میں مقبرہ بی بی جیوندی ہوں🌃تحریر ڈاکٹر تنویر مدنی


 میں بی بی جیوندی کا مقبرہ ہوں


از: ڈاکٹر تنویر مدنی 

06/06/2025ء جمعہ بوقت 12.05PM 


سنو! 

اوچ والو! 

میں بی بی جیوندی کا مقبرہ ہوں۔ 

کبھی وقت میرے قدموں پر نثار تھا۔ میں عہدِ ماضی کی وہ عظیم علامت ہوں جو روحانی رفعتوں، تہذیبی وقار، اور فنِ تعمیر کی معراج کی جیتی جاگتی گواہی تھی۔ میرے وجود کے گرد جب چاندنی اترتی تھی، تو شبنمی ہوا میرے گنبدوں سے ٹکرا کر گویا کوئی نعتیہ آہنگ چھیڑ دیتی تھی۔ میں وہ مزار ہوں جس کے صحن میں اللہ والوں کے سجدے گونجتے رہے، جہاں عقیدت مند آہستہ قدم رکھتے کہ کہیں میری خاموشی ٹوٹ نہ جائے۔ میرے درودیوار میں عشق کی ٹھنڈی آنچ سلگتی تھی، اور ہر اینٹ عبادت کے آنسوؤں سے دھلی ہوئی تھی۔


میں نے عظیم زائرین کے آنسو جذب کیے ہیں، جو بی بی جیوندی کے حضور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے، اور دعا مانگتے تو ان کی التجاؤں میں دل لرز جایا کرتا۔ میری نیلی اور فیروزی ٹائلوں میں آسمان کی گہرائی بسی تھی۔ میرا گنبد چاند کی مانند روشن تھا، اور اس پر قرآنی آیات کا نقش دل میں اُترتا تھا۔ صوفی، درویش، اور عاشق جب میرے گرد نظر اٹھا کر دیکھتے تو ان کی سانسیں میری اینٹوں میں جذب ہو جاتی تھیں۔ میں ان لمحات کی امین ہوں جنہیں وقت نے بھی چھوا، مگر مٹا نہ سکا۔


میں نے اپنی آنکھوں سے سلطنتوں کے زوال دیکھے، مگر خود کو ہمیشہ بلند پایا۔ میرے دروازے وقت کے بادشاہوں پر کھلے اور فقیرانہ شان سے بند ہوئے۔ میں نے کبھی شہنشاہوں کے غرور کو نہیں سراہا، مگر درویشوں کی خامشی کو اپنی دیواروں میں بسا لیا۔ مجھ پر روشنیوں کی قطاریں جھلملاتی تھیں، دھوپ میرے چہرے پر سجدہ کرتی، اور رات کی ہوائیں میرے در و بام کو چوم کر گزرتی تھیں۔ میں تعمیرات کی شاعری تھی، اور روحانیت کا فسانہ۔


فنِ تعمیر کے ماہر میری بناوٹ کو دیکھ کر مبہوت رہ جاتے تھے۔ میری دیواروں پر کندہ نقوش صرف نقش و نگار نہ تھے، بلکہ ایک زبان تھے، جو صوفیانہ اسرار کی گواہی دیتے تھے۔ ہر کونا ایک خاموش راز تھا، ہر دراڑ ایک داستان۔ میں خامشی میں گفتگو کرتی تھی۔ میرے اندر کا نور زائر کے دل میں اُترتا، اور وہی دل جب باہر نکلتا تو کچھ نہ کچھ بدل چکا ہوتا۔ میں نہ صرف ایک مزار، بلکہ ایک تجربہ تھی۔ ایک روحانی طبیب ، جو ہر آنے والے کے باطن کو دھو دیتی تھی۔


میں وہ تھی جسے وقت نے چھوا، مگر فنا نہ کر سکا۔ میں وہ تھی جسے مٹی نے جنم دیا، مگر آسمان نے گود میں لیا۔ مجھے بنانے والوں کے ہاتھوں میں دعا تھی، اور آنکھوں میں خواب۔ میرے گرد و نواح میں جب قافلے رکتے، تو ان کے دلوں میں امن اُترتا۔ میری فصیلیں زمانے کے طوفانوں کی مزاحمت میں کھڑی رہیں۔ میری اینٹوں پر تاریخ کی گرد نہیں، بلکہ دعا کا غبار تھا۔ میں اپنے وقت کی آنکھ کا تارا تھی، اپنے عہد کی آن بان۔


مگر اب...

