ریاست بہاولپور کے شاہی اور عوامی گلو کار

استاد انعام علی خان صاحب 
استاد حسین بخش خان ڈاڈی 
استاد فقیر حسین خان دھر پٹی 


 ریاست بہاولپور کے شاہی اور عوامی گلو کار 

نواب اف بہاولپور کے شاہی محلات میں مخصوص گوہے۔

تحریر ۔و تحقیق شیخ عزیز الرحمن 


فن موسیقی کا امیر خسرو کے زمانے سے لے کر اج تک سنتے کانوں کو ایک بہترین تفریح کا ذریعہ میسر ملتا ہے اج کی موسیقی میں مختلف نئے انسٹرومنٹ اور نئی نئی جدیدیت اگئی ہے اس کی وجہ سے اب کانوں کے علاوہ انکھوں سے بھی موسیقی کو دیکھنا پڑتا ہے مگر ہماری سابق ریاست بہاولپور کے دور میں نواب اف بہاولپور کے شاہی محلوں میں باقاعدہ شاہی گویے تعینات ہوا کرتے تھے اور بر صغیر پاک و ہند  کی مختلف ریاستوں سے اپنے گلو کارانہ فن کی داد وصول کرنے کے لیے اکثر نواب اف بہاولپور کے شاہی محلوں میں ایا کرتے تھے اور یہاں سے بڑے بڑے انعام و اکرام حاصل کیا کرتے تھے انہی بڑے ناموں میں چند ایک ناموں پر اج کے مضمون میں روشنی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ سرائکی اور ریاستی وسیب کی ایک اہم شاہی مغرنیا مائی اللہ وسائی کا نام اتھے دنیا تک یاد رکھا جائے گا جن کی وفات 1985 میں ہوئی اور انہوں نے 85 برس سے زائد کی عمر پائی 1930 سے لے کر وفات پانے تک مائی اللہ وسائی نے وسیب کو وسائل رکھا سرائکی زبان اور یہاں کے سرائیکیوں کے صدیوں پرانے گیتوں میں بے حد اہم مقام اور شہرت رکھتی تھی مائی اللہ وسائی کو لوگ اب بھی بڑے احسن طریقے سے یاد کرتے ہیں ان کے سسرال والے نواب اف بہاولپور کے شاہی گوئیے تھے گامے خان کے گھر جنم لینے والی مائی اللہ وسائی خانگاہ شریف کے رہنے والی تھی اور یہ وہی قصبہ ہے جہاں پر بہت بڑی روحانی شخصیت حضرت خواجہ محکم الدین سیرانی رحمت اللہ علیہ ارام فرما ہیں کافی گای گی اور پرائیڈ اف پرفارمنس حاصل کرنے والی پروین نذر مرحومہ بھی اسی قصبے سے تعلق رکھتی ہیں مائی اللہ وسائی کے دور میں اس وقت کے بڑے بڑے نام استاد توکل حسین خان استاد امید علی خان اور بڑے غلام علی خان صاحب بھی مائی اللہ وسائی کو بہترین طور پر جانتے تھےاسی دور میں نواب اف بہاولپور کے شاہی محل میں ایک بہت بڑا نام استاد محمد دین قوال کا تھا جس کی صبح کے وقت لائے اور تان پر ہی قبلہ نواب صاحب نیند کی وادیوں سے جاگا کرتے تھے اسی دور کے نامور گلو کاروں اور صدا کاروں میں ایک بہت بڑا نام  استاد  فقیر محمد دھرپدی کا ہے، جن کے بارے میں ایک بہت بڑا گلوکار استاد انعام علی خان جن کا تعلق احمد پور شرقیہ سے ہے اور اج کل ہالینڈ کی ایک یونیورسٹی میں میوزک پڑھاتے ہیں انہوں نے بتایا کہ استاد فقیر محمد خان   جو سر صادق محمد عباسی  کے درباری گوئیے کلاونت تھے ، اھم بات یہ تھی کہ یہ ھر تال کا دھرپد گاتے تھے،  جن میں ایندر تال، سالمنٹ تال،  دستان تال، دو دو تھتھا تال، مدھ تال  چار تال کی سواری  پانچ تال کی سواری انکی ھاتھوں سے تالی دے کے گاتے تھے،   یہ پاکستان میں دھروپد کا واحد خاندان  تھا جو ریاست میں آباد تھا   انکی نواب صاحب کے آگے  حاضری خواجہ غلام فرید علیہ رحمت کی کافی اور دھرپد  راگ سے ھوتی تھی طبلہ پر سنگت اور ساتھ کی سنگت انکے بڑے بھائی  استاد نیاز علی دھرپدی کرتے تھے ، باقی انکے پیچھے آواز لگانے والے  دین محمد اور غلام رسول کلاونت ھوتے تھے،  استاد فقیر محمد  کے والد استاد میراں بخش  صبح صادق   کے درباری کلاونت تھے،  استاد فتح علی خا ن تان کپتان نے نواب کے محل میں اپنا گانا سنوانے کے بعد انکے درباری کلاونت استاد میراں بخش کا گانا سننے کی فرمائیش کی تو  میراں بخش نے  خود طبلے پر ساتھ بجا کر  4 حصے دھرو پد کے  استھائی،انترہ، ابھوگ  سنچاری جب  خود بجا کر گائے اور  ٹھاہ دون، اور تگن کی تو  گانا  اور لئے سن کر استاد فتح علی خان تان کپتان نے فرمایا کہ نواب صاحب آپکے پاس تو ھاتھی کے وہ  پاوں ھیں جن میں تمام پاوں ھیں، اور استاد میراں بخش کے قدم چھوئے، ،استاد میراں بخش کے تین بیٹے تھے، استاد فقیر محمد، استاد نیاز علی، اور شیر محمد ،  استاد فقیر محمد نے آپنا شروع کا ٹائیم اور گانے کا مظاھرہ  آغا حشر کاشمیری کے تھیٹر سے   کے ایل سہگل، اور لتا جی کے والد پنڈت دینا ناتھ جی کے ساتھ شروع کیا، یہ وہ زمانہ تھا جب گونگی فلمیں بنتی تھیں، استاد فقیر محمدکی مادری زبان سرائیکی تھی اسکے علاوہ  سنسکرت زبان کے ماھر تھے بنگالی ،سندھی ، لکھنو کی اردو  زبان کے بھی ماھر تھے، ، استاد فقیر محمد نے  عمر  تقریبا 110سال پائی، استاد میراں بخش کلاونت  کی وفات کے بعد سر صادق  محمد خان عباسی کے دربار  سے نواب صاحب کی حیات تک   نواب صاحب کے درباری  کلاونت رھے،  نواب صاحب کی وفات کے بعد  انکی رھائیش سید امین شاہ صاحب نے کی، میرے ماموں ا نکے پہلے ستار کے  شاگرد تھے اسکے بعد میری بنیادی  تعلیم  موسیقی اور ھارمونیم کی تعلیم استاد فقیر محمد خان  صاحب سے ھوئی، مجھے  دھرپد سے زیادہ خیال پسند تھا  ان بزرگوں کی دعا اور اجازت سے میں  خیال گائیکی اور لئیے کے کمالات سیکھے کے لئے استاد اعظم استاد سلامت علی خان صاحب کے پاس انکے سلاموں کے ساتھ آیا ، تو ان بزرگوں  کی وجہ سے استاد سلامت علی خان صاحب نے  مجھے شاگرد قبول کیا  ، استاد فقیر محمد دھرپد گانے کے علاوہ   وچتر وینا، پیانو ، ستار ،طبلہ، پکھاوچ، ھارمونیم کے  بہت ماھر تھے ،  ھارمونیم  استاد فقیر محمد  صاحب  کئی طریقے سے بجاتے تھے  دو طریقے ایسے تھے جو آج تک دنیا میں کسی سے بجتے نہی دیکھے،   نمبر 1،  ھر کوئی سیدھے ھاتھ کی  انگلیوں  سے ھارمونیم بجاتا ھے یہ سیدھے سے بھی مظاھرہ کرتے تھے  اور پھر  انگلیوں کی پچھلی سائیڈ سے بھی  ویسا بجاتے تھے،  نمر 2،،  ھارمونیم  اینٹوں پر  ایک فٹ  اونچا الٹا رکھ کر،  دونوں ھاتھوں سے  بجاتے تھے، یعنی پاوں سے ھارمونیم کے پنکھے کو چلا تے تھے  اور الٹے ھارمونیم کو  سیدھا بیٹھ کر دونوں  ھاتھوں سے بجاتے تھے   یعنی ھارمونیم کے سر الٹے زمین کی طرف   ھو تے تھے ،استاد فقیر محمد اور استاد نیاز علی احمد پور شرقیہ میں  سعید علی شاہ  والے قبرستان میں اور نیاز علی عاشق شاہ کی خانگاہ میں مدفون ھیں،    کلاسیکل موسیقی اور خصوصا راگڑی کے میدان میں 

استاد  حسین بخش خان ڈھاڈھی صاحب،کلاسیکل کے بہت دیوانے ،عاشق اور قدر دان تھے ، پاکستان بھر میں ٹاپ کلاسیکل گلو کاروں کا جب بھی ذکر ہوتا ہے تو بہاولپور ڈویژن کے علاقہ اور شریف سے تعلق رکھنے والا مہان گائے استاد حسین باعث خان ڈاڈی کا نام ایک ضروری امر بن جاتا ہے استاد حسین بخش خان نے صرف پانچ سال کی عمر میں ہی اپنے والد لال خان کہ کندھے پر بیٹھ کر عصر حاضر کے عظیم گلوکار استاد عاشق علی خان کے پاس اور شریف لے گئے اس وقت استاد عاشق علی خان کی اواز کا جادو برے صغیر پاک و ہند میں سر چڑھ کے بولتا تھا لال خانے اپنے بیٹے کو استاد عاشق خان کی سرپرستی میں شاگرد بننے کی درخواست کی تو پہلے انہوں نے بے ادنائی بھرتی مگر جب کم سن حسین بخش خان کا گانا سن کر انہوں نے اسے اپنے گلے لگایا اور سند شاگردی عطا کر دی پہلے پہل خان اسد خان کے ہمراہ خواجہ غلام فرید رحمت اللہ علیہ کی کافی دلبر ملسی کیڑے وار سنائی تو استاد حسین باشقاں کو اپنی محنت کا پھل مل گیا استاد حسین باس خان ڈاڈی کا ایک خصوصی ترہ امتیاز راگڑی ہے ان کے گلے میں جس قدر گھماوٹ تھی وہ شاید ہی کسی فنکار کے گلے میں ہو استاد حسین بخش خان ڈاھڈی کے مداحین میں ملکہ ترنم نور جہاں مہندی حسن اور غلام علی جیسے بڑے گائک بھی شامل ہیں  جس شخص نے بھی پہلی بار حسین بخش خان ڈھاڈھی كو  سنا، اور بہت حیران ہوا ان کے فرزند حقیقی شہزادہ سخاوت حسین خان ڈاڈی اب بھی کلاسیکل موسیقی میں اپنے باپ کے نقش قدم پر سرائکی وسیب میں ایک منفرد مقام رکھتے ہیں ،اسی طرح ایک اور نام  استاد منظورکا ہے جو   احمد پور شرقیہ کے محلہ نور شاہ بخاری کے رھنے والے تھے طبلے کے اتنے علم دار تھے کہ ان جیسا علم  طبلے کا  انڈیا پاکستان میں  میں نے آج تک بجتے نہی سنا  12 تال بجاتے تھے شاگرد تھا  ،  میں نے طب سنگت کرتے تھے، جی      واقعہ سنواتے ھیں کہ،،ایک دفعہ نواب آف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی صاحب  نے استاد سلامت علی خان صاحب کو اپنے محل میں گانے کی دعوت دی،  تو  امرا نے اور رعایا نے  حضرت خواجہ غلام فرید سائیں کی کافی  کی فرمائیش کی، استاد سلامت علی خان صاحب جی نے  ادھ گھنٹہ کی مہلت یہ کہہ کر لی کہ گلا گرم کرنے کے لئے پہلے راگ درباری سن لیں   پھر    کافی پیش کرتا ھوں ،استاد نزاکت علی خان  صاحب ساتھ  گا رھے تھے،راگ  درباری کے بعدجب کافی گائی تو نواب صاحب نے   رقت میں  آکر  اپنے گلے سے چندن ھار اتار کر استاد  سلامت علی خان صاحب کو دیا،  تمام  وزرا نے اور رعایا خاص نے اتنا انعام واکرام اور دولت دی کہ انبار میں دونوں استاد بھائیوں کے صرف چہرے نظر آتے تھے،  یہ باتاستاد سلامت علی خان کے فرزند شاگرد استاد انعام علی خان نے   جب پوچھی تو  استاد جی نے تصدیق کی۔اسی طرح بلبل صحرا حسینہ خانم ممتاز خانم جمیل پروانہ نصیر مستانہ استاد عاشق حسین خان استاد رمضان حسین خان سمیت درجنوں ایسے بڑے فنکار ہیں جنہوں نے ہر زبان میں گا کر علاقے کا نام روشن کیا اور ائندہ انے والے میوزک کے دلدادہ افراد کے لیے مثل راہ ثابت ہوں گے تا ہم حکومت پنجاب اور وفاق کی جانب سے بنائے گئے ادارے کبھی بھی اس سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کر سکے ریڈیو پاکستان بہاولپور کے ہوتے ہوئے بھی وہاں پر صرف اور صرف خوشامدی افراد کو مواقع فراہم کیے جاتے ہیں اور من پسند افراد نوازے جاتے ہیں اسی طرح پاکستان ٹیلی ویژن ملتان میں کچھ عرصہ قبل شفقت عباس ملک صاحب کے بطور جنرل مینیجر تعیناتی کے دوران ایک امید اٹھی تھی کہ علاقے کے چھوٹے چھوٹے علاقوں کے بڑے فنکاروں کو موقع ملے گا مگر جلد ہی ان سے یہ موقع بھی ختم کروا دیا گیا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمارے عوامی نمائندے اور اٹھ کونسلیں اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور چھوٹے چھوٹے علاقوں میں بسنے والے بڑے بڑے فنکاروں کو مواقع فراہم کریں

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید