونے والےمزدوروں کے گھراحمد پور شرقیہ کے نواحی علاقہ محراب والا اور چکی موڑ پر دہشت گردوں کے ہاتھوں ایران میں شہید ہونے والے دو مزدور افراد اور خانگاہ شریف کی چھ گھر پر سابق وفاقی وزیر و سینیٹر محمد علی دورانی نے دورہ کیا اور اس موقع پر انہوں نے کہا کہ حکومت فل فور مزدوروں کے لواحقین کو ایک کروڑ روپے فی کا س معاوضہ ادا کرے انہوں نے یقین دلایا کہ اس سلسلے میں وہ ایرانی ایم بی سی سے بھی بات چیت کریں گے اور ایرانی کونسل خانہ میں کے چیف سے جا کر ملاقات کریں گے کہ حکومت ایران اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرے سابق وفاقی وزیر محمد علی دورانی نے کہا کہ دہشت گردی پاکستان کی جڑوں میں بیٹھ چکی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے سیاسی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے ہماری پاک فوج اور حکومت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے دن رات کام کر رہی ہے انہوں نے لوائقین سےاظہار افسوس کیا اور مرحومین کی خواتین کے سر پر چادریں رکھیں اس موقع پر محمد علی دورانی کی اہلیہ بھی ان کے ہمراہ تھیں اس سنگین صورتحال پر علاقے بھر میں کہرام مچا ہوا ہے اور عوام کا مطالبہ یہ بھی ہے کہ حکومت ایران فل فور ان متاثرین اور مقتولین کے ورصہ کی مالی معاونت کرے اور حکومت پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتے ہوئے اس قتل کے دہشت گردی کے واقعات میں ملوظ بی ایل اے ہو یا کوئی بھی دہشت گرد تنظیم ہو اس کا قلع قمع کرے اور ایک حقیقت یہ بھی سامنے ائی ہے کہ اس سال اٹھ مقتولین کی لاشیں ہمارے وسیب نے وصول کی ہیں تو گزشتہ سالوں میں بھی 12 مزدوروں کو اسی طریقے سے قتل کر کے ان کی لاشیں ہمارے علاقوں میں بھجوائی گئی تھیں جو بلا شبہ ایک قابل مذمت فعل ہے اس سلسلے میں چیف اف دی ارمی سٹاف کی حالیہ تقریر کہ ضمن میں لگتا ہے کہ بی ایل اے سمیت تمام دہشت گرد تنظیموں کا خاتمہ ہو کر رہے گا اور پاکستان میں امن کا قیام ہوگا


Comments
Post a Comment