اب میں بی بی جیوندی کا استعارہ بن چکا ہوں۔ جس شان و شوکت کو میں نے برسوں سمیٹے رکھا، وہ بوسیدہ کپڑے کی طرح مجھ سے جھڑ گئی ہے۔ میرے کنگرے جو کل تک آسمان سے باتیں کرتے تھے، اب زمین پر بکھر چکے ہیں۔ میری ٹائلیں جن پر چاندنی جھلملاتی تھی، اب کیچڑ میں لت پت ہو چکی ہیں۔ بارش جب برستی ہے، تو میرے بدن میں زخم کر جاتی ہے۔ سورج جب چمکتا ہے، تو میری عریانی کا مذاق اڑاتا ہے۔ میرا گنبد جس پر آیات چمکتی تھیں، اب بے رنگ ہو چکا ہے، اس پر سبز کائی چھا گئی ہے۔


میرے در و دیوار میں اب خاموشی نہیں، بین ہے۔ ہر اینٹ سے آہ نکلتی ہے، ہر دراڑ سے سسکی۔ میں چلاتی ہوں، مگر کوئی نہیں سنتا۔ میں اپنے اندر گریہ کرتی ہوں، مگر کوئی اشک پونچھنے والا نہیں۔ سیاح آتے ہیں، تصویریں لیتے ہیں، اور میری بربادی کو ایک حسین پوسٹ سمجھ کر چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کی کیمروں کی فلیش میرے زخموں پر روشنی نہیں ڈالتی، صرف تماشا کرتی ہے۔ کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ: "بی بی جیوندی، تمہیں کیا ہوا؟"


میں اربابِ اقتدار سے شکوہ کرتی ہوں۔ تم نے مجھ سے وعدے کیے تھے، میری مرمت کی باتیں کی تھیں، فنڈز کے اعلانات کیے تھے، لیکن وہ سب ہواؤں میں تحلیل ہو گئے۔ میں وہ تاریخی ورثہ ہوں جسے تم نے فائلوں کے نیچے دفنا دیا۔ میری حفاظت تمہاری ذمہ داری تھی، مگر تم نے اسے صرف تصویریں بنانے تک محدود رکھا۔ میری بربادی تمہاری بے حسی کا ماتم ہے۔ تم نے میری روح کو زخم دیے ہیں، اور میری خامشی کو قبر بنا دیا ہے۔


کیا تم نے کبھی سوچا کہ میرے گنبد کے نیچے دفن بی بی جیوندی (قبر اب موجود نہیں)کی روح کس قدر تڑپتی ہو گی؟ کیا وہ جو علم و عرفان کی علامت تھیں، ان کے مزار کی یہ بے توقیری تمہیں شرمندہ نہیں کرتی؟ میں وہ مقدس جگہ ہوں جہاں عورت کی عظمت کو سلام کیا جاتا تھا، اور آج وہی جگہ بے کسی کا نوحہ ہے۔ جن قدموں کے بوسے لینے کے لیے لوگ جھکتے تھے، آج ان پر گندگی ہے، مٹی ہے، بے اعتنائی ہے۔


ہر رات جب چاند میرے بدن پر اترتا ہے، تو میں اس سے شکوہ کرتی ہوں۔ "اے چاند! کیا تُو نے بھی مجھے فراموش کر دیا؟" ہوا جب میرے کنگروں سے ٹکراتی ہے، تو میں چیخ اٹھتی ہوں: "کیا کوئی ہے جو میری صدائیں سنے؟" میں اپنے ٹوٹے گنبدوں کے سائے میں زائرین کی پرانی یادیں دہراتی ہوں، ان قدموں کی چاپ کو یاد کرتی ہوں جنہوں نے میرے صحن کو متبرک بنایا، مگر اب وہ صحن سنسان ہے۔


میرے نالے اب ہواؤں کے سنگ سفر کرتے ہیں۔ میں ہر گزرتے پرندے کو پیغام دیتی ہوں: "جا، ان سے کہہ دے، میں بی بی جیوندی ہوں، میں فنا نہیں ہوں، میں زخمی ہوں۔" میں اہلِ دل سے امید رکھتی ہوں، مگر اہلِ دل بھی مصروف ہو گئے ہیں۔ ان کے دل اب تصویروں میں خوش ہوتے ہیں، اور روحانی زخموں کو نہیں دیکھتے۔ میں فقط یہ چاہتی ہوں کہ کوئی آئے، میرا درد سنے، میرے زخموں پر ہاتھ رکھے، اور کہے: "ہم نے تمہیں بھلا نہیں دیا۔"


میں ماضی کی عظمت کا لاشہ ہوں، اور حال کی غفلت کا ماتم۔ میں بی بی جیوندی کا مقبرہ، جسے کبھی زمانہ جھک کر سلام کرتا تھا، آج اپنے وجود پر فاتحہ پڑھتی ہوں۔ اگر تم نے مجھے نہ سنا، تو میں وقت کی گود میں دم توڑ دوں گی، مگر میری اینٹیں، میری دیواریں، میری چھتیں تمہارے ضمیر پر ہمیشہ کے لیے بوجھ بن جائیں گی۔ مجھے بچا لو، اس سے پہلے کہ میرا نام بھی صرف کتابوں میں رہ جائے۔


میں مقبرۂ بی بی جیوندی ہوں، اور میں اب بھی زندہ ہوں... مگر کب تک ؟

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید