خاص ہے ترکیب رسول ہاشمی 🇵🇰موجودہ جنگی تناظر میں جاوید ایاز خان کی خاص تحریر
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی
تحریر ؛۔ جاویدایازخان
چھ اور سات مئی کی درمیانی رات جب پورا بہاولپور آرام کی نیند ابھی سونے بھی نہ پایا تھا کہ خوفناک دھماکوں کی گونج اور کھڑکیوں کے شیشوں کے ٹوٹنے کی آوازوں سے اٹھ بیٹھا ۔خیال یہ تھا کہ شاید زلزلہ آیا ہے یا پھر کہیں نزدیک ہی کوئی آسمانی بجلی گری ہے ۔لیکن لگاتار چھ دھماکوں سے یہ اندازہ لگانا ذرا بھی مشکل نہ تھا کہ جنگی جنون میں مبتلا بزدل اور مکار دشمن بھارت نے رات کے اندھیرۓ میں اپنے ان ناپاک عزائم کو پورا کرنے کی کوشش کی ہےجن کا ارادہ اور اس کا بار بار اعادہ وہ گذشتہ کئی دن سے کر رہا تھا ۔پھر یکایک میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھارتی میزائل حملوں کی بازگشت سنائی دینے لگی جس کی نشاندہی احمدپورشرقیہ روڈ پر سبحان مسجد کی جارہی ہے ۔پھر پتہ چلا کہ یہ بہیمانہ حرکت بزدل بھارت نے ہمارے کئی مقامات پر اور بھی کی ہے اور اسے ہماری افواج کی جانب سے منہ توڑ جواب بھی ملا ہے ۔جونہی میں گھر سے باہر نکلا تو دیکھا کہ ہر جانب سے لوگ باہر نکل رہے ہیں اور ان کے چہروں پر کوئی خوف نہیں تھا بلکہ غم و غصے اور اپنے ازلی دشمن سے شدید نفرت کے تاثرات نمائیاں دکھائی دیتے تھے ۔لگتا تھا کہ جنگ کا خوف یہاں کے لوگوں نے جوتے کی نوک پر رکھ دیا ہے گلی گلی کوچہ کوچہ ہرفرد ایک سپاہی بن کر ابھرا ۔نہ وہ ہراساں ،نہ بددل نہ خوفزدہ بلکہ ایک نئے حوصلے اور ولولے کو چہرے پر دلیری سے سجاۓ پردم اور پرعزم ۔بلکہ شہر ی سڑکوں پر یوں گھوم رہے ہیں جیسے ان کو پکارا گیا ہو بلایا گیا ہو وطن عزیز کی خاطر ،سرزمین کی خاطر ،قوم وملک کی خاطر ۔یہ زندہ دلان بہاولپور نہتے ہی ایسے نکل نکل کر دھماکے کی جانب جانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے تھے جیسے انہوں نے ہی دشمن کو دبوچ لینا ہے۔ درحقیقت وہ اپنےان متاثرہ بھائیوں کی مدد کو پہنچنا چاہتے تھے جو اس حملے کی زد میں آچکے تھے ۔ان کا رخ جاۓ وقوع کے ساتھ ساتھ ہسپتال کی ایمرجنسی کی جانب بھی تھا جہاں خون دینے والے نوجوانوں کی لمبی لمبی قطاریں اور زخمیوں کی دیکھ بھال کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش جاری تھی ۔قوم کے نوجوانوں کے پرعزم چہرۓ پر ان کی اپنے وطن اور سرزمین کی مٹی سے محبت کا والہانہ اظہار اور جذبہ دیدنی تھا ۔تاریخ گواہ ہے کہ قومیں آزمائش کے لمحوں میں ہی اپنے اصل جوہر اور جذبے دکھاتی ہیں ۔ پھر جب اس طرح کی جنونیت اور بربریت کا سایہ ان کے آنگن میں زبردستی اتارا جاتا ہے جب ان کی سرزمین کو جنگی وحشت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ قومیں جن کے دل حب الوطنی اور اپنے محافظوں کی محبت سے لبریز ہوں دشمن کے ہر وار کا سینہ تان کر مقابلہ کرتی ہیں ۔پاکستان کا یہ پر امن شہر بہاولپور جو نہ صرف ایک عظیم سرائیکی تہذیبی ورثے کا امین ہے بلکہ قومی وحدت و غیرت کی علامت بھی ہے۔پھر حالیہ میزائل حملے کے بعدیہ علاقہ تو ایک نئی تاریخ رقم کر چکا ہے ۔یہاں کا بچہ بچہ اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑا دکھائی دیتا ہے ۔آسمان سے بزدل دشمن کی جانب سے آگ برسائی گئی مگر زمین پر وہی لوگ ڈٹے دکھائی دیے جن کے دلوں میں پاکستان اور ارض پاک کی محبت خون کی طرح دورٹی ہے ۔اس حملے نے جہاں کئی معصوم اور بےگناہ شہریوں کی جانیں لیں وہیں اہلیان بہاولپور کے عزم ،حوصلے اور قربانی کو بھی دنیا کے سامنے آشکار کر دیا ہے ۔انہوں نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ سچے محب وطن پاکستانی ہیں ۔اور جب بھی دشمن کی ناپاک نظریں ہماری سرزمین کی جانب اٹھتی ہیں تو جواب صرف ہتھیاروں ہی سےنہیں دیا جاتا بلکہ ملک کی افواج کے ساتھ وہ عوامی جذبہ جو دلوں میں وطن کی محبت لیے موجزن ہوتا ہے اصل میں وہی سب سے بڑا ہتھیار بن کر ابھرتا ہے ۔بہاولپور جیسے پرامن اور تاریخی شہر پر حالیہ میزائل حملہ محض ایک عسکری حملہ نہیں تھا بلکہ یہ پوری قوم کے صبر ،حوصلے ،اتحاد اور یکجہاتی کا امتحان تھا ۔اس واقعہ کے شہدا ء کے جنازۓ میں پورے شہر اور علاقے کی شرکت اور اظہار تعزیت کی مثال پہلے کبھی دیکھنے میں نہیں آئی ۔جہاں ہر آنکھ نم دکھائی دی اور محسوس ہوا کہ اس حملے کے دکھ کی گونج صرف فضا میں ہی نہیں بلکہ ہر دل میں سنائی دی ہے ۔ہر آنکھ دکھ سے نم ضرور ہوئی مگر ہر چہرہ اور ہر سینہ پرعزم دکھائی دیا ۔شام کو تاریخی چوک فوارہ پر شمعیں جلا کر شہداٗ کو خراج تحسین پیش کرنے والوں کی تعداد دیکھ لوگوں کی عقیدت کا اظہار مثالی ہے ۔یہ دشمن کے لیے پیغام ہے کہ ہم اس خون کا بدلہ ضرور لیں گے ۔ہم اپنی مساجد ،قرآن پاک اور بے گناہ معصوم کلیوں پر اس ظلم کو کبھی نہیں گے ۔حملے کے باوجود صبح فجر کی نماز میں اسی مسجد کے ملبہ ۔میں ایک بہت بڑی جماعت کا نماز پڑھنا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ قوم خدا کے علاوہ کسی سے نہیں ڈرتی
یہ حملہ ناپاک دشمن کی بزدلانہ کوشش تھی کہ پاکستان کے دل میں باطل کا خوف اتارا جاسکے لیکن دشمن یہ بھول گیا کہ ایک اللہ کے ماننے والے اور محمد مصطفیٰ ؐ جیسے عظیم اور آخری نبی کے ماننے والے مسلمان کسی سے ڈرنے والے نہیں ہیں ۔ان میں لاکھ اختلاف ہو لیکن جب بات اللہ اور اسکے رسول ؐ کے دین ،مساجد اور قرآن کی حفاظت پر آجاۓ یا وطن کی مٹی پکارے تو یہ سب کچھ بھلا کر یکجاہونے میں دیر نہیں لگاتے ۔ یہ اس قوم کا شہر ہے جس کے بچوں کے پہلے لفظ ہی "پاکستان زندہ آباد " ہوتے ہیں اور زبان پر ہمیشہ نعرہ تکبیر کی صدا گونجتی ہے ۔یہ نعرہ حیدری کی گونج میں ہمیشہ یہ عہد لیکر میدان کارزار میں اترتے ہیں کہ "ہم مر جائیں گے مگر وطن پر آنچ نہیں آنے دیں گے " بہاولپور کے شہریوں نے اس دوران نہ صرف ریسکیو،طبی امداد اور اشیاء ضروریہ کا بندوبست کیا بلکہ انہوں نے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے عالمی ضمیر کو بھی جھنجھوڑا ۔یہ صرف مزاحمت نہیں تھی یہ محبت تھی وہ محبت جو اپنی زمین سے ،اس کے سبز ہلالی پرچم سے اور ان شہیدوں سے تھی جو اس سرزمین کی بقا کے لیے جانوں کا نذرانہ پیش کرکے یہاں کی مٹی میں دفن ہیں ۔ دشمن یہ سمجھتا ہے کہ وہ میزائلوں سے شہر ویران کر دۓگا مگر وہ یہ بھول جاتا ہے کہ بہاولپور جیسے شہر صرف عمارتوں سے نہیں دلوں سے آباد ہوتے ہیں اور جب دلوں میں وطن سے محبت موجزن ہو تو میزائل اور بم کچھ نہیں بگاڑ سکتے ۔ پھر مساجد ،عبادت گاہوں اورہسپتالوں پر حملہ جارحیت ہی نہیں سنگین جنگی جرم بھی ہوتا ہے ۔بھارت کا یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی قوانین ،انسانی حقوق اور جنگی ضابطوں کی صریحا" خلاف ورزی ہے بلکہ خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ بھی بن گیا ہے ۔
مجھے اس موقع پر اسی بہاولپور کی دھرتی میں مدفن اپنے والد بزرگوار مجاہد کشمیر لفٹیننٹ (ر) محمدایاز خان( ایم ڈی ۔ٹی کے )مرحوم یاد آگئے جنہوں نے اپنی بیشتر زندگی فوج کی ملازمت کے دوران مختلف جنگیں لڑنے میں گزاری وہ قیام پاکستا ن سے قبل دوسری جنگ عظیم میں برما کے محاذ پر تھے قیام پاکستا ن کی جدوجہد کے دوران انہوں نے دو بچوں ،بیوی اور دیگر خاندان کے افراد کی شہادت کی قربانی دیتے اور اپنے گھر بار کو جلتے اور لٹتے دیکھا ۔پاکستان آتے ہی ۱۹۴۸ء میں کشمیر کے جہاد میں شامل ہوۓ اور راجوڑی کے محاذ پر داد شجاعت دینے پر تمغہ خدمت سے نوازے گئے ۔ان کے ہی زیر کمانڈ بہادری سے لڑتےان کے ایک پلاٹون کمانڈر نائیک سیف علی جنجوعہ شہید کو نشان حیدر عطا ہوا ۔پھر ۱۹۶۵ء میں ایک بار پھر فوج نے طلب کیا تو اس جنگ کا بھی حصہ رہے۔پھر ۱۹۷۱ء میں جب مشرقی پاکستا ن میں وطن کو ضرورت پڑی تو اپنی خدمات فوج کو خود پیش کردیں ۔اس دوران جیسور کے محاذ پر جسے مشرقی پاکستان کا "لینن گراڈ "کہتے ہیں ۔جہاں انہوں نے تاریخی داد شجاعت دی اور اس دوران زخمی ہو کر دشمن کی جنگی قید میں دو سال کی گزارے ۔وہ ان تمام جنگوں میں بےشمار جنگی اعزازت سے نوازے گئے ۔وہ کہا کرتے تھے کہ بستر مرگ پر بھی اگر جہاد کے لیے آواز آۓ گی تو میں لبیک کہوں گا ۔کیونکہ میں سپاہی ہوں اور سپاہی کی وردی کبھی نہیں اترتی ۔وہ ساری زندگی اپنی وردی ہمہ وقت تیار رکھتے تھے کہ جانے کب قوم ووطن کی پکار آجاۓ اور کہتے تھے کہ ہر مسلمان پیدا ہی مجاہد ہوتا ہے ۔اپنی پوری زندگی کے دوران پاکستان کے لیے لڑی جانے والی ہرجنگ کا حصہ رہتے ہوۓ داد شجاعت دی ۔وہ اکثر فرماتے تھے کہ"خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی " اقوام کی تعمیر سونے چاندی اور ہیرےجوہرات سے نہیں بلکہ اقوام کا وجود فی الحقیقت نظریات اور ایمان سے مستعار ہوتا ہے ۔ہمارے نبی پاک کی امت میں یہ وصف ہے کہ یہ قوم مشکل حالات میں مزید متحد اور یکجا ہو جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ٓاج بہاولپور اور اسکے باسی پہلے سے زیادہ متحد ،متحرک دکھائی دیتے ہیں جو اس بات کی علامت ہےکہ قوم اپنے جغرافیائی ،نظریاتی اور قومی مفادات اور ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے پوری طرح متحد ہے ۔میرا آج کا یہ کا لم پاکستان کے ان تمام شہداء کے نام ہے جنہوں نے اس حملےکے دوران شہادت کا رتبہ پایا اور جو اپنی جرات قربانی اور حب الوطنی سے زندہ قوموں کی نشانی بن گئےہیں ۔

Comments
Post a Comment