وسیب کی دو اہم کشف و کرامات والی شخصیات
ہمارے وسیب کی دو اہم کشف و کرامات والی شخصیات کے عرس مبارک 💥
حضرت خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ اور حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی رحمۃ اللہ علیہ کے عرس مبارک
تحریر شیخ عزیز الرحمن
ہمارے وسیب میں علماء کرام اور صوفی حضرات کا بڑا عمل دخل رہا ہے سابق ریاست بہاولپور مکمل طور پر اسلامی ریاست کے تصور کے تحت کام کرتی تھی یہی وجہ ہے کہ یہاں پر علماء کرام اور صاحب کشف و کرامات شخصیات کا مسکن رہا نواب اف بہاولپور کے پیر حضرت خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ کہ سالانہ عرس کے موقع پر جہاں ایک طرف زائرین دھڑا دھڑ کوٹ مٹھن روانہ ہے تو دوسری طرف حکومت کی جانب سے پابندی بھی عائد کی گئی ہے سیکورٹی کی صورتحال کو وجہ بنا کر ہمارے صوفی شاعر عالم فاضل خواجہ غلام فرید کے عرس کی تقریبات کو سب و تازکیا جا رہا ہے حالانکہ اپر پنجاب لاہور سمیت دیگر علاقوں میں بڑے بڑے صوفیا کرام کے عرس سرکاری سرپرستی میں منائے جاتے ہیں مگر اس قسم کی حرکتوں کے باوجود بھی عوام کے دل سے ہمارے صوفیاء اور بزرگان کے محبت کو کم نہیں کیا جا سکتا ہمارے وسیب میں عرس کی مناسبت سے قائرین کی نذر کرتے ہیں کہ حضرت خواجہ غلام فرید 23 دسمبر 1845 کو خواجہ خدا بخش المعروف خواجہ محبوب الہی کے ہاں دریائے سندھ کے کنارے چاچنا شریف میں پیدا ہوئے ان کے والد بزرگوار نے ان کا نام خورشید عالم رکھا تھا جو بعد ازاں بابا فرید گنج شکر پاک پتن والے کی نسبت سے حضرت خواجہ غلام فرید تجویز کیا گیا یہی نسبتی نام زمانے میں تعارف بنا اور ہمیشہ رہے گا ابھی اپ کی عمر تین سال ہی تھی کہ اپ کے بھائی خواجہ فخر جہان نے خواجہ تاج محمود کی شاگردی میں دے دیا جہاں پر پہلا الف کے کے الفاظ ایسے ترنم سے دہرائے کے سننے والوں پر وجد طاری ہو گیا غالبا یہی سبق کا اثر تھا کہ زندگی بھر یہی سمجھاتے رہے کہ الف ایک ہی ہے حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ سندھی سرائیکی فارسی عربی اردو اور ہندی پر کافی عبو رکھتے تھے اور پیر طریقت کے سلسلے میں اپنے بھائی خواجہ فخر جہان کی بیعت شدہ تھے فکری اعتبار سے شیخ محی الدین العربی اور حسین بن منصور الحاج کی طرح وجود کے سرخیلوں میں شمار ہوئے بعض تاریخی روایات کے مطابق خواجہ غلام فرید کے أباواجداد سندھ سے ہجرت کر کے ملتان کی نواہی بستی منگلوٹ ائے وہاں سے مظفرگڑھ اور پھر بعدازاں چاچڑاں شریف رہائش پذیر ہوئے حضرت خواجہ غلام فرید کی مزاحمتی شاعری اور خصوصا انگریز کے خلاف پٹ انگریزی تھانے اور اپنی نگری اپ بسانے کا مشورہ اسی زمانے میں دیا جب دنیا داروں کے ساتھ ساتھ دین داروں کی بڑی تعداد بھی برطانوی سامراج کو انتظام الہی کا حصہ قرار دیتے ہوئے وفاداری کے مظاہروں میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہوئے انگریزوں کے غلام ہو چکے تھے نواب اف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی حضرت خواجہ غلام فرید سے والہانہ عقیدت کرتے تھے اور انہوں نے اپنے محل کے سامنے ہی نواب صاحب نے شالیمار باغ میں فرید محل تعمیر کرایا جہاں پر خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ اکثر قیام کرتے اور عقیدت بندوں کو شرف ملاقات بخشتے مگر حوادث زمانہ کے باعث اج یہ فرید محل اپنی اختتامی تباہی کی جانب گامزن ہے اور ائندہ چند سالوں میں یہاں نام و نشان ہی ختم ہو جائے گا حضرت خواجہ غلام فرید ذات پاک رنگ و نسل اور مذہب اور عقیدے سے نکل کر جینے کا راز بتاتے ہیں اور مخلوق سے محبت کو خالق سے اگاہی کا ذریعہ قرار دیتے ہیں ان کی شاعری میں ہر قسم کی نئی اصلاحات دیکھی جا سکتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ہر زی روح کو یہ سوچنا چاہیے کہ محبت ایثار قربانی کے اسباق کو بھلا کر نفرت اور کدورت اور استحصال کو زندگی کیسے سمجھ لیتا ہے حضرت خواجہ غلام فرید کا پیغام محبت اور درس حریت و فکر سرائیکی وسیب کے لوگوں کے لیے بالخصوص اور عالم انسانیت کے لیے بالعموم موجود ہے حضرت خواجہ غلام فرید رحمتہ اللہ علیہ کا عرس جاری ہے اور ملک کے طول و عرض سے عقیدت مندوں کے جوک درد جوک قافلے وہاں پر عقیدت پیش کرنے کے لیے موجود ہیں ہمارے وسیب میں ضلع بہاولپور کے علاقہ خانقاہ شریف میں حضرت شیخ خواجہ محکم الدین سیرانی رحمت اللہ علیہ کا سالانہ عرس کی تقریبات شروع ہو گئی ہیں اس صاحب کشف و کرامات بزرگ کا اصل نام محمد عبداللہ المعروف خواجہ محکم الدین سیلانی ہے اپ کا اصل مسکن ضلع اوکاڑہ کے قریب ایک مقام جو پاک پتن سے 16 کلومیٹر کے فاصلے پر دریائے ہاکڑا کے کنارے پر واقع فتح پور کے نام پر موجود ہے اپ وہاں پر پیدا ہوئے اپ خواجہ سیرانی کے نام سے مشہور ہوئے ہیں اپ کی پیدائش 1135 ہجری کو ہوئی اپ کے والد کا نام حافظ محمد عارف اور دادا کا نام حافظ محمود الدین تھا اپ کا گھرانہ علم و عمل تقوی طہارت اور عرفان کا گہوارہ تھا اپ نے پوری زندگی شادی نہیں کی اپ کا راجپوت قوم کی دیر شاخ کھرل سے تعلق تھا اپ نے تمام عمر تبلیغ دین اسلام کی خاطر صرف کی اور نہ ہی کوئی ان کی اولاد تھی سیاحت میں ہونے کی وجہ سے اپ کو سیرانی اور سیب العصر کے لقب سے جانے پہچانے جاتے تھے اہم بات یہ ہے کہ اپ کا جملہ کنبہ حافظ قران تھا اس لیے اپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر سے ہی حاصل کی اپ کے والد اور والدہ بھی حافظ قران تھے اپ نے کم عمری میں ہی قران پاک حفظ کر لیا اور 16 سال کی عمر میں شرح عقائد علامہ نقشبندی تک درس کتب کا دور بھی ختم کر لیا اپ کی قبلہ عالم حضرت نور محمد مہاروی رحمت اللہ علیہ کے ہمراہ مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور تشریف لے گئے اس کے بعد اپ کے چچا زاد بھائی حضرت خواجہ عبدالخالق حضرت خواجہ محکم ادین سیلانی کو اپنے ساتھ تکمیل تعلیم کی خاطر دہلی ہندوستان لے گئے جہاں اپ نے کئی برس قیام کیا اپ اپنے استاد گرامی کے فرمان کے مطابق اب وطن واپس پہنچے تو خواجہ عبدالخالق جو اپ کے چچا زاد بھائی تھے ان کے دست بیت ہوئے ان کے وقت کے بڑے بڑے عالم فاضل لوگ مشکل مشائل اور عملی نظامت کے لیے حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی کی خدمت میں حاضر ہوتے۔اپ نے مشہور زمانہ تصنیف تعلق مدنی تصنیف فرمائی ان کے مطالعے سے اپ کی عالمانہ نقطہ افرینی اور تصوف میں اپ کی نظر کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اپنے مرشد کے حکم پر شیخ المشائخ حضرت دیوان چاولی کے مزار پر گئے 40 یوم تک بغیر کچھ کھائے پیے سوم و سلاد میں گزارے جب اپ چلا کشی کر کے باہر ائے تو شیخ نے اپ کو حکم دیا کہ اپ جائیں اور سیر کریں گاہے بگاہے اگر ہمیں مل جایا کریں اپ نے اسلام پھیلانے کی خاطر تمام زندگی دنیا بھر کی سیر کی اور بار بار حج کی سعادت بھی حاصل کی اپ نے کئی بار پیدل سفر کیا اپ ہمیشہ سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی پابندی کرتے علماء و فقہاء کے مجالس میں بخوشی شرکت فرماتے اپنے دوران سفر غیر مسلموں اور دین سے غافل افراد کو دعوت اسلام اپ نے کبھی تہجد کی نماز بھی قضا نہ کی اپ ہمیشہ عبادت اور مراقبے میں مصروف رہتے روایات کے مطابق اپ نے اخری سفر حج 1197 ہجری میں خراسان کی طرف کیا روایات کے مطابق اپ دہرا جی ہندوستان کاچیواڑا میں اپنے ایک مریض حافظ کوکے کے پاس پہنچے جہاں اپ نے اس کی درخواست پر وہاں رات قیام کیا تو حافظ کوکی کو ضرورت سے زیادہ زہر دے دیا گیا جہاں پر ان کی طبیعت بہت خراب ہوئی پانی پینے سے زہر نے زیادہ اثر کیا جس سے اپ کو کہے ائی نماز عشاء کی ادا کے بعد اپ نے وصیت فرمائی کہ حافظ کوکی سے کوئی باز پرش نہ کرے بلکہ جہاں تک ممکن ہو سکے اس سے اس نے سلوک کا برتاؤ کیا جائے اپ نے اپنے مریدین کو 10 روپے عطا فرمایا کہ اس میں سے پانچ روپے میرے کفن پر خرچ کرنا اور پانچ روپے فقیراور مساکین میں تقسیم کر دینا ۔ان کے وصال کے بعد ان کی میت کو ان کے ابائی گھر فتح پھوڑ اکاڑا کی جانب لے لے کر جایا گیا تو راستے میں ان کی میت کا قافلہ موجودہ خنک شریف اور سابقہ نام گوٹ بخش کی جانب رواں دواں تھا کہ ایک ضعیف خاتون بی بی حلیمہ جو حضرت صاحب کی منہ بولی بہن بھی تھی عطر غلاب اپنے ہاتھوں میں لیے ائیں اور شوق زیارت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ حضرت کا جست خاکی مبارک گوٹ بخشا میں دفن کیا جائے اور پھر اس گوٹھ کا نام خننگا شریف کے نام سے مشہور ہو گیا لوائقین نے بی بی حلیمہ کی درخواست پر اپ کو یہاں سپرد کیا اور خود واپس چلے گئے ان کا اور اس مبارک یکم ربیع الثانی سے پانچ ربیع الثانی تک بھرپور طریقے سے منعقد کیا جاتا ہے سابق ایم این اے میاں نجیب الدین اویسی کی فیملی ان کے اہتمام اور محفل سماع اور عرس کی تقریبات کو منعقد کراتی ہے

Comments
Post a Comment