نواب اف بہاولپور کی سالانہ برسی پر ان کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے مضمون خاص


 مملکت خداد اد ریاست بہاولپور کے آخری تاجدار نواب سرصادق محمد خان عباسی مرحوم۔ ایک عظیم حکمران 

ان کی پاکستان کیلئے خدمات کو سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ان کی69ویں برسی 24مئی کو نہایت عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے۔

 (


تحریر: شیخ عزیز الرحمان 0300-6840408)

24 مئی 1966؁ء کا دن سابق ریاست بہاولپور کے عوام میں ہمیشہ افسوس کے طور پر گردانا جاتا ہے۔ جب اس مطلق العنان سابق ریاست بہاولپور کے آخری تاجدار نواب سرصادق محمد خان خامس عباسی اس دنیا فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی برسی کے موقع پر علاقے بھر میں خاندان عباسیہ کے چاہنے والے مختلف تقاریب منعقد کرتے ہیں اور ان کی اسلام اور پاکستان کیلئے والہانہ عقیدت اورخدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ ہز ہائنس الحاج نواب سرصادق محمد خان خامس عباسی، محسن الملک سراج الدولہ وہ محسن پاکستان ہیں۔ جنہوں نے اپنی مطلق العنان ریاست کو ہندوستان کی بجائے پاکستان میں ضم کرنے کا بے لوث اعلان کیا اور نوزائیدہ مملکت پاکستان کیلئے تمام وسائل بھی اپنی ریاست سے ادا کئے۔ نواب صاحب کی خدمات کو ایک مضمون میں احاطہ کرنا مشکل ترین کام ہے۔ نواب سرصادق محمد خان عباسی 29 اور 30 کی درمیانی شب 1903؁ء میں صادق گڑھ پیلس ڈیرہ نواب صاحب (احمدپورشرقیہ) میں پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش کی خوشی میں ان کے والد محترم نواب بہاول خان عباسی نے منڈی صادق گنج کے نام سے جدید شہر کی بنیاد رکھی جس کا سنگ بنیاد 14 نومبر1904 میں رکھا گیا۔ 15مئی 1905؁ء کو محض اڑھائی سال کی عمر میں خاندانی دستور کے مطابق آپ کی دستار بندی ڈیرہ نواب صاحب میں کی گئی اور قدیم محل ڈیرہ نواب صاحب میں ان کی خاندانی مونجھ کی رسی سے بنا ہیروں سے مزین تاج ان کے سر پر رکھا گیا۔ نواب آف بہاولپور دنیا کے وہ واحد سپاہ سالار ہیں جنہوں نے محض سات سال کی عمر میں 1911؁ء میں فوجی وردی پہن پر شاہی پروسیشن میں شریک ہوکر اپنی افواج کی کمان سنبھالی۔ سابق ریاست بہاولپور میں 1727؁ء سے لیکر 1955؁ء تک 12 عباسی نوابوں نے حکمرانی کی۔ مگر ان میں نواب سر صادق محمد خان عباسی کی شخصیت سب سے جدا تھی۔ وہ ایک خدا ترس، جہاندیدہ، خوف خدا کے حامل اور اسلام سے محبت کرنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ دنیا میں مرزائیوں کو اقلیت قرار دینے والی واحد ریاست بہاولپور تھی۔ جس میں اس وقت کے جسٹس محمد اکبر نے نواب سر صادق محمد خان کے دور حکومت سال 1935؁ء میں مرزائیوں کو کافر قرار دیا۔ نواب آف بہاولپور کی ریاست برصغیر پاک و ہند کی چند بڑی خوشحال ریاستوں میں شمار ہوتی تھی۔ نواب آف بہاولپور خود بہت جہاندیدہ انسان تھے۔ انہوں نے ریاست میں عوام کو


خوشحال رکھنے کیلئے سرکاری سطح پر دیگر ریاستوں سے اسلحہ اور ہیروں کا کاروبار کیا ہوا تھا۔ نواب سرصادق محمد خان ہمہ جہت شخصیت کے حامل تھے۔ وہ اہل علم کی قدر کرنے والے اور ادب کی باقاعدہ سرپرستی کرتے تھے۔ انہوں نے عالمی مشاعرے منعقد کرائے اور علمی و ادبی لوگوں، دانشوروں اور شاعروں کی خصوصی قدر کرتے تھے اور انہیں ریاست کی جانب سے اعزازیہ بھی عطا کرتے۔ جن میں علامہ محمد اقبال جیسی شخصیات بھی شامل ہیں۔ حفیظ جالندھری۔ علامہ اقبال اور دیگر بڑے شعراء نواب سر صادق محمد خان عباسی کے مداح تھے۔ نواب آف بہاولپور نے اپنے دور میں بہت سے ترقیاتی اور مستند منصوبہ جات کا قیام عمل میں لایا۔ جن میں سب سے بڑا کارنامہ جامع اسلامیہ یونیورسٹی۔ ستلج ویلی پراجیکٹ۔ صادق عباس پبلک سکول۔ صادق ڈین ہائی سکول۔ بہاولپور وکٹوریہ ہسپتال۔ سنٹرل لائبریری۔ بہاولپور ہائی کورٹ۔ یتیم خانہ ڈیرہ نواب۔ دارلامان۔ بگھی خانہ۔ توشہ خانہ۔ صادق ایجرٹن کالج بہاولپور۔ جامع مسجد الصادق۔ ڈگری کالج ڈیرہ نواب صاحب۔ نور محل۔ چڑیا گھر۔ ڈرنگ اسٹیڈیم بہاولپور۔ دربار محل وغیرہ جیسی عظیم الشان عمارات نواب صاحب کی ترقی پسندانہ حکمرانی کا ثبوت ہیں۔ نواب سرصادق محمد خان ذاتی طور پر ایک اچھے جوہری بھی تھے۔ جنہیں دنیابھرکے ہیروں کی پرکھ کا علم تھا۔ نواب صادق محمد خان عباسی جہاں ایک عظیم حکمران تھے وہیں وہ ایک بہترین آبی ماہر بھی تھے۔ جنہوں نے ریت سے لق و دق لاکھوں ایکڑ پر محیط عظیم الشان چولستان و دیگر علاقوں کو سیراب کرنے کیلئے ہیڈ پنجند کے مقام پر ستلج ویلی پراجیکٹ کا آغاز کیا جس میں اس وقت 14 کروڑ روپے کے اخراجات آئے جس سے 15 لاکھ ایکڑ اراضی کو سیراب کرنے کا اہتمام کیا گیا۔ 31مارچ 1924؁ء کو ہیڈ پنجند کا سنگ بنیاد رکھا۔ جہاں پانچوں دریا آکر ملتے ہیں اور پھر اگلے برس 1925 میں ہیڈ پلہ ریگولیٹری کا بھی افتتا ح کردیا۔ انہوں نے اپنی ریاست میں پانی کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ہیڈ پنجند۔ ہیڈ اسلام اور ہیڈ سلیمانکی بنائے اور نہروں کا ایک جال بچھایا۔ انہوں نے سینکڑوں آبادکاروں کو چولستان میں آبادکرایا اور اپنے علاقے کے کاشتکاروں کی اجناس کو منڈیوں تک پہنچانے اور انہیں معقول معاوضہ دلانے کیلئے شاہی حکم کے تحت منڈی صادق گنج۔ منڈی رحیمیار خان۔ منڈی لیاقت پور۔ منڈی حاصل پور۔ منڈی احمدپورشرقیہ۔ منڈی چشتیاں۔ منڈی ہارون آباد۔ منڈی فورٹ عباس۔ منڈی یزمان۔ منڈی صادق آباد و دیگر قائم کرائیں۔ نواب آف بہاولپور نے سابق ریاست بہاولپور میں اسلامی ریاست کے طور پر انتظام و انصرام کیا۔ نواب صاحب کے دور میں ریاست بہاولپور میں ریتی تا بہاولنگر تک جتنے بھی ریلوے اسٹیشن قائم کئے گئے وہ اسلامی طرز تعمیر کے گنبد نما اسٹیشن ہیں جو آج بھی موجود ہیں۔ ان کے دور حکومت میں ماہ رمضان المبارک میں رمضان آرڈیننس پر سختی سے عمل ہوتا اور رمضان المبارک کے علاوہ محرم الحرام کے دس ایام میں بھی سنیما گھروں پر پابندی عائد ہوتی۔ ریاست میں خواتین کی آمد و رفت کیلئے تانگوں پر سیاہ پردوں کو لگانے کا حکم تھا۔ جبکہ شاہی لباس میں ترکی ٹوپی پہنی جاتی تھی۔ پاکستان کے قیام کے بعد جب نواب آف بہاولپور نے اپنی ریاست کو قائداعظم محمد علی جناح سے اپنی دوستی اور استدعا پر ضم کردیا اس وقت بھی پاکستان کے ابتدائی اخراجات کیلئے کروڑوں روپے نقد او ر اپنی ایک ڈویژن فوج مہاجرین کے فنڈز کیلئے اس وقت کے 21 لاکھ روپے اور نوزائیدہ مملکت پاکستان کی تنخواہوں کیلئے ایک کروڑ روپے سالانہ کی خطیر رقم سال 1952؁ء تک ریاست کے بجٹ سے پاکستان کو ادا کی جاتی رہی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح نے نواب سر صادق محمد خان عباسی کی سخاوت اور پاکستان سے مروت کو دیکھتے ہوئے برملا کہا کہ ”ہمیں قلم کی سیاہی تک کیلئے ریاست بہاولپور کا ممنون احسان ہونا پڑا ہے“۔ پاکستان کے علاوہ نواب سرصادق محمد خان عباسی نے سعودی عرب کے حکمرانوں کو بھی عطیات دئیے اور وہاں پر ریاست بہاولپورکے لوگوں کیلئے خصوصی طور پر بلڈنگز قائم کروائیں۔ حکومت برطانیہ نے نواب آف بہاولپور کو اپنا اعلیٰ ترین اعزاز وکٹوریہ کراس سے بھی نوازا۔ مرحوم نواب سر صادق محمد خان عباسی کی اولادوں میں نواب محمد عباس خان عباسی گورنر پنجاب۔ نواب ایس ایم عباسی گورنر سندھ۔ شہزادہ سعید الرشید عباسی وفاقی وزیر مملکت و دیگر گزرے ہیں۔

 نواب آف بہاولپور کے پوتے نواب صلاح الدین عباسی سرد


ست امیر آف بہاولپور کے طور پر موجود ہیں۔ مگر انہوں نے اپنے داد ا کی روایات کے برعکس عوام سے رابطہ منقطع رکھا۔ عوام نے انہیں پانچ بار ممبر قومی اسمبلی منتخب کروایا مگر انہوں نے عوام اور علاقہ کیلئے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہ کروائے جس کی بناء پر حالیہ الیکشن میں سینکڑوں سال عوام کے دلوں پر حکمرانی کرنے والے خاندان عباسیہ کے ولی عہد نواب بہاول خان عباسی قومی اسمبلی کے الیکشن میں بری طرح شکست کھا گئے۔ جس سے خاندان عباسیہ سے محبت کرنے والے افراد کے دلوں پر شدید صدمہ بھی ہوا۔ مگر ان تمام حالات سے قطع نظر نواب صلاح الدین عباسی اور ان کی فیملی عوام سے اب بھی کوسوں دور ہیں۔ نواب سر صادق محمد خان عباسی مرحوم شاہی قبرستان قلعہ ڈیراور میں مدفون ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ان کی لحد پر انوارات کی بارشیں فرمائے جنہوں نے ہر دور میں اپنے تئیں اپنے علاقے کے عوام کی خدمت کو اپنا شعار بنایا اور اللہ ان کے وارثان کو بھی ہدایت نصیب فرمائے کہ وہ بھی اپنے دادا کی طرح عوام کی خدمت کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنائیں۔ آمی

       شیخ عزیز الرحمان 0300-6840408 احمدپورشرق

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید