وسیب کا تاریخی ورثہ شکست و ریخت کا شکار 💥 محکمہ اثار قدیمہ صرف لاہور




بدھ مت تاریخ کا عظیم اسٹوپہ 

سرائیکی وسیب کا تاریخی ورثہ شکست و ریخت کا شکار 💥

محکمہ اثار قدیمہ صرف لاہور تک محدود کیوں ؟

تحریر شیخ عزیز الرحمن 🔴

سرائکی وسیب اور خصوصا سابق ریاست بہاولپور کا علاقہ اپنے قدیم اور شاندار روایات کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق بھی یہاں کی بعض امارات کو انٹرنیشنل ارکیالوجی سٹینڈرڈ کے تحت ورلڈ ہیریٹیج قرار دیا گیا انہی تاریخی چیزوں میں بہت سے 

  تاریخی مزارات اوچشریف  متعلقہ اداروں کی عدم توجہی کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہوتے جا رہے ہیں  مزارات کی مرمت کے نام پر متعلقہ محکموں  نے کروڑوں بٹور لئے ، مگر کارکردگی صفر . دنیا بھر میں پاکستان اور اوچ شریف کی شناخت نقش و نگار کا عظیم  شاہکار مقبرہ بی بی جیوندی کی عمارت انتہائی خستہ حالی کاشکار ،  مقبرہ بی بی جیوندی کی عمارت دنیا کی ان  100 تاریخی عمارتوں میں شامل ہے جنہیں آرکیالوجی کے تھیسز میں یورپی یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا ہے ،مقبرہ بہاول حلیم اور مقبرہ نوریا سمیت دیگر مزارات کی عمارتیں بھی انتہائی خستہ حالی کاشکار ہیں تحصیل احمد پور شرقیہ کے  تاریخی شہر اوچ شریف کے مزارات مقبرہ بی بی جیوندی ، مقبرہ بہاول حلیم اور مقبرہ نوریا سمیت دیگر تاریخی مزارات محکمہ آثار قدیمہ اور حکومت کی عدم توجہی کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہو چکے ہیں ، دنیا بھر میں پاکستان اور اوچ شریف کی شناخت نقش و نگاری کے حامل مقبرہ بی بی جیوندی کی بھی حالت انتہائی خستہ ہے ،  حالانکہ اسے یورپیئن  یونیورسٹیوں میں دنیا کی ان  100 عمارتوں میں شامل کیا گیا ہے جسے آرکیالوجی کے تھیسز میں طلباء و طالبات کو پڑھایا جاتا ہے، اس کے علاوہ امریکن ایئر پورٹس پر اس مقبرہ بی بی جیوندی کی تصاویر نصب ہیں جو کہ اس کی عالمی شہرت کی واضح مثال ہے ، اس تاریخی مقبرہ کو 1494 ء میں خراسان کے حکمران دلشاد نے تعمیر کرایا ، یہ مقبرہ روغنی ٹائلوں اور نقش و نگاری کے کام کے باعث اپنی مثال آپ ہے ، اسی طرح مقبرہ بہاول حلیم اور مقبرہ نوریا بھی انتہائی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں ، ان  مقبرہ جات کی تاریخی عمارتوں کو دیکھنے کے لئے دنیا بھر سے سیاح اور ملک کے طول و عرض سے زائرین آتے ہیں ، زائرین اور سیاحوں کے مطابق ان مقبرہ جات کی حالت زار دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے ،  دنیا بھر میں تاریخی اثاثہ کو محفوظ کرنے کے لیے اقدامات کئے جاتے ہیں اور سیاحت کی مد میں کثیر زرمبادلہ کمایا جاتا ہے مگر یہاں حالات اس کے برعکس ہیں اور یہ تاریخی عمارتیں اس قدر خستہ اور کھنڈر  میں تبدیل ہو چکی ہیں کہ کسی بھی وقت زمین بوس ہونے کا اندیشہ ہے ، اس کے علاوہ یہاں سیاحوں اور  زائرین کے بیٹھنے اور رہائش کے لئے کوئی انتظامات نہیں ، یہاں تک کہ ان مقبرہ جات پر پانی کے پینے کا بھی انتظام تک نہیں ،، گزشتہ حکومت کی جانب سے مقبرہ بی بی جیوندی کی جو  مرمت کی گئی  وہ اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہیں ،  زائرین اور شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس   قیمتی تاریخی ورثے کی بحالی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے، اور انہیں مکمل تعمیر کرکے بحال کیا جائے ۔  اگر اس تاریخی ورثہ پر مناسب توجہ نہ دی گئی تو یہاں ماسوائے کھنڈرات کے کچھ نہیں ملے گا ، دوسری جانب ترجمان محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق اعلی حکام کو مقبرہ جات کی خستہ حالی بارے آگاہ کر چکے ہیں، فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث مسائل کا سامنا ہے کچھ عرصہ قبل چولستان میں واقع تاریخی قلعہ ڈراور کی تعمیر اور مرمت کے نام پر بھی کروڑوں روپے کا فنڈ ریلیز کیا گیا مگر موقع پر اس حد تک قائم کام نہ ہو سکا ابھی گزشتہ دنوں جب میں لاہور گیا تو وہاں پر میں نے مغل بادشاہوں کے شاہی قلعے کو دیکھا جسے پنجاب کی حکومت نے بھرپور فنڈز لگا کر کافی حد تک اصل حالت میں قائم کیا ہوا مگر ہم اگر  عباسیوں کے تاریخی قلعہ ڈیراور میں جائیں تو وہاں پر وہ کسی بھوت بنگلے کا منظر دکھائی دیتا ہے اور وہاں پر چمگاڈروں کے ڈیرے ہیں اگلے ماہ فروری میں تاریخی طور پر منکدہ ڈیزرٹس جیپ ریلی کا مرکز یہی قلع ڈراور ہوگا جہاں پر اتش بازی ہوگی اور یہاں پر امیرزادوں کی مزے اڑائے جائیں گے مگر کبھی بھی چولستانیوں یا قلعہ ڈرائیور اور اس سے متعلقہ مقامات کی تزین و ارائش اور ان کی بحالی کے لیے کوئی عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں ائے نواب آف بہاولپور ' صادق دوست ' سر صادق خان عباسی چہارم ' نواب صبح صادق ' آپ نے 1886 میں گورنمنٹ صادق ایجرٹن ڈگری کالج بہاولپور کی بنیاد رکھی موجودہ پاکستان کی تیسری سب سے بڑی مسجد جامعہ مسجد الصادق بہاولپور تعمیر کی ، صادق گڑھ محل ڈیرہ نواب صاحب کی دوبارہ تعمیر کی ، اٹلی اور یورپ کے دیگر ممالک سے کاریگر بلا کر نور محل بہاولپور تعمیر کی اور اسی طرح 53 سکول اور تعلیمی ادارے اور عوام کے لئے ہسپتال قائم کیے آپ حضرت خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن کے مرید تھے اور انڈس کوئین بحری جہاز آپ نے خواجہ صاحب کو تحفہ میں دیا تھا ۔ان کے دور حکومت میں بہاولپور اس قدر خوش حال ریاست تھی کے 72 کلو وزنی سونے کی کرسیاں بہاولپور کے محلات میں موجود تھیں مگر ماضی کی ان عظیم روایات کو سامنے رکھتے ہوئے عباسی خاندان کے افراد نے بھی اس طرف کوئی توجہ نہ دی حکومت کا تو روز اول سے ہی ہمارے علاقوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک رہا ہے ہے کسی بھی پارٹی کی حکومت ہو ہمیشہ انہوں نے اپر پنجاب کو نوازا ہے لاہور اور گرد و نواب میں بڑے بڑے نامور سرداروں کے تاریخی حویلیوں کو قائم کرنے کے لیے حکومت فنڈز قائم کر رہی ہے مگر سادے گڑھ پیلس ڈیرا نواب صاحب کے سامنے شالیمار باغ میں موجود سرائکی زبان کے عظیم شاعر اور روحانی شخصیت پیرحضرت غلام فرید اف کوٹ مٹھن والوں کی ایک تاریخی فرید محل موجود ہے جہاں خواجہ غلام فرید صاحب قیام کیا کرتے تھے اور یہاں پر چلا کشی اور شہری بھی فرماتے تھے اسی محل میں نواب بہاولپور ب نفس نفیس خود ان کی خدمت میں حاضر ہوتے مگر اج فرید محل اہستہ اہستہ شکست و ریخت کا شکار ہو رہا ہے اور ہر بارش میں اس کا کچھ حصہ گر جاتا ہے ایندا چند ماہ تک امید کی جاتی ہے کہ یہ محل زمین بوس ہو جائے گا اگر اس کی بحالی پر کام نہ کیا گیا خواجہ غلام فرید کے دربار اور اس کے سجادگان کو بھی اس امر کی طرف باور کرایا گیا مگر انہوں نے بھی کسی طور توجہ نہ دی اور اج فرید محل زمین بوس ہو رہا ہے اگر ہم تاریخی علاقوں کی بات کریں تو ۔ ﺑﺪﮪ ﻣﺖ ﮐﯽ  صدیوں پرانی گمنام ﻣﻌﺒﺪ ﮔﺎﮦ کی مختصر کتھابیان کی جاتی ہے کہ 

ﺑﮩﺎﻭﻟﭙﻮﺭ شہر ﺳﮯ مغرب کیطرف نیشنل ہائی وے پر تقریباً 30 منٹ ڈرائیونگ کی مسافت پر اڈہ مسافر خانہ سے چار کلومیٹر مزید مغرب کیطرف اڈہ "گلن ہٹی" سے جنوب مشرق کیطرف لنک روڈ پر تقریباً دو کلومیٹر کی مسافت پر بدھ مذہب کے ماننے والوں کی یہ عبادت گاہ انتہائی شکستہ حالت میں موجود ہے ﺍﻭﺭ اس کے بارے میں بہت ﮐﻢ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻗﺪﯾﻢ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﺬﮨﺐ ﺑﺪﮪ ﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﺟﮧ ﮐﻨﺸﮑﺎ ﮐﮯ ﺩﻭﺭِ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﮪ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﻣﻌﺒﺪ ﮔﺎﮦ ﯾﺎ اﺳﭩﻮﭘﺎ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ۔ﺍﻭﺭ ﺍُﺳﻮﻗﺖ ﯾﮧ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﻘﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﺮﺩﺵِ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﺁﺛﺎﺭ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮦ ﮔﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺟﮕﮧ جو ﻣﺎﺿﯽ ﻣﯿﮟ ﺑﺪﮪ ﻣﺖ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﯽ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺎﮦ اور ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺍﻋﻠﯽٰ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﯽ ﻓﺮﺍﮨﻤﯽ ﮐﯽ ﺩﺭﺱ ﮔﺎﮦ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﻭﮨﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﻣﭩﯽ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﻨﺎﺭ ﺍﻭﺭﮔﺮﺩﻭﻧﻮﺍﺡ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔

ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﭩﻮﭘﺎ ﺑﺪﮪ ﻣﺖ ﻣﺬﮨﺐ ﮐﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭ ﺳﭩﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﮔﺎﮦ تھی جو ﺍﺏ ﺻﺮﻑ ﯾﺎﺩﮔﺎﺭ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﭻ کے رہ ﮔﺌﯽ ﮨﮯ۔

1870 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍس ﺁﺛﺎﺭ ﻗﺪﯾﻤﮧ ﮐﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍُﺱ ﻭﻗﺖ ﺍس ﮐﯽ ﺍﻭﻧﭽﺎﺋﯽ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺗﻘﺮﯾﺒََﺎ 53 ﻓﭧ ﺑﻠﻨﺪ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻮﺍﺩﺙِ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ 1904 ﺀ ﯾﻌﻨﯽ ﺻﺮﻑ 34 ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﯽ ﺍُﻭﻧﭽﺎﺋﯽ 45 ﻓﭧ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ،ﺑﻌﺪ ﺍﺯﺍﮞ ﺍﺱ ﮐﺎ 20 ﻓﭧ ﺣﺼﮧّ ﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﭨﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺏ ﮔﯿﺎﺗﮭﺎﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﺻﺮﻑ 25 ﻓﭧ ﺑﻠﻨﺪ ﺣﺼﮧّ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﺑﺎﮨﺮ ﻧﻈﺮ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮈﮬﺎﻧﭽﮧ ﺍﯾﮏ ﮔﻮﻝ ﭨﺎﻭﺭ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﮨﮯ ﺟﻮﺑﮍﮮ ﺳﺎﺋﺰ ﮐﯽ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺪﺩ ﺳﮯ ﺑﻨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺷﺎﯾﺪ ﺑﺪﮪ ﻣﺖ ﮐﯽ ﻭﺍﺣﺪ ﯾﺎﺩ ﮔﺎﺭ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺳﭩﻮﭘﺎ ﮐﮯ ﻓﻦِ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﯾﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﻧﮑﺎﻟﯽ ﺟﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﻠﯿﭧ ﮐﮯ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﺪﮪ ﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﺟﺲ ﭘﺮ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﮐﯽ ﻋﺒﺎﺭﺕ ﮐﻨﺪﮦ ﮨﮯ۔

ﯾﮧ ﭨﺎﻭﺭ ﻧﻤﺎ ﮈﮬﺎﻧﭽﮧ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺑﺪﮪ ﻣﺖ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﻮﭘﺎ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺷﮩﻨﺸﺎﮦ ﮐﻨﺸﮑﺎ ﺍﻋﻈﻢ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﮯ

11 ﻭﯾﮟ ﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ۔ ﯾﮧ ﺳﭩﻮﭘﺎ ﻣﭩﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﻨﭩﻮﮞ ﺳﮯ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﮨﻢ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﮑﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﻨﭩﯿﮟ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔

ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﭩﻮﭘﺎ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺑﻊ نما ﮈﮬﺎﻧﭽﮯ ﭘﺮ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮔﻮﻻﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﺳﭩﻮﭘﺎ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺍنڈہ نما گنبد پر اختتام ہوتا تھا جو اب حوادث زمانہ کے باعث اپنے آثار کھوچکا ہے اسلامیہ یونیورسٹی اف بہاولپور میں بھی خصوصی طور پر شعبہ ارکیالوجی کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جہاں کے طالب علم حصول علم اور اپنی ریسرچ کے لیے ان مختلف علاقہ جات کا وزٹ بھی کرتے ہیں مگر ان کی سفارشات پر اج تک عمل درامد نہ ہو سکا چولستان میں ہی کچھ عرصہ قبل گنڈیری والا کے مقام پر ایک تاریخی ہزاروں سال پرانی تہذیب کا انکشاف ہوا ہے مگر سابقہ کمشنر بہاولپور کے دور میں تو اس پروجیکٹ پر عمل درامد شروع کیا گیا مگر اب وہاں پر بھی صرف سمگلر اور چوروں کا ڈیرا ہے جو وہاں پر قیمتی نوادرات کو نکالنے کے لیے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں متعدد مقدمات بھی پولیس نے درج کیے ہیں مگر نتیجہ صفر ان تمام صورتحال میں ضرورت اس امر کی ہے کہ فل فور محکمہ ارکیالوجی حکومت پنجاب خصوصی ایکشن لے اور ہمارے علاقوں کے تاریخی نادر و نایاب تعمیرات کے نمونوں کو اصل حالت میں برقرار رکھے تاکہ دنیا بھر سے انے والے سیاحوں کے علاوہ ہمارے انے والی نسلوں کو بھی اپنے شاندار ماضی کی روایات کا پتہ چل سکےی 

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید