میڈیا کلب سماجی اور صحافتی خدمات کا مشعل بردار

ٓاحمد پور شرقیہ میڈیا کلب :سماجی اور صحافتی خدمات کا مشعل بردار

تحریر: محمد اقبال عباسی 


صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، لیکن یہ ستون اسی وقت مضبوط ہوتا ہے جب مقامی سطح پر کام کرنے والے صحافی ایمانداری اور دیانتداری سے اپنے فرائض سرانجام دیں۔ اگر ہم جنوبی پنجاب کے تاریخی اور تہذیبی شہر احمدپور شرقیہ کی بات کریں، تو وہاں "میڈیا کلب احمدپور شرقیہ" نے صحافت کو محض خبروں کی ترسیل تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عوامی خدمت اور علاقائی ترقی کا ذریعہ بنایا ہے۔احمدپور شرقیہ، جو کہ نوابوں کا شہر ہے اور اپنی تاریخی اہمیت ( صادق گڑھ پیلس اور قلعہ ڈیراور) کی وجہ سے جانا جاتا ہے، اپنے دامن میں بہت سے مسائل بھی سموئے ہوئے ہے۔ ان مسائل کو ایوانِ اقتدار تک پہنچانے میں میڈیا کلب کا کردار کلیدی رہا ہے۔میڈیا کلب احمدپور شرقیہ کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس نے عام آدمی کی آواز کو دبنے نہیں دیا۔ چاہے وہ ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ادویات کی کمی کا معاملہ ہو، شہر میں سیوریج کے دیرینہ مسائل ہوں، یا ٹوٹی ہوئی سڑکوں کا نوحہ، میڈیا کلب کے ممبران نے ہمیشہ ہراول دستے کا کردار ادا کیا ہے۔ ان کی نشاندہی کی بدولت ضلعی انتظامیہ اور منتخب نمائندوں کو کئی بار ہنگامی بنیادوں پر ایکشن لینا پڑا۔

کسی بھی علاقے کی ترقی کا پہیہ اس وقت تک تیز نہیں گھوم سکتا جب تک وہاں کا میڈیا بیدار اور باضمیر نہ ہو۔ احمد پور شرقیہ، جو اپنی نوابی شان و شوکت اور تاریخی ورثے کی وجہ سے پوری دنیا میں ایک الگ پہچان رکھتا ہے، آج اپنی صحافتی اقدار اور سماجی خدمت کے حوالے سے بھی سر فہرست ہے۔ اس شہر کی توانا آواز "میڈیا کلب احمد پور شرقیہ" ہے، جس نے ہمیشہ زرد صحافت کے بجائے "تعمیری صحافت" کو اپنا شعار بنایا۔میڈیا کلب احمد پور شرقیہ کے صحافیوں نے ہمیشہ اپنی قلمی طاقت کو مظلوم کی حمایت اور ظالم کے احتساب کے لیے استعمال کیا۔ شہر کے گلی محلوں کے مسائل ہوں، پینے کے صاف پانی کی عدم دستیابی ہو یا تعلیمی اداروں کی حالتِ زار، اس کلب کے ارکان نے ہمیشہ حق اور سچ کا علم بلند کیا۔ مقامی انتظامیہ اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہوئے اس کلب نے ثابت کیا کہ صحافت محض خبر تک محدود نہیں، بلکہ یہ تبدیلی کا ایک مو¿ثر ذریعہ ہے۔اگر ہم احمد پور شرقیہ میں صحت کی سہولیات کا ذکر کریں تو سرکاری ہسپتالوں کے ساتھ ساتھ نجی شعبے کا تعاون بھی قابلِ ستائش رہا ہے۔ خصوصاً "دیوان کلینک" نے جس طرح دکھی انسانیت کی خدمت کا بیڑا اٹھایا ہے، وہ دیگر طبی مراکز کے لیے ایک مشعلِ راہ ہے۔میڈیا کلب احمد پور شرقیہ نے ہمیشہ ان مثبت کوششوں کو سراہا ہے جو عام آدمی کی زندگی میں آسانی لاتی ہیں۔ دیوان کلینک کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والے "فری میڈیکل کیمپس" اس کی واضح مثال ہیں۔ ان کیمپس کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں مستحق مریضوں کا علاج مفت کیا جاتا ہے،معیاری ادویات کی فراہمی کو یقینی بنایا جاتا ہے اورماہر ڈاکٹرز کی زیرِ نگرانی پیچیدہ امراض کی تشخیص کی جاتی ہے۔میڈیا کلب نے ان فلاحی اقدامات کو عوام تک پہنچانے اور آگاہی فراہم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جس سے ہزاروں لوگ مستفید ہوئے۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب قلم اور مسیحائی (طب) ایک پیج پر آ جائیں تو معاشرے سے مایوسی کا خاتمہ ہوتا ہے۔ میڈیا کلب احمد پور شرقیہ اور دیوان کلینک کا یہ غیر اعلانیہ اشتراک دراصل شہر کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے ایک بڑی ڈھال ہے۔ ایک طرف میڈیا کلب انتظامیہ کو صحت کے مسائل پر متوجہ کرتا ہے، تو دوسری طرف دیوان کلینک جیسے ادارے عملی طور پر میدان میں اتر کر لوگوں کے زخموں پر مرہم رکھتے ہیں۔

احمدپور شرقیہ کی پہچان اس کا شاندار تاریخی ورثہ ہے۔ میڈیا کلب نے صادق گڑھ پیلس، دراوڑ فورٹ اور دیگر تاریخی مقامات کی خستہ حالی کو قومی سطح پر اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ثقافتی میلوں اور ایونٹس کی بھرپور کوریج کا سہرا بھی میڈیا کلب کے صحافیوں کے سر ہے۔ یہ میڈیا کلب کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد اس خطے کا رخ کرتی ہے، جس سے مقامی معیشت کو فائدہ ہوتا ہے۔میڈیا کلب نے ہمیشہ انتظامیہ اور عوام کے درمیان ایک پل (Bridge) کا کردار ادا کیا ہے۔ جہاں انتظامیہ کی اچھی کارکردگی کو سراہا گیا، وہیں غفلت برتنے پر "آئینہ" بھی دکھایا گیا۔ پریس کانفرنسز اور سیمینارز کے ذریعے افسران کو عوامی عدالت میں جوابدہ بنانے کی روایت میڈیا کلب کی مرہونِ منت ہے۔

ایک مضبوط ادارہ وہی ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کا خیال رکھے۔ میڈیا کلب احمدپور شرقیہ نے نہ صرف صحافیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا ہے بلکہ ان کی فلاح و بہبود، ٹریننگ اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے بھی کوشاں رہا ہے۔ مقامی صحافیوں کو اخلاقیات کا درس دینا اور زرد صحافت (Yellow Journalism) کی حوصلہ شکنی کرنا اس کلب کا طرہ امتیاز ہے۔سیلاب ہو، کورونا جیسی وبا ہو یا کوئی اور قدرتی آفت، میڈیا کلب احمدپور شرقیہ نے ہمیشہ سماجی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کیا ہے۔ انہوں نے نہ صرف متاثرین کی آواز بلند کی بلکہ امدادی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جو کہ روایتی صحافت سے ہٹ کر ایک انسانی خدمت ہے۔

 میڈیا کلب کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ اپنے علاقے کی صحافتی برادری کی فلاح و بہبود کے لئے مختصر عرصے میں ہی اتنے کارہائے نمایاں سر انجام دئیے ہیں جن کی مثال نہیں ملتی خاص طور پرپنجاب بھر میں میڈیا کلب ہی واحد صحافتی تنظیم ہے جس نے اپنے صحافی بھائیوں کے لئے چغتائی لیب(پاکستان) کے ساتھ MOUسائن کیا ہے جس کے تحت لیب میں ہونے والے تمام میڈیکل ٹسٹس رپورٹس پر نمایاں رعایت دی جاتی ہے۔مقامی صحافیوں کو مفت قانونی مشاورت کی فراہمی کے لئے پہلی دفعہ احمد پور شرقیہ بار ایسوسی ایشن کے ساتھ بھی معاہدہ پر دستخط کئے گئے ۔ جس میں اگر کسی میڈیا پرسن پر کسی قسم کے عدالتی کیس کے تمام تر اخراجات بار ایسوسی ایشن برداشت کرے گا۔ صحافی بھائیوں کی تربیت کے لئے مختلف تربیتی ورکشاپس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں کارہائے نمایاں سر انجام دینے والے افراد کو ایوارڈز کی تقسیم بھی اراکین میڈیا کلب پیش پیش رہتے ہیں۔ گزشتہ تین سالوں کے دوران میڈیا کلب ، پنجاب کی سب سے بڑی تحصیل احمد پور شرقیہ کو ضلع کا درجہ دلوانے کی بھی بھر پور کوشش کرتا آ رہا ہے اس سلسلے میں میٹ دی پریس ، آل پارٹیز کانفرنسز اور پرامن احتجاجی جلسے جلوسوں میں نمایاں کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بھر پور کوریج بھی میڈیا کلب کا طرہ امتیاز رہا ہے ۔ گزشتہ تین سال کوے دوران اس کلب نے "سرسبز ماحول دوست"پروگرام کے تحت احمد پور شرقیہ میں کم از کم 1500پودے لگائے ہیں اور کافی عرصہ تک اس کی دیکھ بھال کی ذمہ داری بھی اٹھائی ہے اس کے بعد یہ پودا جات میونسپل کارپوریشن کی تحویل میں دے دئے گئے ہیں۔ آج کے دور میں جب سوشل میڈیا کے شور میں سچ کو تلاش کرنا مشکل ہو چکا ہے، میڈیا کلب احمدپور شرقیہ ذمہ دارانہ صحافت کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ یہ ادارہ شہر کی آنکھ اور کان ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس کلب کو مزید مضبوط کیا جائے تاکہ احمدپور شرقیہ کے حقوق کی جنگ مزید مو¿ثر انداز میں لڑی جا سکے۔میڈیا کلب احمدپور شرقیہ کی تمام کابینہ اور ممبران خراجِ تحسین کے مستحق ہیں جو محدود وسائل کے باوجود اپنے قلم کے ذریعے روشنی پھیلا رہے ہیں۔

 


   ٭٭٭٭ 

Comments

Popular posts from this blog

چھوٹا گوشت

آہ ! چوہدری محمد اشرف مرحوم

انسانیت سے پیار کرنے والا مخدوم علی حسن گیلانی شہید