بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک اور بیٹی ہار گئی
صرف گولی مارنے کی اجازت ہے 🔥
بلوچستان میں غیرت کے نام پر ایک اور بیٹی ہار گئی ۔پگڑی غیرت کی جیت گئی
تحریر شیخ عزیز الرحمن ۔
ڈیڑھ سال پہلے محبت کی بنیاد پر شادی کرنے والے شیتل (24 سالہ اور زرک (32 سالہ)کو قبیلے والوں نے "دعوت" دے کر بلایا۔ مگر یہ کھانے کی دعوت نہیں، بلکہ قتل کی رسم تھی۔ دونوں کو ایک ویران میدان میں لے جایا گیا، جہاں 19 مسلح مرد کھڑے تھے۔ ان میں سے پانچ کے ہاتھوں میں لوڈڈ گنز تھیں۔
جبکہ
شیتل، کے ہاتھ میں قرآنِ پاک تھا، بے خوف و بے دھڑک قاتلوں کے سامنے چلتی گئی۔ نہ اس کے قدم ڈگمگائے، نہ آنکھوں میں خوف تھا، نہ لبوں پر کوئی التجا۔ اس کی خاموشی میں اتنا طاقتور احتجاج تھا کہ وہ تمام چیخیں جنہیں کبھی آواز نہ مل سکی، اس کے سکوت میں گونج رہی تھیں۔
پھر ایک نہیں، نو گولیاں اس کے بدن میں اتاری گئیں۔
اس کے بعد زرک کودگنی سزا ملی۔
صرف اس جرم میں کہ انہوں نےاپنی مرضی سے شادی کی تھی۔
اور"غیرت" کے نام پر قتل کرنے والوں کو موت سے کم پر سکون نہیں ملتا۔ کیا یہی ہے غیرت ہے کیا یہی ہے روایت؟ہیں کیا یہی ہے انصاف؟ہے
ایک اور بیٹی کو غیرت" کے نام پرقتل کر دیا گیا۔
ایک اور جوڑے کی سانسوں کو وحشیانہ رسوم نے نگل لیا۔
اور پگڑیاں سنبھالنے والوں نے ایک بار پھرانسانی جان پر قبائلی روایت کو ترجیح دی۔ کب تک
بیٹیاں مرتی رہیں گی، غیرت کے ٹھیکیدار جیتتے رہیں گے؟کب تک خاموش رہیں گے؟ کب تک ان قتلِ عام کو رواج دیا جاتا رہے گا؟عورت کے نام پرقتل کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے یہ جنگلی معاشرے کی علامت ہے بنےپھرتے ہیں غیرت مند اور نہتی عورت ہر گولیاں چلانے کا جرم کرتےہیں ۔مہذب معاشرے کو اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
آخر میں قرآن کہتا ہے کہ
سورۃُ النِّساء میں یہ واضح طور پر لکھا ہوا ہے۔۔۔۔
"فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَن يَنكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ إِذَا تَرَاضَوْا بَيْنَهُم بِالْمَعْرُوفِ"
ترجمہ:
"پس تم اُن (عورتوں) کو نہ روکو کہ وہ اپنے شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ آپس میں معروف طریقے سے راضی ہو جائیں۔"
ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں ہے۔ اس عورت کو ہجوم کے بیچ کھڑا کر کے سر کے پیچھے گولی مار دی گئی۔ وہ خاموشی سے چلتی ہوئی اپنی موت کی جگہ تک پہنچی۔ نہ چیخی، نہ منت کی — جیسے وہ جان چکی ہو کہ اب زندگی کا دروازہ بند ہو چکا ہے۔ اس کا واحد جرم یہ تھا کہ اس نے اپنی پسند سے شادی کی۔
ہم یہ تماشا صرف افسوس کے ساتھ نہیں، شرمندگی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں۔
یہ "اسلامی جمہوریہ پاکستان" ہے — اور یہاں ہر قتل کا ذمہ ریاست پر ہوتا ہے۔ لیکن ریاست کہاں ہے؟ کوئی حکومتی نمائندہ، کوئی عدالت، کوئی ادارہ... کوئی ہے جو اس ظلم کا حساب دے؟ یا سب صرف ویڈیوز دیکھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں؟
اور وہ جرگہ؟ یقیناً وہ بھی دین کے نام لیوا ہوں گے۔ وہ بھی نمازیں پڑھتے ہوں گے، روزے رکھتے ہوں گے، اللہ رسول کا نام لیتے ہوں گے، اور محشر کے دن حساب کے قائل بھی ہوں گے۔ مگر سچ یہ ہے کہ اسلام ان کے قبائل میں داخل نہیں ہوا، بس نام کا ایک لیبل ہے۔ قرآن ہمیں یہی تو سکھاتا ہے:
"اعراب (بدو) کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے ہیں۔ ان سے کہو: تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم مسلمان ہو گئے ہیں۔ ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔"**
> (سورہ الحجرات: 14)
ہم اس ظلم کو صرف قبائلی رسم نہ کہیں، یہ ریاستی ناکامی ہے۔ یہ ہم سب کے منہ پر طمانچہ ہے۔
اور ہاں، جس نبی (ﷺ) کا ہم کلمہ پڑھتے ہیں، ان سے نکاح کا پیغام بی بی خدیجہؓ نے خود بھجوایا تھا — اپنی پسند سے۔ پھر بھی یہ کہنا کہ "پسند کی شادی جرم ہے" — سراسر جہالت ہے، ظلم ہے، گناہ ہے۔
سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ اس ظلم کے بھی کچھ حمایتی نکل آئیں گے — "اگر مگر چونکہ چنانچہ" کے ساتھ۔
ایسے میں بس ایک ہی بات دل میں اترتی ہے:رحمتِ سیدِ لولاک پہ کامل ایمان
اُمتِ سیدِ لولاک سے خوف آتا ہے
**کبھی افلاک سے نالوں کے جواب آتے تھے
اب عالمِ افلاک سے بھی خوف آتا ہے
السلام اے عاشق صادق
خواجہ غلام فرید سئیں آف کوٹ مٹھن فرماتے ہیں۔
عشق دی منزل دور توں دور اے متاں سمجھیں او ہے
بس محبت کا سر نہیں جھکنے دیا
عاشق نڈر ایویں ہوندن
سوشل میڈیا پر مرد و خاتون کے بہیمانہ قتل کی ایک دل دہلا دینے والی ویڈیو وائرل ہونے پر وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے واقعے کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات اور ملوث تمام ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے دیا ہے ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند کے مطابق وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر واقعے کی جامع تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ جائے وقوعہ کا تعین کرکے اس واقعے میں ملوث تمام افراد کو جلد از جلد گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے ترجمان کے مطابق وزیر اعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ایسی سفاکانہ حرکات نہ صرف ناقابل برداشت ہیں بلکہ یہ معاشرتی اقدار اور انسانی وقار کی سنگین توہین بھی ہیں انہوں نے واضح کیا کہ ریاست کی عملداری کو چیلنج کرنے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا اور کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ترجمان بلوچستان حکومت نے کہا کہ ویڈیو میں دکھائی گئی بربریت ہر سطح پر قابل مذمت ہے اور حکومت بلوچستان اس ظلم پر خاموش تماشائی نہیں بنے گی واقعے میں ملوث عناصر کو انصاف کے تقاضوں کے مطابق قرار واقعی سزا دلوانے کے لیے تمام قانونی ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے ترجمان نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ویڈیو میں موجود ملزمان کی شناخت میں مدد کریں اور واقعہ میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے اپنا ذمہ دارانہ معاشرتی کردار ادا کریں



Comments
Post a Comment