پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل روحانی میلہ ۔💥چنن پیر



 پاکستان کی تاریخ کا سب سے طویل روحانی میلہ ۔💥چنن پیر کی اصل حقیقت ۔

تحریر شیخ عزیز الرحمن 


صحرائے چولستان میں واقع دربار حضرت چنن پیر ایک تاریخی اور روحانی مقام ہے جو بہاولپور سے تقریباً 60 میل کے فاصلے پر، قلعہ ڈیراور اور دین گڑھ کے درمیان، تحصیل یزمان کے قریب واقع ہے۔ یہ مزار تقریباً 600 سال قدیم ہے اور یہاں ہندو اور مسلمان دونوں عقیدت مند بڑی تعداد میں حاضری دیتے ہیں۔قدیمی روایات کے مطابق 

 حضرت چنن پیر کا اصل نام عماد الدین تھا اپ کو اپ کے حسن صورت وسیرت کی وجہ سے چنن پیر کا نام ملا اپ بڑے عالم دین اور مبلغ اسلام بنے اور یہیں پر مدفون ہیں اور وہ ایک ہندو راجہ، سادھارن جٹ بھٹی، کے بیٹے تھے۔ بعض روایات میں جیسے میر کے راجہ کی اولاد کہا جاتا ہے کہ معروف صوفی بزرگ حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت بخاریؒ کی دعا سے راجہ کے ہاں یہ بیٹا پیدا ہوا، جو پیدائشی طور پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتا تھا۔ اس غیر معمولی واقعے کی وجہ سے راجہ نے بیٹے کو صحرا میں چھوڑ دیا، جہاں ایک ہرنی نے اس کی پرورش کی۔ بعد ازاں، چنن پیر نے حضرت جلال الدین سرخ پوش بخاریؒ سے روحانی تربیت حاصل کی اور اپنی زندگی اسی مقام پر گزاری۔بعض روایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ان کی پرورش ایک چرواہے نے کی جو روحانی علم بھی رکھتا تھا 

 حضرت چنن پیر کا عرس ہر سال فروری کی آخری جمعرات سے شروع ہو کر سات ہفتوں تک جاری رہتا ہے، جو اپریل کی پہلی جمعرات تک پہنچتا ہے۔ پانچویں جمعرات کو میلہ اپنے عروج پر ہوتا ہے، اور اس دن ضلع بہاولپور میں عام تعطیل ہوتی ہے۔ اس دوران ہزاروں عقیدت مند یہاں حاضری دیتے ہیں، اور مختلف ثقافتی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔دربار چنن پیر ایک بڑے ریت کے ٹیلے پر واقع ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب بھی یہاں عمارت تعمیر کرنے کی کوشش کی گئی، وہ ناکام رہی۔ مزار کے احاطے میں ایک درخت بھی موجود ہے، جس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہاں چنن پیر کی والدہ مدفون ہیں۔ زائرین اپنی حاجات بیان کرنے کے بعد اس درخت سے کپڑے کی کترنیں باندھتے ہیں، اور منت پوری ہونے پر یہ کترنیں خود بخود کھل جاتی ہیں۔

یہ دربار نہ صرف روحانی مرکز ہے بلکہ امن و آشتی کی علامت بھی ہے، جہاں مختلف مذاہب کے لوگ بلا تفریق حاضری دیتے ہیں اور اپنی مرادیں پاتے ہیں 1965 میں محکمہ اوقاف نے اس میلہ اور درگاہ کا انتظام سنبھالا موجودہ چک نمبر 94 موزہ چنن پیر میں ریت کے ٹیلے پر واقع مزار زائرین کی توجہ کا مرکز ہے جہاں سالانہ اور اس کے موقع پر محکمہ اوقاف لاکھوں روپے کی امدنی وصول کرتا ہے ۔حضرت چنن پیر کے بارے میں کئی روایات مشہور ہیں، جو صدیوں سے چولستان اور اس کے ارد گرد کے علاقوں میں موجود ہیں۔ یہ دربار ایک تاریخی اور روحانی مقام ہے، جہاں ہندو اور مسلمان دونوں بڑی عقیدت کے ساتھ آتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ جنرل پیر کے والد جو اس وقت چولستان کا حکمران تھا۔ بعض روایات کے مطابق، ان کے والدین نے حضرت مخدوم جہانیاں جہاں گشت بخاریؒ (اوچ شریف کے معروف صوفی بزرگ) سے دعا لی تھی، کیونکہ وہ بے اولاد تھے۔ ان کی دعا سے بیٹا پیدا ہوا، لیکن حیرت انگیز بات یہ تھی کہ وہ پیدائشی طور پر کلمہ طیبہ پڑھتے تھے۔

یہ بات ہندو راجہ کے لیے ناقابل قبول تھی۔ اس نے بیٹے کو مارنے کا فیصلہ کیا، مگر اس کی ماں نے محبت میں ایسا نہ ہونے دیا اور اسے صحرا میں چھوڑ دیا۔ کہا جاتا ہے کہ حضرت چنن پیر کو ایک ہرنی نے دودھ پلایا اور وہ صحرا میں ہی پروان چڑھے۔ بعد میں خاندان سادات کے ایک بزرگ بخاریؒ نے انہیں روحانی تربیت دی اور وہ خود بھی صوفی بزرگ بن گئے۔

چنن پیر کی تعلیمات اور روحانی حیثیت کے بارے میں اگر دیکھا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ 

حضرت چنن پیر کا مزار اس بات کی علامت ہے کہ یہ جگہ ہندو مسلم اتحاد کی مثال رہی ہے۔ ان کی تعلیمات محبت، رواداری اور روحانی معرفت پر مبنی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی ان کے عقیدت مندوں میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل ہیں۔اور اس کے موقع پر جنگل میں منگل کا سماں پیدا ہوتا ہے ساتھ جمع راتوں پر مشتمل پاکستان کے اس طویل ترین روحانی میلے اور

عرس کی تقریبات میں شامل اہم سرگرمیاں:بڑے مذہبی جوش و جنون سے ادا کی جاتی ہیں 

1. زیارت: زائرین دربار پر حاضری دیتے ہیں اور چادر چڑھاتے ہیں۔اس زیارت میں ہندو مسلمان لوگ فنکار بھی میلے میں اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ابتدائی ایام میں ہندوستان کی ریاست جج المیر تھر اور تھل کے علاوہ چولستان کے رحیلے ہزاروں کی تعداد میں ان کے مزار پر حاضری دینے اور منتیں پوری کرنے کے لیے انے لگے اور پھر روہیلے اونٹوں کو سر سے پاؤں تک مکمل زیورات سے اراستہ کر کے قافلوں کی صورت میں اونٹوں کی قطاریں جن کے کچادوں کچاؤوں پر بیٹھی خواتین ثقافتی لباس اور روہی کے زیورات سے مرین کورس کے انداز میں روایتی سرے اور گیت گاتی ہیں زیورات کی مسور کن چھنکار میں یہ قافلے دن رات مزار پر پڑاؤ کرتے ہیں الاؤ جلاتے ہیں جانور ذبح کرتے ہیں کیمپ فائر کی طرح رات گزارتے ہیں اور پھر اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہو جاتے ہیں زیارت کرنے والے افراد مزار سے متصل ایک مسجد میں بھی جاتے ہیں جو دوسری طرف ایک اور مزار بھی موجود ہے جو بی بی پردہ پوش کے نام سے معصوم ہے 

2. منتیں اور دعا: لوگ اپنی مرادیں مانگتے ہیں، اور ایک خاص درخت پر کپڑے کی کترنیں باندھتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جب منت پوری ہو جاتی ہے، تو یہ کپڑے خود بخود کھل جاتے ہیں

3. محفل سماع: صوفی قوالیاں اور نعت خوانی کی محافل منعقد کی جاتی ہیں

4. مٹی کے دیے جلانا: زائرین دربار کے احاطے میں مٹی کے دیے جلاتے ہیں، جو روحانی عقیدت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔ روایتی ثقافتی سرگرمیاں بھی انجام دی جاتی ہیں میلے میں مقامی لوک گیت، روایتی رقص، اونٹوں کی دوڑ، اور دیگر تفریحی سرگرمیاں منعقد کی جاتی ہیں۔جن میں گزشتہ چند سالوں سے ٹریکٹروں کی دوڑیں میلے کا اہم جز بنتی جا رہی ہے جبکہ مختلف ریت کے ٹینوں پر موٹر سائیکل سوار منچلے ہر وقت موٹر سائیکل کی دوڑیں لگاتے نظر اتے ہیں 

قربانی اور نیاز: عقیدت مند مختلف اقسام کی نذریں پیش کرتے ہیں، جن میں دودھ، مٹھائیاں، اور کھانے کی اشیاء شامل ہوتی ہیں۔ جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں جانور ذبح کیے جاتے ہیں اور ان کا گوشت تقسیم کیا جاتا ہے جس سے محکمہ اوقاف کو بھی کروڑوں روپے کی امدنی ہوتی ہے دربار حضرت چنن پیر پر صوفی دھمال ایک خاص تقریب ہے، جس میں لوگ وجدانی کیفیت میں جھومتے ہیں۔

حضرت چنن پیر کا دربار روحانی عقیدت، صوفی تعلیمات، اور ہندو مسلم اتحاد کی علامت ہے۔ ہر سال ہزاروں زائرین یہاں حاضری دیتے ہیں اور اپنی مرادیں مانگتے ہیں۔ اگر آپ چولستان کی صوفیانہ تاریخ اور ثقافت کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں، تو چنن پیر کا میلہ اور دربار ضرور دیکھنے کے لائق ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید