موہنجداڑو اور ہڑپہ کے ہم اثر تاریخی شہر گنڈیری والا کے چولستان میں اثار


 موہنجداڑو اور ہڑپہ کے ہم اثر تاریخی شہر گنڈیری والا  کے چولستان  میں اثار 

تحریر شیخ عزیز الرحمن 💥

ہزاروں سال قدامت اور شاندار ماضی رکھنے والےعظیم صحرا چولستان  کی عظمت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،سرائیکی وسیب کے انتہائی قدیم اور عظیم دریائے ہاکڑہ کی گزرگاہ چولستان جو کہ وادی ہاکڑہ بھی کہلاتا ہے، کی قدامت اور پروقار ماضی پر ہمیں فخر ہے، ہزاروں سال قدیم اس تہذیب کی کھوج کیلئے برطانوی ماہر آثار قدیمہ سر مارک آرل سٹائن نے اپنے پالتو کتے"ڈیش" کے ساتھ سن 1941 میں قلعہ ڈیراور سے کم و بیش تیس کلومیٹر جنوب مغرب میں چولستان کے ایک مقام "گنویری والا" تک انتہائی مشکل اور پرکٹھن سفر کیا اور گنویری والا کے مقام پر مختلف جگہوں پر کھدائی کی اور گمان کیا کہ یہ شہر کم و بیش چھ ہزار سال قبل مسیح کا ہے

سر مارک آرل سٹائن اپنی قابلیت کی بنا پر یورپ اور ایشیا میں آثار قدیمہ کی کھوج اور پرکھ پر اتھارٹی مانے جاتے تھے

اسی طرح ایک اور امریکی ماہر آثار قدیمہ سر ہنری فیلڈ نے سن 1955 میں گنویری والا کا وزٹ کیا اور گنویری والا کیساتھ ساتھ مختلف مقامات کے معائنہ کے بعد یہی خیال ظاہر کیا کہ یہاں ہزاروں سال قبل مسیح کے آبادی کے آثار موجود ہیں اسکے بعد ڈائریکٹر ماہر آثار قدیمہ پاکستان ڈاکٹر رفیق مغل صاحب نے سن 1974 میں چولستان کا ایک مہینے کا تفصیلی وزٹ کیا اور نتیجہ کے طور پر حیران کن انکشافات کئی انہوں نے کہا کہ گنویری والا موہنجودڑو سے بھی زیادہ قدیم شہر ہے اور سمندر سے موہنجودڑو، موہنجودڑو سے گنویری والا اور گنویری والا سے ہڑپہ کی مسافت بلکل ایک جیسی ہے، گنویری والا سے کھدائی کے دوران ملنے والے نوادرات، سفالی برتن اور باقی استعمال کی چیزوں میں سے کچھ کا جب رفیق مغل صاحب نے کاربن ڈیٹنگ ٹیسٹ کرایا تو معلوم ہوا کہ یہ نوادرات چھ ہزار سال قبل مسیح کے ہیں

بندہ ناچیز کی ذاتی معلومات کے مطابق اسوقت چولستان میں کم و بیش ایک ہزار قدیم ٹھیڑ ہیں جہاں قیمتی نوادرات اور گھریلو استعمال کی چیزیں پوشیدہ ہیں جو کہ ہماری شاندار قدیم تہذیب کی مؤثر و مضبوط دلیل ہیں مگر دکھ اور پریشانی کی خبر یہ ہے کہ گزشتہ کئی سالوں اور خاص طور پر اب کی بار مون سون کی بارشوں میں باہر کے صوبوں کے لوگوں نے جگہ جگہ کھدائی کرکے ات مچائی ہوئی ہے اور ہمارے شاندار ماضی کی نشانیوں کو تہس نہس کر رہے ہیں جو کہ سنگین ترین جرم ہے ایسے لوگ نہ صرف قوم بلکہ تاریخ کے بھی مجرم ہیں۔۔۔

یہ لوگ اپنے تھوڑے سے ذاتی مفاد کی خاطر نہ صرف سرائیکی وسیب اور پاکستان بلکہ نایاب ترین عالمی ورثہ کو بھی تباہ و برباد کر رہے ہیں   اس سلسلے میں 

 ۔ مشنر بہاول پور ڈویژن ڈاکٹر احتشام انور  نے بہاولپور میں سیاحت اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لئےسیاحتی ویب سائٹ ایکسپلور بہاول پور ”EXPLORE BAHAWALPUR“کا افتتاح تھا  کمشنر بہاول پور ڈویژن نے کہا کہ چولستان اور بہاول پور میں موسم سرما کی سیاحت کے لئے زبردست پوٹینشل موجود ہے۔ یہاں کے تاریخی قلعے، ثقافتی ورثہ اور ہزاروں سال قدیم پرانی تہذیب کے آثار انٹرنیشنل ٹورازم کے لئے شاندار امکانات کے حامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چولستان میں 5ہزار سال پرانی تہذیب کے آثار دریافت ہو چکے ہیں۔ چولستان میں مدفون قدیم شہر ”گویری والا“ کی باقیات کی دریافت و بحالی کے لئے کھدائی کے کام کا آغاز کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ چولستان کو سیاحتی مرکز بنانے کے لئے گریٹر ڈیراور فورٹ پارک کا منصوبہ زیر غور ہے جس میں قلعہ ڈیراور، تاریخی شاہی مسجد اور شاہی قبرستان کو محفوظ بنانے اور وہاں تھیم پارک بنا کر اس عالمی سطح کا سیاحتی مرکز بنایا جائے گا۔ اسی طرح چولستان میں موجود 19قلعوں کو ان کی اصل حالت میں محفوظ بنا کر سیاحت کے لئے بحال کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دبئی اور مصر کی طرز پر صحرا میں سیاحت کے لئے سہولیات کی فراہمی کا منصوبہ زیر تجویز ہے۔انہوں نے کہا کہ موسم سرما کے سیاحتی مرکز کے طور پر بہاول پور ڈویژن بالخصوص چولستان کو دستیاب وسائل کے مطابق دنیا کے سامنے پیش کیا جائے کہ ٹورازم انڈسٹری میں سرمایہ کاری کے لئے بہترین امکانات موجود ہیں۔ ادھراین سی اے کی سابقہ پرنسپل، پروفیسر ساجدہ ونڈل صاحبہ اور نصراللّہ ناصر صاحب بھی اس سلسلے میں پوری معلومات رکھتے ہیں  لیکن یہ کیسے ہو سکتا تھا پورے کا پورا ایک شہر چولستان کی صحرا میں سینکڑوں سالوں سے مدفون ہو اور عام پاکستانی تو ایک طرف، بہاولپور کے رہنے والے بھی عمومی طور پر اس سے بے خبر ہوں! اس سلسلے میں کمشنر بہاولپور اپنی یادداشت بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ 

یہ 2016 کی بات ہے اور میں ان کے اور یونیسکو  (UNESCO) پاکستان کی ایک غیر ملکی ڈائریکٹر کے ساتھ صحراء چولستان میں دراوڑ آیا ہوا تھا۔ ہماری کوشش تھی کہ قلعہ دراوڑ یونیسکو کی  Tentative Heritage List میں ڈل سکے تاکہ ہمیں اسکی بقا، بحالی اور تحفظ  کے لیے ماہرین کی خدمات اور فنڈز تک رسائی حاصل ہوسکے۔ 

قلعہ دراوڑ کے دورے کے دوران اس مدفون شہر کا ذکر بھی آیا کہ جسے وہ گنویری والا کا نام دے رہے تھے۔  کمشنر صاحب  کہتے ہیں کہ بھلا ہو پروفیسر ساجدہ ونڈل صاحبہ کا، ہماری گزارش پر انہوں نے چند نامور ماہرینِ آثارِ قدیمہ اپنے ساتھ لیے اور بہاولپور آن وارد ہوئیں۔ ان ماہرین میں  سلیم صاحب، مقصود صاحب، افضل صاحب اور حسن صاحب شامل تھے لیکن سب سے بڑا نام اور مقام ڈاکٹر رفیق مغل کا تھا۔ اسّی کے پیٹے میں ہوں گے۔دل جوان تھا، عمر مگر اب جسم پر بھی کچھ اثر دکھا رہی تھی کہ تھوڑا کمر میں خم آگیا تھا اور کبھی کبھی لاٹھی کی ضرورت بھی پڑ جاتی تھی۔ اس تمام کے باوجود گھنٹوں کا سفر اختیار کر کے بہاولپور تشریف لے آئے۔ گنویری والا کا نام سننا تھا تو گویا وہ پھر سے جوان ہو گئے۔ یہاں یہ بھی بتاتا چلوں کہ ڈاکٹر صاحب کا شمار پاکستان کی تاریخ کے معتبر ترین ماہرینِ آثارِ قدیمہ میں  ہوتا ہے۔ اگریوں بھی کہہ لیں کہ وہی سب سے بڑا نام ہے تو شاید یہ بھی غلط نہ ہوگا۔ 

میرے دفتر میں ہماری پہلی نشست میں گنویری والا کی موجودگی اور اسکی قدامت کے حوالے سے وہ سب میرے چبھتے ہوئے سوالوں کے جواب دیتے رہے۔ اگرچہ پہلے بھی چند ماہرین نے گنویری والا کی نشاندہی کی تھی لیکن یہ ڈاکٹر رفیق مغل ہی تھے جنہوں نے 1970 کی دہائی میں ایک جامع اور مدلل ریسرچ پیپر کی صورت میں گنویری والا کی حقیقت کو سب کے سامنے بیان کیا۔ پچاس ساٹھ سال ہونے کو تھے لیکن اس معاملے کو اربابِ اختیار و اقتدار نے درخورِ اعتنا نہ سمجھا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ شاید ذمہ دار عہدوں پر تعینات افراد تک صحیح معنوں میں اس کی خبر پہنچ ہی نہ سکی ہو ورنہ کوئی نہ کوئی اس کا بیڑا ضرور اٹھاتا۔ اور ویسے بھی تگ و دو سے عبارت ہماری اس انفرادی اور قومی زندگی میں اتنے جھمیلے ہیں کہ آثارِ قدیمہ کی کسے سوجھتی!

 جو سب سے حیرت انگیز بات ڈاکٹر مغل بتا رہے تھے وہ یہ تھی کہ گنویری والا کا تعلق بھی پانچ چھ ہزار سالہ پرانی دریائے سندھ کی تہذیب سے تھا۔ یہ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کا ہم عصر شہر تھا بلکہ انہی تین شہروں کو اس تہذیب کے تین سب سے بڑے شہر سمجھا جاتا تھا۔ ڈاکٹر مغل کے تئیں گنویری والا اگرچہ موہنجو داڑو سے کچھ چھوٹا لیکن ہڑپہ سے تھوڑا بڑا شہر تھا۔ یہ سب انکشافات میرے شوق، میرے تجسس کو جِلا بخشنے کے لیے کافی تھے۔۔ ڈاکٹر صاحب بتانے لگے گنویری والا ہمارے پیروں تلے اسی ٹیلے کے نیچے مدفون تھا۔ اس ٹیلے پر ہر طرف ٹھیکریاں پھیلی ہوئی تھیں۔ بقول ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں کے، یہ اس زمانے میں بسنے والے لوگوں کے برتنوں، ضرورت کی دیگر اشیا اور اینٹوں کی باقیات تھیں۔ ہم سب اس ٹیلے پر پھیل گئے اور اس کی مٹی، اس کے پتھروں، اس کی ٹھیکریوں کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔ لوٹے تو ہر ایک کے ہاتھ میں کچھ نہ کچھ تھا۔ خود مجھے ظروف کے ٹکڑے، کوہان والا ایک کھلونا بیل اوراس کی بیل گاڑی کا پہیہ ملا، بالکل ویسے ہی جیسے ہم ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے عجائب گھروں میں دیکھتے ہیں۔ آج کے دور سے ملتی جلتی بہت اچھی حالت میں ایک اینٹ بھی ملی، میرا خیال تھا یہ نسبتاً کچھ نئی ہو گی۔ ڈاکٹر صاحب اور ان کے ساتھیوں کو دکھائی تو وہ کہنے لگے یہ کم از کم پانچ ہزار سال پرانی ہو گی۔ میں نے بے یقینی سے سر ہلا دیا کہ یہ تو جدید دور کی معلوم ہوتی ہے۔ ہنس کر کہنے لگے کہ اس دور کے ہنر مندوں کی تیار کردہ ایسی اینٹیں بھی ملی ہیں کہ جنہیں دیکھ کر گمان ہوتا ہے کہ شاید ان کی کٹائی لیزر کی مدد سے کی گئی ہو۔  کہنے لگے اپنے اس دریائے سندھ کی تہذیب اپنے عروج پر کچھ ایسے ہی کمالات دکھا رہی تھی۔

ڈاکٹر مغل اور ان کے رفقا نے بتایا کہ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی طرح عمومی طور پر اُس دور کے شہر نسبتاً بلند جگہوں پر اور ایک  مرکزی ٹیلے کے گرد آباد ہوتے تھے۔ گنویری والا بھی اسی انداز میں آباد کیا گیا تھا۔

اس موقع پر ایک امر کا انتہائی افسوس ہوا کہ گنویری والا جس ٹیلے پر آباد تھا، 

اس شام واپس لوٹے تو گنویری والا کے حوالے سے گمان حقیقت میں بدل چکا تھا، خبر امر بن چکی تھی۔

گنویری والا کی صورت ایک اثاثہ تھا، ایک خزانہ تھا جس کی نشاندہی ہو چکی تھی اور جسے اب ہمیں ڈھونڈ نکالنا تھا۔ نسلوں کا قرض چکانا تھا کہ گزری نسلوں کی زندگی اور طور اطوار سامنے لانے تھے اور محفوظ بنانے تھے، تو دوسری طرف آنے والی نسلوں کو بھی اپنے آباو اجداد کے رہن سہن سے آگاہ کرنا تھا۔ اور پھر کیا معلوم کھدائی ہونے پر محققین اور ماہرین کے لیے اور نئی دریافتیں، نئے انکشافات بھی سامنے آجاتے۔

کوئی اور ملک ہوتا تو اس دریافت پر ان ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو قومی ایوارڈ سے نوازا جاتا، اخباروں میں بڑی بڑی سرخیاں لگتیں، دستاویزی فلمیں بنائی جاتیں، اعلٰی پائے کی تحقیق ہوتی اور پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جاتے، قرب و جوار میں ملنے والے نوادرات کے لیے عجائب گھر بنتا، ملک کے دیگر عجائب گھروں کو بھی نوادرات بھجوائے جاتے، بہتر رسائی کے لیے سڑکیں، ہوٹل اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتیں، ملک اور بیرون ملک سے سیاحوں کی آمد و رفت شروع ہو جاتی، سیاحت سے جڑی معاشی سرگرمیاں فروغ پاتیں، علاقے اور اس کے مکینوں کے دن پھر جاتے! 

جہاں تک ہمارا تعلق ہے، ہم تہیہ کر چکے تھے کہ گنویری والا کی آواز اعلٰی ترین حکام تک پہنچائیں گے۔ ہمارا پہلا پڑاؤ گورنر ہاؤس ٹھہرا کہ جناب بلیغ الرحمٰن کا تعلق بہاولپور سے ہونے کے سبب ہمیں امید تھی کہ ہم انہیں قائل کر پائیں گے۔ اس روز بھی سارے متعلقہ افراد اور محکمے اور ماہرینِ آثارِ قدیمہ کو ہم ساتھ لے کر گئے۔ سیر حاصل گفتگو ہوئی اور گورنر صاحب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جو بھی بن پڑا وہ گنویری والا کے لیے کریں گے۔ فوری طور پر ہدایات و احکامات جاری کر دیے گئے۔

آنے والے دنوں میں وزیر اعلٰی پنجاب، جناب محسن نقوی کو جب ہم نے ایک میٹنگ میں گنویری والا کی بابت مطلع کیا اور ان سے فنڈ مختص کرنے کی گزارش کی تو ان کی دلچسپی بھی دیدنی تھی۔ ایک لمحے کی بھی تاخیر کیے بغیر انہوں نے کھدائی کے ابتدائی مرحلے کے لیے مطلوبہ فنڈ فراہم کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔

اطمینان کی بات یہ ہے کہ تمام تیاریاں مکمل ہیں اور اب جلد ہی اس شہر کی کھدائی شروع ہوا چاہتی ہے۔ ہم نے ڈاکٹر رفیق مغل، پروفیسر ساجدہ ونڈل صاحبہ اور ان کے رفقا ہی سے یہ بیڑا اٹھانے کی درخواست کی ہے۔  ڈاکٹر مغل تو خاص طور پر پُر جوش ہیں کہ انہیں شاید پہلی دفعہ لگ رہا ہے ان کی سالوں پر محیط، دہائیوں پرانی تحقیق رائیگاں نہیں گئی اور اسے آخر کار ان کی زندگی میں ہی والی وارث مل گئے ہیں۔

 اب وہ دن دور نہیں کہ ہزاروں سال پرانا شہر پھر سے ریت کا سینہ چاک کرتے ہوئے باہر نکل آئے گا۔

آج کے بعد تاریخ اورجغرافیے کی کتابوں میں موہنجو داڑو اور ہڑپہ کے ساتھ ساتھ اب اس کا ذکر بھی عام ہو جائے گا۔ 

ہمارے پیارے بہاولپور کے مُرَصَّع  تاج میں ایک اور نگینے کا اضافہ ہو گا یہ گنویری والا! اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اس سلسلے میں پوری ایمانداری کے ساتھ کھدائی کا کام شروع کیا جائے تاکہ انے والی نسلوں کے لیے ایک تاریخی شہر اور مدفن خزانہ برامد ہو سکے

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید