اوچشریف ۔تاریخی و روحانی مرکز
اُچ شریف: ایک تاریخی اور روحانی مرکز۔رجبی کے موقع پر خاندان بخاریہ کے سجادہ نشین نے ہزاروں افراد کو نوادرات کی زیارت کرائی
تحریر شیخ عزیز الرحمن
اُوچ شریف ضلع بہاولپور، کا ایک انتہائی قدیم اور روحانی مقام ہے، جسے “مدینۃ الاولیاء” یعنی اولیاء کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ یہ شہر بہاولپور سے تقریباً 73 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ہے اور پانچ دریاؤں کے سنگم ہیڈ پنجند کے قریب آباد ہے
قدیم تاریخ
اُوچ شریف کی تاریخ دو ہزار سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق مختلف نام رکھے گئے، جیسے ہودچ، ہوچ، دیوگڑھ اور پھر اُوچ۔
مختلف دور میں یہ اہم تجارتی، سیاسی اور ثقافتی مرکز رہا۔
اس خطے میں اسلام کی تعلیمات کا آغاز 980ء کے لگ بھگ ہوا جب مولانا صفی الدین غاذروئی نے اسلامی درسگاہ قائم کی۔
مغل، غزنوی اور دہلی سلطنت کے حکمرانی ادوار میں یہ شہر علمی و روحانی مرکز رہا۔
اُوچ شریف اور اولیائے کرام۔لازم اور ملزوم عمل ہے
اُوچ شریف صوفی ازم اور روحانیت کا اہم مرکز رہا ہے۔ یہاں ہزاروں اولیاء کرام نے اسلام کی خدمت کی اور روحانی رہبری عطا کی۔مشہور صوفی بزرگ
1. سید جلال الدین سرخ پوش بخاری
معروف بزرگ صوفی، جن کے مزار کی عمارت 13ویں صدی میں تعمیر ہوئی۔
ان کا مزار اُوچ شریف میں انتہائی قابلِ احترام مقام رکھتا ہے۔
2. حضرت بہاءالحلیم
ان کا مزار اُوچ شریف میں قدیم ترین جسمانی ڈھانچوں میں سے ایک ہے اور یہ بھی عالمی اہمیت کے حامل مقامات میں شامل ہے۔
3. بی بی جیوندی
سیدی جلال الدین بخاری کی اولاد میں سے عظیم صوفیہ بی بی جیوندی کا مزار 15ویں صدی میں تعمیر ہوا۔
4. مخدوم جہانیاں جہاں گشت
صوفی سلسلے کے بلند مرتبہ بزرگ، جن کے مزار کو بھی وسیع احترام حاصل ہے
یہ تمام مزارات اُوچ شریف کو “شہرتِ اولیاء” یعنی بزرگانِ دین کا شہر بناتے ہیں، جہاں لاکھوں زائرین ہر سال حاضری دیتے ہیں۔ تاریخی مزارات اور آثار
اُچ شریف کے مقابر اور مزارات نہ صرف روحانی اہمیت رکھتے ہیں بلکہ فنِ تعمیر اور تاریخی آرکیٹیکچر کے شاہکار بھی ہیں: 1 مزارِ جلال الدین سرخ پوش بخاری
صوفی بزرگ کا مزار، جو قدیم تعمیراتی اصولوں کے مطابق بنایا گیا ہے۔ 2. مزارِ بہاءالحلیم
ابتدائی عظیم مزاروں میں سے ایک، جو اپنے منفرد نمونے کی ٹائل ورک اور ساخت کے لیے مشہور ہے۔ 3. مزارِ بی بی جیوندی
خوبصورت نارنجی اور نیلے ٹائل کے ساتھ تعمیر شدہ، اور یو نیس کو کی عالمی ورثہ کی ممکنہ فہرست میں شامل ہے۔
یہ تینوں مقامات اُچ شریف میں موجود یونیسکو کی عالمی ورثہ کے ممکنہ مقامات میں شامل ہیں، جو اس شہر کی تاریخی اہمیت کو عالمی سطح پر تسلیم کرتے ہیں۔ رسم و روایات کے حوالے سے بھی اور شریف کی ایک منفرد پہچان ہے ملک بھر کے بڑے بڑے درباروں کے سجادہ نشین اور صوفیا کرام یہاں تشریف لاتے ہیں
ہر صاحبِ مزار کے عرس (یعنی وفات کی یاد میں منایا جانے والا روایتی جشن) کو عقیدت کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ زائرین چادر چڑھاتے، دعا کرتے اور سلسلہ ٔسلوک سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ روحانی میلاد اور محافل
مزارات پر محافلِ نعت، قوالی اور دیگر روحانی اجتماعات ہوتے ہیں، جہاں لوگ روحانی موسیقی، ذکر و اذکار کے ذریعے سکونِ قلب تلاش کرتے ہیں۔ عقیدت و زیارت کا طریقہ بھی اوردیگر علاقوں سے جدا کرتا ہےاوچ شریف کو
زائرین روایتی انداز میں چادر، پھول، اور صلوٰۃ و درود پیش کرتے ہیں، اور روحانی فیض حاصل کرنے کے لیے دعا اور مناجات کرتے ہیں۔
موجودہ حالت اور تحفظ
گزشتہ کچھ سالوں میں اُچ شریف کے تاریخی مزارات کی تزئین و آرائش اور بحالی کے منصوبے شروع کیے گئے ہیں، جن پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں تاکہ زائرین کے لیے بہتر سہولیات فراہم کی جائیں اور تاریخی ورثہ محفوظ رہے۔بہت سارے مزارات پر سالانہ عرس اور شریف کے تاریخی میلے کے علاوہ رجب کے مہینے میں دربار عالیہ حضرت جلال الدین بخاری سرخ پوش رحمت اللہ علیہ کے سجادہ نشیں ان کے اباؤ اجداد سے انے والے نوادرات کی زیارت کراتے ہیں امسال بھی سجادہ نشین مخدوم سید زمرد بخاری نے بنگلہ بخاری اور شریف میں ہزاروں افراد اور زائرین کو نوادرات کی زیارت کرائی جس میں نبی اخر الزماں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی دستار مبارک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رومال مبارک حضرت پنج تن پاک کی چادر مبارک حضرت سیدہ فاطمہ سلام اللہ عنہ کی ردائے مبارک حضرت امام حسن کی تلوار سم سمام اور حضرت امام حسین کی تلوار قمقمام حضرت سلیمان فارسی کی چادر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمت اللہ علیہ کی تسبیح ٹوپی اور قینچی حضرت مخدوم جہانیہ جہاں گشت کے دست مبارک سے لکھا ہوا خط غبار میں قیمتی قران پاک کا نسخہ حضرت اویس کرنی کا دانت مبارک اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی کا جبہ ہرن کی کھال پر لکھا گیا قران پاک شامل ہے جس کو عوام کی زیارت کے لیے سالانہ بنیادوں پر رجبی کے موقع پر دکھایا جاتا ہے
قدیم شہر اور روحانیت کا مرکز۔اوچ شریف رہا ہے
صوفی ازم اور اولیاء کرام کی تعلیمات کا گہوارہ۔رہا ہے
مشہور مزارات اور فنِ تعمیر کے شاہکارھے
ثقافتی اور مذہبی رسومات جیسے عرس اور زیارت کا مقام۔
حکومت اور عوام کی کوششیں تاریخی ورثہ کو محفوظ بنانے میں جاری۔ہیں مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کو مزید اعلی سطحی بنیادوں پر یہاں کی قدیمی تاریخ پر کام کیا جائے اور یہاں پر حضرت جلال الدین بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے ایک مذہبی اسلامی یونیورسٹی
کا قیام کیا جائے
ا





Comments
Post a Comment