عظیم حکمران کی عظیم جائیدادیں


 عظیم حکمران نواب اف بہاولپور کی عظیم الشان جائیدادیں۔

دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں بہاول ہاؤس اور محلات اج بھی موجود ہیں 

تحریر و تحقیق شیخ عزیز الرحمن 


بر صغیر پاک و ہند کی ہندو مسلم ریاستوں میں سابق ریاست مملکت خداداد بہاولپور کو منفرد مقام حاصل تھا یہاں کے عباسی حکمرانوں کے طرز رہائش اور رعایہ پروری انصاف و عدل کے باعث دنیا بھر میں نواب اف بہاولپور کی شان کو سمجھا اور دیکھا جاتا ہے عظیم شہنشاہ نواب اف بہاولپور سر صادق محمد خان خامس عباسی کی برسی گزشتہ روز ملک بھر میں منائی گئی نواب اب بہاولپور کے بارے میں تو مختلف لوگوں نے مختلف مضامین تحریر کیے مگر اج ہم نواب اف بہاولپور کی ان عظیم بڑی جائیدادوں اور محلات کے بارے میں اپ کو بتائیں گے جو دنیا بھر کے مختلف بڑے ممالک میں اج بھی ان کی شاندار ماضی کی گواہ ہیں نواب سر صادق محمد خان عباسی باقاعدگی سے کچھ عرصہ تعطیلات برطانیہ میں گزارا کرتے تھے اور وہاں پر انہوں نے اپنی شایان شان رہائش کے لیے سرے کے علاقے میں اڈین اور اس کے اس پاس کے جنگلات خریدے اور وہاں پر سلیحام ہاؤس بنایا جہاں وہ چھٹیاں گزارا کرتے تھے نواب آف بہاولپور، سر صادق محمد خان پنجم، نے برطانیہ میں ''سلم ہاؤس'' (Selham House) کے نام سے ایک جائیداد حاصل کی تھی، جو ان کی برطانیہ میں قیام کے دوران ایک اہم رہائش گاہ کے طور پر استعمال ہوتی تھی سلم ہاؤس (Selham House) – برطانیہ میں نواب کی رہائش


1948 میں، نواب سر صادق محمد خان نے انگلینڈ کے علاقے ویسٹ سسیکس (West Sussex) میں چچیسٹر (Chichester) کے قریب واقع سلم ہاؤس (Selham House) کو اپنی مستقل رہائش کے طور پر منتخب کیا۔ یہ جائیداد انہوں نے دوسری جنگ عظیم کے بعد حاصل کی تھی۔ اس سے قبل، 1930 کی دہائی سے وہ انگلینڈ میں تعطیلات گزارنے کے لیے سرے (Surrey) کے علاقے فارنہم (Farnham) کے قریب ''آرڈین'' (Ardene) اور اس کے آس پاس کے جنگلات خرید چکے تھے، جنہیں انہوں نے جنگ کے دوران بچوں کی نرسری کے طور پر کمیونٹی کے لیے وقف کر دیا تھا

نواب کی بھارت میں بھی جائیدادیں موجود تھیں، جن میں بمبئی (ممبئی)، دہلی اور پالان پور (پالن پور) شامل ہیں۔ تقسیم ہند کے وقت، پنڈت جواہر لال نہرو نے انہیں بھارت میں ان جائیدادوں کی بحالی اور دیگر مراعات کی پیشکش کی، تاکہ وہ بہاولپور ریاست کو بھارت میں شامل کریں۔ تاہم، نواب نے یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کیا

بہاول پور ہاوس۔۔ نئی دہلی 


تقسیم سے پہلے نواب اف بہاولپور نے بہاولپور ہاوس نیو دہلی 1 سکندر روڈ پر تعمیر کروایا ہے۔ دہلی کے دورے کے دوران نواب صاحب اس عظیم الشان عمارت میں قیام کرتے۔ ریاست کے ملازمین اس کی دیکھ بھال پر تعینات تھے۔ تقسیم ہند کے بعد وزارت ثقافت نے اس عظیم الشان عمارت کی دیکھ بھال اپنے ذمے لی۔ 

1969ء سے فروری 1974ء تک اس میں امریکن لائیبریری عارضی طور پر کام کرتی رہی۔ بعدازاں اس عمارت کی عظمت و شان کے پیش نظر وزارت ثقافت نے نیشنل سکول آف ڈرامے کا ہیڈ کوارٹر بنا دیا۔اس میں فن و ادب و ثقافت کا مرکز بھی قائم ہے۔ اس عمارت کو مزید وسیع بھی کیا گیا ہے۔ 

2011ء میں دہلی میٹرو ریلوے کارپوریشن نے زیر زمین ریلوے لائن کو وسعت دینے کا پراجیکٹ بنایا۔ ایک زیر زمین ریلوے ٹریک بہاول پور ہاوس کے نیچے سے گزرنا تھا لیکن عوام اور پریس نے شور مچا دیا کہ اس ریلوے منصوبے سے اس عظیم الشان عمارت کو نقصان کا اندیشہ ہے۔ بہاولپور ہاوس نیو دہلی میونسپل کونسل کے ریکارڈ میں ''قومی ورثہ'' کے طور پر بھی درج ہے۔

اس عظیم قومی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے کمیشن بنایا گیا۔ اس ضمن میں دہلی میٹرو ریل کارپوریشن کے ڈائریکٹر سری دھرن اور یونین اربن ڈویلپمنٹ کے وزیر کمال ناتھ کی اس مسئلے پر ملاقات ہوئی۔ دہلی میٹرو ریل کارپوریشن نے زیر زمین ریلوے لائن کے نقشے کو تبدیل کر نے کی یقین دہانی کرائی۔ وزارت ثقافت نے بھی سخت نوٹس لیا اور اس عظیم الشان عمارت کو محفوظ رکھنے کو یقینی بنایا۔ 

نواب آف بہاولپور نے کئی قیمتی جائیدادوں کا نقصان برداشت کر کے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کیا۔ 

نوا ب ٓاف بہاولپور سر صادق محمد خان عباسی نے سعودی عرب کے شاہ کو ایک رولز رائس کار تحفے میں دی، جو سعودی عرب میں چلنے والی پہلی رولز رائس تھی۔ یہ کار نواب کو رولز رائس کمپنی کی جانب سے معذرت کے طور پر تحفے میں دی گئی تھی، جب نواب نے کمپنی کی توہین کے بعد ان کی گاڑیوں کو کوڑا اٹھانے کے لیے استعمال کیا تھا۔ نواب آف بہاولپور، سر صادق محمد خان پنجم، نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں اپنے ریاست بہاولپور کے حجاج کرام کے لیے رہائش کی سہولت فراہم کرنے کے لیے متعدد رباطیں (رہائشی عمارتیں) تعمیر کروائیں۔ یہ رباطیں خاص طور پر بہاولپور کے زائرین کے لیے وقف تھیں، جہاں وہ حج اور عمرہ کے دوران بلا معاوضہ قیام کر سکتے تھے۔رباطوں کی تعمیر اور مقصدنواب نے مکہ مکرمہ میں چار اور مدینہ منورہ میں ایک رباط تعمیر کروایا تھا۔ ان کا مقصد بہاولپور کے حجاج کو مفت اور باعزت رہائش فراہم کرنا تھا تاکہ وہ عبادات پر توجہ مرکوز کر سکیں۔ یہ رباطیں نواب کی ذاتی ملکیت تھیں اور ان کا انتظام ان کے خاندان کے زیر نگرانی تھا۔ نواب اف بہاولپور اپنی رائے کے لیے ایک مسیحا کی حیثیت رکھتے تھے اور جو لوگ سعودی عرب میں حج کی ادائیگی کے لیے جایا کرتے تھے انہیں وہاں پر سابق ریاست بہاولپور کی مخصوص رہائش گاؤں جنہیں رباطوں کے نام سے جانا جاتا تھا ان رواتوں میں انہیں تام اور قیام کی سہولت فراہم کی جاتی تھی لیکن وقت کے ساتھ، حرمین شریفین کی توسیعی منصوبوں کے دوران یہ رباطیں منہدم کر دی گئیں۔ سعودی حکومت نے ان عمارتوں کے انہدام کے بعد نواب کے ورثاء کو معاوضہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔ نواب کے پوتے، صاحبزادہ قمرالزمان عباسی، نے 2010 میں اس معاملے کو اجاگر کیا اور سعودی حکومت سے معاوضے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ جائیدادیں ریاست بہاولپور کی نہیں بلکہ نواب کی ذاتی ملکیت تھیں، اس لیے ان کے ورثاء ہی اس کے حقدار ہیں۔ پاکستان کی سپریم کورٹ نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ نواب کے 23 وارثین اس معاوضے کے حقدار ہیں۔ اور بعض اطلاعات کے مطابق ان کے کچھ وارثان سعودی حکومت سے ان رباطوں کا معاوضہ بھی وصول کر چکے

نواب کے خاندان نے سعودی حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ یا تو انہیں ان رباطوں کا مالی معاوضہ دیا جائے یا پھر حرمین شریفین کے قریب نئے رباط تعمیر کیے جائیں تاکہ بہاولپور کے حجاج کو دوبارہ وہی سہولت میسر آ سکے۔ اس سلسلے میں سعودی گورنر پرنس ماجد بن عبدالعزیز سے بھی ملاقات کی گئی تھی تاکہ اس معاملے کو حل کیا جا سکے پاکستان میں نواب کی متعدد جائیدادیں تھیں، جن میں شامل ہیں: 

صادق گڑھ پیلس: 1882 میں تعمیر شدہ یہ محل بہاولپور کے ڈیرہ نواب صاحب میں واقع ہے۔ اس میں 120 کمرے، ذاتی سینما، پاور ہاؤس، اور دیگر سہولیات موجود تھیں۔ یہ محل 2005 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 23 وارثوں میں تقسیم ہوا۔  


نور محل، گلزار محل، دربار محل: یہ تاریخی عمارتیں بہاولپور شہر میں واقع ہیں اور ان میں سے کچھ اب فوج کے زیر استعمال ہیں۔ تعلیمی ادارے: نواب نے 1951 میں صادق پبلک اسکول کے لیے 500 ایکڑ زمین عطیہ کی، جو آج بھی پاکستان کے بڑے تعلیمی اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ دیگر عطیات: انہوں نے یونیورسٹی آف پنجاب، کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج، اور ایچیسن کالج لاہور کی مسجد کے لیے بھی اپنی ذاتی جائیدادیں عطیہ کی-

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید