💥 بہاولپور میوزیم ہمارا ثقافتی ورثہ



 عجائب گھر ہمارے شاندار ماضی سے جڑی روایات کا ثبوت 💥

بہاولپور میوزیم ہمارا ثقافتی ورثہ

تحریر شیخ عزیز الرحمن 🔥 عجائب گھر ہے۔ عجائب گھر ایک ایسا ادارہ ہے جہاں کتب یا آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور دیکھ بھال بھی۔ اس میں علوم و فنون کے نمونہ جات، وراثتی، ثقافتی، تہذیبی تمدنی اور ارتقا جیسے شعبہ جات کے آثار کا تحفظ کیا جاتا ہے اور نمائش کے لیے رکھا جاتا میوزیم کسی بھی قوم کا ثقافتی ورثہ ہوتا ہے۔ اس میں محفوظ کردہ نوادرات اور اشیاء ہمیں تاریخ، تہذیب، اور روایات سے جوڑتی ہیں۔"

بہاول پور کے مطالعاتی دورے میں جب اپ جائیں تو وہاں پر سابق ریاست بہاول پور سے جڑے ہوئے محل مینار تاریخی مساجد قبرستان تاریخ، ثقافت، اور آرکیٹیکچر کے پہلوؤں کو قریب سے دیکھا جائے تو انہی خوبصورت عمارتوں میں ایک بہاولپور میوزیم کا دورہ کریں جہاں أپکو شہر کی شاندار ماضی کی جھلک دیکھنے کو ملے گی ۔بہاولپور عجائب گھر (Bahawalpur museum)جو 1976 میں بنایا گیا۔ یہاں مختلف شعبوں سے متعلق چیزوں کو محفوظ کیا گیا ہے۔ جیسے آثار قدیمہ، فنون، ثقافتی ورثہ، جدید تاریخ اور مذہب۔ یہ میوزیم بہاولپور کی ضلعی حکومت کے تحت چلایا جاتا ہے۔

عجائب گھر میں کل آٹھ گیلریاں ہیں:

تحریک پاکستان گیلری: یہاں تحریک پاکستان کے دوران کی تصاویر اور رہنماؤں کی تصاویر رکھی گئی ہیں۔

آثار قدیمہ کی گیلری: اس میں اس علاقے کی پرانی تاریخ اور باقیات کو دکھایا گیا ہے۔

اسلامی گیلری: اس میں اسلامی دور کی اشیاء ہیں، جیسے اسلحہ، کپڑے، پینٹنگز اور دھات کے نمونے۔

علاقائی ثقافتی گیلری: یہاں چولستان اور بہاولپور کے اردگرد علاقوں کی روزمرہ زندگی کی چیزیں رکھی گئی ہیں۔

سکوں کی گیلری: اس گیلری میں تین سو سے زیادہ پرانے سکے موجود ہیں۔

قرآن گیلری: اس میں قرآن کے نادر نسخے اور قدیم دستاویزات رکھی گئی ہیں۔

بہاولپور گیلری: اس میں بہاولپور ریاست کی تصاویر اور اشیاء شامل ہیں، جو برطانوی دور کی بڑی ریاستوں میں سے ایک تھی۔

چولستان گیلری: اس میں چولستان کے علاقے کی ثقافت اور آرٹ کی چیزیں دکھائی گئی ہیں۔

یہ عجائب گھر بہاولپور کی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ رکھنے اور دکھانے کا اہم مرکز ہے۔زبیر ربانی صاحب کو اس میوزم کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا جو بڑے عرصے سے یہاں پر خدمات انجام دے رہے تاریخ کے طالب علموں کو چاہیے کہ وہ بہاولپور کا عجائب گھر دیکھیئے، جہاں پر ہزاروں سال پُرانا سمائلِنگ بُدّھا آپ کا انتظٓار کر رہا ہے۔

ہمارے بہاولپور کی تہذیب، پروپیگینڈا مقاصِد پر لکھی گئی مُعاشرتی علوم کی کِتاب میں فراہم کردہ معلومات سے کہیں پُرانی ہے۔ ہمارے عِلاقے سے بُدھ مت تہذیب کے نوادرات اور آثٓارِ قدیمہ نِکلتے ہیں۔ بہاولپور میں اس وقت دو سو سے زیادہ(ڈھائی سو تک) آثارِ قدیمہ کی سائٹس ہیں۔ اگر بہاولپور کے مقامی باشِندوں اور پیدائشیوں کو معاشرتی علوم کے ساتھ جُغرافیہ، سماجیات اور دینیات لکھوانے میں شامل کیا جائے یا پھر یہ مضامین کم از کم پانچ جماعتوں میں پڑھائے جائیں، اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ہمارے بچوں کو اثارِ قدیمہ کی تعلیم دلوائی جائے اور ہماری زمین سے موتی اور مورتیاں نکال کر ایتیھنز سمگل نہ کروائی جائیں تو مقامی، اگلی نسل پاکستان کے لیئے سیّاحت کی مد میں اربوں روپے جمع کر سکتی ہے۔

فی الحال بہاولپور کی سِول سوسائٹی اور صحافیوں کو ہمارے اثاثہ جات کو بچانے کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے لیکن کیا کِیا جائے کہ سیاستدانوں کی آپسی لڑائیوں میں ہمارے نوجوان کی توجہ بُنیادی مسائل سے ہٹا کر مُلک سے بھاگ جانے پر لگائی جا رہی ہے۔

حکومت سے گُذارِش ہے کہ فوری طور پر بہاولپور کے آثارِ قدیمہ پر کام شُروع کروایا جائے۔بہاولپور کا عجائب خانہ 

 سکول کالج اور یونیورسٹی کے بچوں کو خوش آمدید کہتا ہے۔ میں نے اپنے بچوں کو میوزیم دکھایا تو وہ بہت خوش ہوئے۔ سائکل رکشہ جس پر ہم سواری کرتے تھے۔ میرے بچوں نے کبھی دیکھا یا سنا بھی نہیں تھا اور نہ ہی وہ ان کی معاشرتی علوم کی کتاب میں تھا۔

 اسی طرح ہم پورے پاکستان کی طرف نگاہ دوڑائیں تو ہمیں بہت سے تاریخی عجائب گھر دیکھنے کو ملیں گے جو تاریخ سے تعلق رکھنے والی شخصیات کے لیے ایک اہم جز ثابت ہوتے ہیں ان میں سے 

پاکستان کے قومی میوزیم میں شامل لاہور عجائب گھر۔

عجائب گھر پشاور

لوک ورثہ ، اسلام آباد۔

عجائب گھر ، بہاولپور ۔

قومی عجائب گھر پاکستان۔

ٹیکسلا کا عجائب گھر۔

قصور میوزیم۔

چترال میوزیم۔

عجائب گھر موہنجو دڑو۔

ہنڈ میوزیم، صوابی۔

شاہی قلعہ میوزیم، لاہور۔

ہڑپہ کا عجائب گھر۔بنوں میوزیم

کالاشا میوزیم، بمبوریت۔

لائل پور میوزیم، فیصل آباد۔

پشکلاوتی میوزیم، چکدرہ۔

عجائب گھر سندھ، حیدرآباد۔

مردان میوزیم،

گوڑکھتری میوزیم، پشاور۔

عجائب گھر عمر کوٹ۔

اقبال منزل، سیالکوٹ۔

دیر میوزیم، چکدرہ۔

ہیڈ پنجند میوزیم۔

سوات میوزیم

بھنبھور میوزیم، سندھ۔

قومی تاریخی عجائب گھر، لاہور۔

لائیڈ بیراج میوزیم، سکھر۔

وزیر مینشن ، کراچی۔

ٹھٹھہ میوزیم ، سندھ۔

مزارِ قائد میوزیم ، کراچی۔

جیولوجیکل میوزیم، کوئٹہ۔

پاکستان ریلوے ہریٹیج میوزیم راولپنڈی ۔

پاکستان میوزیم آف نیچرل ہسٹری، اسلام آباد۔

یادگار پاکستان عجائب گھر، اسلام آباد۔

سٹیٹ بینک میوزیم، کراچی۔سر فہرست ہیں ہماری سابقہ ریاست بہاولپور کی تاریخی اشیاء کو شاہی خاندان میں تقسیم کے موقع پر دنیا بھر کے سمگلروں نے ا کر یہاں سے خریداری کروائی اور ریاست بہاولپور کے تاریخی خدوخال اور قیمتی نادر و نایاب اشیاء اٹھا کر چلتے بنے اور چوری شدہ چیزوں کے ایک بڑی تعداد تھانہ سٹی احمد پور شرقیہ میں گل سڑ گئی حالانکہ ضرورت اس امر کی ہے کہ سابق ریاست بہاولپور کے حکمرانوں کے زیر استعمال قیمتی نادر اور نایاب اشیاء کو عجائب خانوں کی نظر کیا جائے اور وہاں پر انے والی نسلوں کو ہمارے ماضی کے شاندار جھروکوں سے روشنی مل سکے

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید